¶ اُس رات تمام لوگ چیخیں مار مار کر روتے رہے۔
TSK
TSK · یسعیاہ 7:2
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
تیرا گھرانا اور تیری بادشاہی ہمیشہ میرے حضور قائم رہے گی، تیرا تخت ہمیشہ مضبوط رہے گا‘۔“
¶ جب اسرائیلیوں نے دیکھا کہ بادشاہ ہماری بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے تو اُنہوں نے اُس سے کہا، ”نہ ہمیں داؤد سے میراث میں کچھ ملے گا، نہ یسّی کے بیٹے سے کچھ ملنے کی اُمید ہے۔ اے اسرائیل، سب اپنے اپنے گھر واپس چلیں! اے داؤد، اب اپنا گھر خود سنبھال لو!“ یہ کہہ کر وہ سب چلے گئے۔
کیونکہ رب نے شام کے فوجیوں کو رتھوں، گھوڑوں اور ایک بڑی فوج کا شور سنا دیا تھا۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے، ”اسرائیل کے بادشاہ نے حِتّی اور مصری بادشاہوں کو اُجرت پر بُلایا تاکہ وہ ہم پر حملہ کریں!“
¶ افرائیم کے قبیلے کے کچھ سرپرستوں نے بھی فوجیوں کا سامنا کیا۔ اُن کے نام عزریاہ بن یوحنان، برکیاہ بن مسِلّموت، یحِزقیاہ بن سلّوم اور عماسا بن خدلی تھے۔
¶ داؤد کا زبور۔ رب میری روشنی اور میری نجات ہے، مَیں کس سے ڈروں؟ رب میری جان کی پناہ گاہ ہے، مَیں کس سے دہشت کھاؤں؟
¶ بےدین فرار ہو جاتا ہے حالانکہ تعاقب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، لیکن راست باز اپنے آپ کو جوان شیرببر کی طرح محفوظ سمجھتا ہے۔
¶ تب یسعیاہ نے کہا، ”پھر میری بات سنو، اے داؤد کے خاندان! کیا یہ کافی نہیں کہ تم انسان کو تھکا دو؟ کیا لازم ہے کہ اللہ کو بھی تھکانے پر مُصر رہو؟
”ہر بات کو سازش مت سمجھنا جو یہ قوم سازش سمجھتی ہے۔ جس سے یہ لوگ ڈرتے ہیں اُس سے نہ ڈرنا، نہ دہشت کھانا
تب اسرائیل کا حسد ختم ہو جائے گا، اور یہوداہ کے دشمن نیست و نابود ہو جائیں گے۔ نہ اسرائیل یہوداہ سے حسد کرے گا، نہ یہوداہ اسرائیل سے دشمنی رکھے گا۔
اِسی لئے اُن کے باشندوں کی طاقت جاتی رہی، وہ گھبرائے اور شرمندہ ہوئے۔ وہ گھاس کی طرح کمزور تھے، چھت پر اُگنے والی اُس ہریالی کی مانند جو تھوڑی دیر کے لئے پھلتی پھولتی تو ہے، لیکن لُو چلتے وقت ایک دم مُرجھا جاتی ہے۔
اے داؤد کے گھرانے، رب فرماتا ہے کہ ہر صبح لوگوں کا انصاف کرو۔ جسے لُوٹ لیا گیا ہو اُسے ظالم کے ہاتھ سے بچاؤ! ایسا نہ ہو کہ میرا غضب تمہاری شریر حرکتوں کی وجہ سے تم پر نازل ہو کر آگ کی طرح بھڑک اُٹھے اور کوئی نہ ہو جو اُسے بجھا سکے۔
¶ اسرائیل ہَوا چرنے کی کوشش کر رہا ہے، پورا دن وہ مشرقی لُو کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ اُس کے جھوٹ اور ظلم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسور سے عہد باندھنے کے ساتھ ساتھ وہ مصر کو بھی زیتون کا تیل بھیج دیتا ہے۔