TSK

TSK · پَیدایش 2:17

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ سانپ زمین پر چلنے پھرنے والے اُن تمام جانوروں سے زیادہ چالاک تھا جن کو رب خدا نے بنایا تھا۔ اُس نے عورت سے پوچھا، ”کیا اللہ نے واقعی کہا کہ باغ کے کسی بھی درخت کا پھل نہ کھانا؟“

اُس نے پوچھا، ”کس نے تجھے بتایا کہ تُو ننگا ہے؟ کیا تُو نے اُس درخت کا پھل کھایا ہے جسے کھانے سے مَیں نے منع کیا تھا؟“

پسینہ بہا بہا کر تجھے روٹی کمانے کے لئے بھاگ دوڑ کرنی پڑے گی۔ اور یہ سلسلہ موت تک جاری رہے گا۔ تُو محنت کرتے کرتے دوبارہ زمین میں لوٹ جائے گا، کیونکہ تُو اُسی سے لیا گیا ہے۔ تُو خاک ہے اور دوبارہ خاک میں مل جائے گا۔“

رب نے کہا تھا کہ وہ سب کے سب ریگستان میں مر جائیں گے، اور ایسا ہی ہوا تھا۔ صرف کالب بن یفُنّہ اور یشوع بن نون زندہ رہے۔

¶ دیکھ، آج مَیں تجھے دو راستے پیش کرتا ہوں۔ ایک زندگی اور خوش حالی کی طرف لے جاتا ہے جبکہ دوسرا موت اور ہلاکت کی طرف۔

نیز، وہ نئی نسل کو جنگ کرنا سکھانا چاہتا تھا، کیونکہ وہ جنگ کرنے سے ناواقف تھی۔ ذیل کی قومیں کنعان میں رہ گئی تھیں:

ساؤل نے کہا، ”یونتن، اللہ مجھے سخت سزا دے اگر مَیں آپ کو اِس کے لئے سزائے موت نہ دوں۔“

¶ لیکن بادشاہ بولا، ”اخی مَلِک، تجھے اور تیرے باپ کے پورے خاندان کو مرنا ہے۔“

تب اُس نے اُسے بُلا کر پوچھا، ”کیا مَیں نے آپ کو آگاہ کر کے نہیں کہا تھا کہ یقین جانیں کہ جوں ہی آپ یروشلم سے نکلیں گے آپ کو مار دیا جائے گا، خواہ آپ کہیں بھی جانا چاہیں۔ اور کیا آپ نے جواب میں رب کی قَسم کھا کر نہیں کہا تھا، ’ٹھیک ہے، مَیں ایسا ہی کروں گا؟‘

¶ مَیں تیرے ذریعے بےدین کو اطلاع دوں گا کہ اُسے مرنا ہی ہے تاکہ وہ اپنی بُری راہ سے ہٹ کر بچ جائے۔ اگر تُو اُسے یہ پیغام نہ پہنچائے، نہ اُسے تنبیہ کرے اور وہ اپنے قصور کے باعث مر جائے تو مَیں تجھے ہی اُس کی موت کا ذمہ دار ٹھہراؤں گا۔

وہ سود بھی لیتا ہے۔ کیا ایسا آدمی زندہ رہے گا؟ ہرگز نہیں! اِن تمام مکروہ حرکتوں کی بنا پر اُسے سزائے موت دی جائے گی۔ وہ خود اپنے گناہوں کا ذمہ دار ٹھہرے گا۔

اگر مَیں کسی بےدین کو بتانا چاہوں، ’تُو یقیناً مرے گا‘ تو لازم ہے کہ تُو اُسے یہ سنا کر اُس کی غلط راہ سے آگاہ کرے۔ اگر تُو ایسا نہ کرے تو گو بےدین اپنے گناہوں کے باعث ہی مرے گا تاہم مَیں تجھے ہی اُس کی موت کا ذمہ دار ٹھہراؤں گا۔

اگرچہ وہ اللہ کا فرمان جانتے ہیں کہ ایسا کرنے والے سزائے موت کے مستحق ہیں توبھی وہ ایسا کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ایسا کرنے والے دیگر لوگوں کو شاباش بھی دیتے ہیں۔

کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جب آپ اپنے آپ کو کسی کے تابع کر کے اُس کے غلام بن جاتے ہیں تو آپ اُس مالک کے غلام ہیں جس کے تابع آپ ہیں؟ یا تو گناہ آپ کا مالک بن کر آپ کو موت تک لے جائے گا، یا فرماں برداری آپ کی مالکن بن کر آپ کو راست بازی تک لے جائے گی۔

اور مَیں مر گیا۔ اِس طرح معلوم ہوا کہ جس حکم کا مقصد میری زندگی کو قائم رکھنا تھا وہی میری موت کا باعث بن گیا۔

جس طرح سب اِس لئے مرتے ہیں کہ وہ آدم کے فرزند ہیں اُسی طرح سب زندہ کئے جائیں گے جو مسیح کے ہیں۔

¶ لیکن جو بھی اِس پر تکیہ کرتے ہیں کہ ہمیں شریعت کی پیروی کرنے سے راست باز قرار دیا جائے گا اُن پر اللہ کی لعنت ہے۔ کیونکہ کلامِ مُقدّس فرماتا ہے، ”ہر ایک پر لعنت جو شریعت کی کتاب کی تمام باتیں قائم نہ رکھے، نہ اِن پر عمل کرے۔“

کیونکہ جو روشنی میں لایا جاتا ہے وہ روشن ہو جاتا ہے۔ اِس لئے کہا جاتا ہے، ”اے سونے والے، جاگ اُٹھ! مُردوں میں سے جی اُٹھ، تو مسیح تجھ پر چمکے گا۔“

لیکن جو بیوہ عیش و عشرت میں زندگی گزارتی ہے وہ زندہ حالت میں ہی مُردہ ہے۔

¶ اگر کوئی اپنے بھائی کو ایسا گناہ کرتے دیکھے جس کا انجام موت نہ ہو تو وہ دعا کرے، اور اللہ اُسے زندگی عطا کرے گا۔ مَیں اُن گناہوں کی بات کر رہا ہوں جن کا انجام موت نہیں۔ لیکن ایک ایسا گناہ بھی ہے جس کا انجام موت ہے۔ مَیں نہیں کہہ رہا کہ ایسے شخص کے لئے دعا کی جائے جس سے ایسا گناہ سرزد ہوا ہو۔

مبارک اور مُقدّس ہیں وہ جو اِس پہلی قیامت میں شریک ہیں۔ اِن پر دوسری موت کا کوئی اختیار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور مسیح کے امام ہو کر ہزار سال تک اُس کے ساتھ حکومت کریں گے۔

لیکن بزدلوں، غیرایمان داروں، گھنونوں، قاتلوں، زناکاروں، جادوگروں، بُت پرستوں اور تمام جھوٹے لوگوں کا انجام جلتی ہوئی گندھک کی شعلہ خیز جھیل ہے۔ یہ دوسری موت ہے۔“