¶ لیکن مَیں کیڑا ہوں، مجھے انسان نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ میری بےعزتی کرتے، مجھے حقیر جانتے ہیں۔
TSK
TSK · یسعیاہ 49:7
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ مصر سے سفیر آئیں گے، ایتھوپیا اپنے ہاتھ اللہ کی طرف اُٹھائے گا۔
¶ تُو میری رُسوائی، میری شرمندگی اور تذلیل سے واقف ہے۔ تیری آنکھیں میرے تمام دشمنوں پر لگی رہتی ہیں۔
¶ تمام بادشاہ اُسے سجدہ کریں، سب اقوام اُس کی خدمت کریں۔
¶ یہ کسی قدیم زمانے میں وجود میں نہیں آئیں بلکہ ابھی ابھی آج ہی تیرے علم میں آئی ہیں۔ کیونکہ مَیں نہیں چاہتا تھا کہ تُو کہے، ’مجھے پہلے سے اِس کا علم تھا۔‘
¶ اے جزیرو، سنو! اے دُوردراز قومو، دھیان دو! رب نے مجھے پیدائش سے پہلے ہی بُلایا، میری ماں کے پیٹ سے ہی میرے نام کو یاد کرتا آیا ہے۔
مَیں نے مارنے والوں کو اپنی پیٹھ اور بال نوچنے والوں کو اپنے گال پیش کئے۔ مَیں نے اپنا چہرہ اُن کی گالیوں اور تھوک سے نہ چھپایا۔
اُسے حقیر اور مردود سمجھا جاتا تھا۔ دُکھ اور بیماریاں اُس کی ساتھی رہیں، اور لوگ یہاں تک اُس کی تحقیر کرتے تھے کہ اُسے دیکھ کر اپنا منہ پھیر لیتے تھے۔ ہم اُس کی کچھ قدر نہیں کرتے تھے۔
¶ پردیسی تیری دیواریں از سرِ نو تعمیر کریں گے، اور اُن کے بادشاہ تیری خدمت کریں گے۔ کیونکہ گو مَیں نے اپنے غضب میں تجھے سزا دی، لیکن اب مَیں اپنے فضل سے تجھ پر رحم کروں گا۔
ایک ہی مہینے میں مَیں نے تین گلہ بانوں کو مٹا دیا۔ لیکن جلد ہی مَیں بھیڑبکریوں سے تنگ آ گیا، اور اُنہوں نے مجھے بھی حقیر جانا۔
¶ پھر وہ اُس پر تھوکنے اور اُس کے مُکے مارنے لگے۔ بعض نے اُس کے تھپڑ مار مار کر
کیونکہ عام طور پر کون زیادہ بڑا ہوتا ہے، وہ جو کھانے کے لئے بیٹھا ہے یا وہ جو لوگوں کی خدمت کے لئے حاضر ہوتا ہے؟ کیا وہ نہیں جو کھانے کے لئے بیٹھا ہے؟ بےشک۔ لیکن مَیں خدمت کرنے والے کی حیثیت سے ہی تمہارے درمیان ہوں۔
¶ لیکن وہ بڑا شور مچا کر اُسے مصلوب کرنے کا تقاضا کرتے رہے، اور آخرکار اُن کی آوازیں غالب آ گئیں۔
¶ لیکن جواب میں لوگ چلّانے لگے، ”نہیں، اِس کو نہیں بلکہ برابا کو۔“ (برابا ڈاکو تھا۔)
¶ لیکن وہ چلّاتے رہے، ”لے جائیں اِسے، لے جائیں! اِسے مصلوب کریں!“ پیلاطس نے سوال کیا، ”کیا مَیں تمہارے بادشاہ کو صلیب پر چڑھاؤں؟“ راہنما اماموں نے جواب دیا، ”سوائے شہنشاہ کے ہمارا کوئی بادشاہ نہیں ہے۔“
¶ فلدلفیہ میں موجود جماعت کے فرشتے کو یہ لکھ دینا: یہ اُس کا فرمان ہے جو قدوس اور سچا ہے، جس کے ہاتھ میں داؤد کی چابی ہے۔ جو کچھ وہ کھولتا ہے اُسے کوئی بند نہیں کر سکتا، اور جو کچھ وہ بند کر دیتا ہے اُسے کوئی کھول نہیں سکتا۔