خراج کے طور پر اُسے فلستیوں سے ہدیئے اور چاندی ملتی تھی، جبکہ عرب اُسے 7,700 مینڈھے اور 7,700 بکرے دیا کرتے تھے۔
TSK
TSK · یسعیاہ 13:20
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
بابل خارپُشت کا مسکن اور دلدل کا علاقہ بن جائے گا، کیونکہ مَیں خود اُس میں تباہی کا جھاڑو پھیر دوں گا۔“ یہ رب الافواج کا فرمان ہے۔
جس کی آگ نہ دن اور نہ رات بجھے گی بلکہ ہمیشہ تک دھواں چھوڑتی رہے گی۔ ملک نسل در نسل ویران و سنسان رہے گا، یہاں تک کہ مسافر بھی ہمیشہ تک اُس میں سے گزرنے سے گریز کریں گے۔
کیونکہ شمال سے ایک قوم بابل پر چڑھ آئی ہے جو پورے ملک کو برباد کر دے گی۔ انسان اور حیوان سب ہجرت کر جائیں گے، ملک میں کوئی نہیں رہے گا۔“
¶ رب فرماتا ہے، ”ملکِ مراتائم اور فقود کے باشندوں پر حملہ کرو! اُنہیں مارتے مارتے صفحۂ ہستی سے مٹا دو! جو بھی حکم مَیں نے دیا اُس پر عمل کرو۔
چنانچہ بابل پر رب کا فیصلہ سنو، ملکِ بابل کے لئے اُس کے منصوبے پر دھیان دو! ”دشمن پورے ریوڑ کو سب سے ننھے بچوں سے لے کر بڑوں تک گھسیٹ کر لے جائے گا۔ اُس کی چراگاہ ویران و سنسان ہو جائے گی۔
زمین لرزتی اور تھرتھراتی ہے، کیونکہ رب کا منصوبہ اٹل ہے، وہ ملکِ بابل کو یوں تباہ کرنا چاہتا ہے کہ آئندہ اُس میں کوئی نہ رہے۔
اُس کے شہر ریگستان بن گئے ہیں، اب چاروں طرف خشک اور ویران بیابان ہی نظر آتا ہے۔ نہ کوئی اُس میں رہتا، نہ اُس میں سے گزرتا ہے۔
¶ پھر ایک طاقت ور فرشتے نے بڑی چکّی کے پاٹ کی مانند ایک بڑے پتھر کو اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ اُس نے کہا، ”عظیم شہر بابل کو اِتنی ہی زبردستی سے پٹک دیا جائے گا۔ بعد میں اُسے کہیں نہیں پایا جائے گا۔