چونکہ اسرائیلی میرے خادم ہیں جنہیں مَیں مصر سے نکال لایا اِس لئے اُنہیں غلامی میں نہ بیچا جائے۔
TSK
TSK · یسعیاہ 41:8
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
توبھی اُس نے تیرے باپ دادا پر ہی اپنی خاص شفقت کا اظہار کر کے اُن سے محبت کی۔ اور اُس نے تمہیں چن کر دوسری تمام قوموں پر ترجیح دی جیسا کہ آج ظاہر ہے۔
¶ تم جو اُس کے خادم اسرائیل کی اولاد اور یعقوب کے فرزند ہو، جو اُس کے برگزیدہ لوگ ہو، تمہیں سب کچھ یاد رہے!
¶ مبارک ہے وہ قوم جس کا خدا رب ہے، وہ قوم جسے اُس نے چن کر اپنی میراث بنا لیا ہے۔
¶ کیونکہ اُس نے اُس مُقدّس وعدے کا خیال رکھا جو اُس نے اپنے خادم ابراہیم سے کیا تھا۔
¶ جس نے اُن کا ملک اسرائیل کو میراث میں دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
¶ چنانچہ رب جس نے پہلے ابراہیم کا بھی فدیہ دے کر اُسے چھڑایا تھا یعقوب کے گھرانے سے فرماتا ہے، ”اب سے یعقوب شرمندہ نہیں ہو گا، اب سے اسرائیلیوں کا رنگ فق نہیں پڑ جائے گا۔
لیکن رب فرماتا ہے، ”اے اسرائیلی قوم، تم ہی میرے گواہ ہو، تم ہی میرے خادم ہو جسے مَیں نے چن لیا تاکہ تم جان لو، مجھ پر ایمان لاؤ اور پہچان لو کہ مَیں ہی ہوں۔ نہ مجھ سے پہلے کوئی خدا وجود میں آیا، نہ میرے بعد کوئی آئے گا۔
¶ ”اے یعقوب کی اولاد، اے اسرائیل، یاد رکھ کہ تُو میرا خادم ہے۔ مَیں نے تجھے تشکیل دیا، تُو میرا ہی خادم ہے۔ اے اسرائیل، مَیں تجھے کبھی نہیں بھولوں گا۔
¶ اے یعقوب کی اولاد، میری سن! اے میرے برگزیدہ اسرائیل، دھیان دے! مَیں ہی وہی ہوں۔ مَیں ہی اوّل و آخر ہوں۔
یعنی اپنے باپ ابراہیم اور اپنی ماں سارہ پر توجہ دو، جس نے دردِ زہ کی تکلیف اُٹھا کر تمہیں جنم دیا۔ ابراہیم بےاولاد تھا جب مَیں نے اُسے بُلایا، لیکن پھر مَیں نے اُسے برکت دے کر بہت اولاد بخشی۔“
”کیا تجھے لوگوں کی باتیں معلوم نہیں ہوئیں؟ یہ کہہ رہے ہیں، ’گو رب نے اسرائیل اور یہوداہ کو چن کر اپنی قوم بنا لیا تھا، لیکن اب اُس نے دونوں کو رد کر دیا ہے۔‘ یوں وہ میری قوم کو حقیر جانتے ہیں بلکہ اِسے اب سے قوم ہی نہیں سمجھتے۔“
¶ اُنہوں نے اعتراض کیا، ”ہم تو ابراہیم کی اولاد ہیں، ہم کبھی بھی کسی کے غلام نہیں رہے۔ پھر آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم آزاد ہو جائیں گے؟“
ساتھ ہی وہ ختنہ کرانے والوں کا باپ بھی ہے، لیکن اُن کا جن کا نہ صرف ختنہ ہوا ہے بلکہ جو ہمارے باپ ابراہیم کے اُس ایمان کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں جو وہ ختنہ کرانے سے پیشتر رکھتا تھا۔
¶ تو پھر شریعت کا کیا مقصد تھا؟ اُسے اِس لئے وعدے کے علاوہ دیا گیا تاکہ لوگوں کے گناہوں کو ظاہر کرے۔ اور اُسے اُس وقت تک قائم رہنا تھا جب تک ابراہیم کی وہ اولاد نہ آ جاتی جس سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اللہ نے اپنی شریعت فرشتوں کے وسیلے سے موسیٰ کو دے دی جو اللہ اور لوگوں کے بیچ میں درمیانی رہا۔
اور اِس طرح ہی کلامِ مُقدّس کی یہ بات پوری ہوئی، ”ابراہیم نے اللہ پر بھروسا رکھا۔ اِس بنا پر اللہ نے اُسے راست باز قرار دیا۔“ اِسی وجہ سے وہ ”اللہ کا دوست“ کہلایا۔