TSK

TSK · خروج 3:2

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ رب کے فرشتے کو ہاجرہ ریگستان کے اُس چشمے کے قریب ملی جو شُور کے راستے پر ہے۔

جس فرشتے نے عوضانہ دے کر مجھے ہر نقصان سے بچایا ہے وہ اِنہیں برکت دے۔ اللہ کرے کہ اِن میں میرا نام اور میرے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق کے نام جیتے رہیں۔ دنیا میں اِن کی اولاد کی تعداد بہت بڑھ جائے۔“

¶ اب جا اور اسرائیل کے بزرگوں کو جمع کر کے اُن کو بتا دے کہ رب تمہارے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا خدا مجھ پر ظاہر ہوا ہے۔ وہ فرماتا ہے، ’مَیں نے خوب دیکھ لیا ہے کہ مصر میں تمہارے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔

¶ زمین کے تمام ذخیرے اُس کے لئے کھل جائیں۔ وہ اُس کو پسند ہو جو جلتی ہوئی جھاڑی میں سکونت کرتا تھا۔ یہ تمام برکتیں یوسف کے سر پر ٹھہریں، اُس کے سر پر جو اپنے بھائیوں میں شہزادہ ہے۔

پانی کی گہرائیوں میں سے گزرتے وقت مَیں تیرے ساتھ ہوں گا، دریاؤں کو پار کرتے وقت تُو نہیں ڈوبے گا۔ آگ میں سے گزرتے وقت نہ تُو جُھلس جائے گا، نہ شعلوں سے بھسم ہو جائے گا۔

وہ اُن کی تمام مصیبت میں شریک ہوا، اور اُس کے حضور کے فرشتے نے اُنہیں چھٹکارا دیا۔ وہ اُنہیں پیار کرتا، اُن پر ترس کھاتا تھا، اِس لئے اُس نے عوضانہ دے کر اُنہیں چھڑایا۔ ہاں، قدیم زمانے سے آج تک وہ اُنہیں اُٹھائے پھرتا رہا۔

بلکہ فرشتے سے لڑتے لڑتے اُس پر غالب آیا۔ پھر اُس نے روتے روتے اُس سے التجا کی کہ مجھ پر رحم کر۔ بعد میں یعقوب نے اللہ کو بیت ایل میں پایا، اور وہاں خدا اُس سے ہم کلام ہوا۔

¶ رب الافواج جواب میں فرماتا ہے، ”دیکھ، مَیں اپنے پیغمبر کو بھیج دیتا ہوں جو میرے آگے آگے چل کر میرا راستہ تیار کرے گا۔ تب جس رب کو تم تلاش کر رہے ہو وہ اچانک اپنے گھر میں آ موجود ہو گا۔ ہاں، عہد کا پیغمبر جس کی تم شدت سے آرزو کرتے ہو وہ آنے والا ہے!“

اور یہ بات کہ مُردے جی اُٹھیں گے موسیٰ سے بھی ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ جب وہ کانٹےدار جھاڑی کے پاس آیا تو اُس نے رب کو یہ نام دیا، ’ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا،‘ حالانکہ اُس وقت تینوں بہت پہلے مر چکے تھے۔ اِس کا مطلب ہے کہ یہ حقیقت میں زندہ ہیں۔

¶ چالیس سال کے بعد ایک فرشتہ جلتی ہوئی کانٹےدار جھاڑی کے شعلے میں اُس پر ظاہر ہوا۔ اُس وقت موسیٰ سینا پہاڑ کے قریب ریگستان میں تھا۔

¶ بھائیو، ہم آپ کو اُس مصیبت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں جس میں ہم صوبہ آسیہ میں پھنس گئے۔ ہم پر دباؤ اِتنا شدید تھا کہ اُسے برداشت کرنا ناممکن سا ہو گیا اور ہم جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔