¶ آؤ، مَیں رب کا فرمان سناؤں۔ اُس نے مجھ سے کہا، ”تُو میرا بیٹا ہے، آج مَیں تیرا باپ بن گیا ہوں۔
TSK
TSK · یوحنا 9:35
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ کیونکہ میرے ماں باپ نے مجھے ترک کر دیا ہے، لیکن رب مجھے قبول کر کے اپنے گھر میں لائے گا۔
¶ پطرس نے جواب دیا، ”آپ زندہ خدا کے فرزند مسیح ہیں۔“
کسی نے کبھی بھی اللہ کو نہیں دیکھا۔ لیکن اکلوتا فرزند جو اللہ کی گود میں ہے اُسی نے اللہ کو ہم پر ظاہر کیا ہے۔
¶ نتن ایل نے کہا، ”اُستاد، آپ اللہ کے فرزند ہیں، آپ اسرائیل کے بادشاہ ہیں۔“
چنانچہ جو اللہ کے فرزند پر ایمان لاتا ہے ابدی زندگی اُس کی ہے۔ لیکن جو فرزند کو رد کرے وہ اِس زندگی کو نہیں دیکھے گا بلکہ اللہ کا غضب اُس پر ٹھہرا رہے گا۔“
اور ہم نے ایمان لا کر جان لیا ہے کہ آپ اللہ کے قدوس ہیں۔“
¶ مرتھا نے جواب دیا، ”جی خداوند، مَیں ایمان رکھتی ہوں کہ آپ خدا کے فرزند مسیح ہیں، جسے دنیا میں آنا تھا۔“
لیکن جتنے درج ہیں اُن کا مقصد یہ ہے کہ آپ ایمان لائیں کہ عیسیٰ ہی مسیح یعنی اللہ کا فرزند ہے اور آپ کو اِس ایمان کے وسیلے سے اُس کے نام سے زندگی حاصل ہو۔
[فلپّس نے کہا، ”اگر آپ پورے دل سے ایمان لائیں تو لے سکتے ہیں۔“ اُس نے جواب دیا، ”مَیں ایمان رکھتا ہوں کہ عیسیٰ مسیح اللہ کا فرزند ہے۔“]
جبکہ روح القدس کے لحاظ سے وہ قدرت کے ساتھ اللہ کا فرزند ٹھہرا جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ یہ ہے ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کے بارے میں اللہ کی خوش خبری۔
لیکن اِن آخری دنوں میں وہ اپنے فرزند کے وسیلے سے ہم سے ہم کلام ہوا، اُسی کے وسیلے سے جسے اُس نے سب چیزوں کا وارث بنا دیا اور جس کے وسیلے سے اُس نے کائنات کو بھی خلق کیا۔
کون دنیا پر غالب آ سکتا ہے؟ صرف وہ جو ایمان رکھتا ہے کہ عیسیٰ اللہ کا فرزند ہے۔
¶ مَیں آپ کو جو اللہ کے فرزند کے نام پر ایمان رکھتے ہیں اِس لئے لکھ رہا ہوں کہ آپ جان لیں کہ آپ کو ابدی زندگی حاصل ہے۔