کیونکہ جس طرح یونس تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا اُسی طرح ابنِ آدم بھی تین دن اور تین رات زمین کی گود میں پڑا رہے گا۔
TSK
TSK · یوحنا 2:19
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
اُنہوں نے کہا، ”تُو نے تو کہا تھا کہ مَیں بیت المُقدّس کو ڈھا کر اُسے تین دن کے اندر اندر دوبارہ تعمیر کر دوں گا۔ اب اپنے آپ کو بچا! اگر تُو واقعی اللہ کا فرزند ہے تو صلیب پر سے اُتر آ۔“
¶ پھر عیسیٰ اُنہیں تعلیم دینے لگا، ”لازم ہے کہ ابنِ آدم بہت دُکھ اُٹھا کر بزرگوں، راہنما اماموں اور شریعت کے علما سے رد کیا جائے۔ اُسے قتل بھی کیا جائے گا، لیکن وہ تیسرے دن جی اُٹھے گا۔“
¶ جو وہاں سے گزرے اُنہوں نے کفر بک کر اُس کی تذلیل کی اور سر ہلا ہلا کر اپنی حقارت کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا، ”تُو نے تو کہا تھا کہ مَیں بیت المُقدّس کو ڈھا کر اُسے تین دن کے اندر اندر دوبارہ تعمیر کر دوں گا۔
¶ میرا باپ مجھے اِس لئے پیار کرتا ہے کہ مَیں اپنی جان دیتا ہوں تاکہ اُسے پھر لے لوں۔
لیکن اللہ نے اُسے موت کی اذیت ناک گرفت سے آزاد کر کے زندہ کر دیا، کیونکہ ممکن ہی نہیں تھا کہ موت اُسے اپنے قبضے میں رکھے۔
آپ نے زندگی کے سردار کو قتل کیا، لیکن اللہ نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کر دیا۔ ہم اِس بات کے گواہ ہیں۔
بلکہ ہماری خاطر بھی۔ کیونکہ اللہ ہمیں بھی راست باز قرار دے گا اگر ہم اُس پر ایمان رکھیں جس نے ہمارے خداوند عیسیٰ کو مُردوں میں سے زندہ کیا۔
اُس کا روح آپ میں بستا ہے جس نے عیسیٰ کو مُردوں میں سے زندہ کیا۔ اور چونکہ روح القدس آپ میں بستا ہے اِس لئے اللہ اِس کے ذریعے آپ کے فانی بدنوں کو بھی مسیح کی طرح زندہ کرے گا۔
¶ اب مجھے یہ بتائیں، ہم تو منادی کرتے ہیں کہ مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے۔ تو پھر آپ میں سے کچھ لوگ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مُردے جی نہیں اُٹھتے؟
کیونکہ مسیح نے ہمارے گناہوں کو مٹانے کی خاطر ایک بار سدا کے لئے موت سہی۔ ہاں، جو راست باز ہے اُس نے یہ ناراستوں کے لئے کیا تاکہ آپ کو اللہ کے پاس پہنچائے۔ اُسے بدن کے اعتبار سے سزائے موت دی گئی، لیکن روح کے اعتبار سے اُسے زندہ کر دیا گیا۔