پھر رب نے کہا، ”میری روح ہمیشہ کے لئے انسان میں نہ رہے کیونکہ وہ فانی مخلوق ہے۔ اب سے وہ 120 سال سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا۔“
TSK
TSK · پَیدایش 7:4
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ تب اللہ نے نوح سے کہا، ”مَیں نے تمام جانداروں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اُن کے سبب سے پوری دنیا ظلم و تشدد سے بھر گئی ہے۔ چنانچہ مَیں اُن کو زمین سمیت تباہ کر دوں گا۔
ایک ہفتے کے بعد طوفانی سیلاب زمین پر آ گیا۔
¶ چالیس دن تک طوفانی سیلاب جاری رہا۔ پانی چڑھا تو اُس نے کشتی کو زمین پر سے اُٹھا لیا۔
¶ اُس نے ایک ہفتہ اَور انتظار کر کے کبوتر کو دوبارہ چھوڑ دیا۔
ایک ہفتے کے بعد شادی کی رسومات پوری ہو جائیں گی۔ اُس وقت تک صبر کریں۔ پھر مَیں آپ کو راخل بھی دے دوں گا۔ شرط یہ ہے کہ آپ مزید سات سال میرے لئے کام کریں۔“
وہ تو اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہی سکڑ گئے، اُن کی بنیادیں سیلاب سے ہی اُڑا لی گئیں۔
کیونکہ وہ پانی کے قطرے اوپر کھینچ کر دُھند سے بارش نکال لیتا ہے،
¶ اُنہیں کتابِ حیات سے مٹایا جائے، اُن کا نام راست بازوں کی فہرست میں درج نہ ہو۔
جو غالب آئے گا وہ بھی اُن کی طرح سفید کپڑے پہنے ہوئے پھرے گا۔ مَیں اُس کا نام کتابِ حیات سے نہیں مٹاؤں گا بلکہ اپنے باپ اور اُس کے فرشتوں کے سامنے اقرار کروں گا کہ یہ میرا ہے۔