TSK

TSK · احبار 13:3

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

وہاں سے جگہ بہ جگہ چلتے ہوئے وہ آخرکار بیت ایل سے ہو کر اُس مقام تک پہنچ گیا جہاں اُس نے شروع میں اپنا ڈیرا لگایا تھا اور جو بیت ایل اور عَی کے درمیان تھا۔

یہ بھی لازم ہے کہ تم مُقدّس اور غیرمُقدّس چیزوں میں، پاک اور ناپاک چیزوں میں امتیاز کرو۔

امام اُس کا معائنہ کرے۔ اگر جگہ واقعی پھیل گئی ہو تو امام اُسے ناپاک قرار دے، کیونکہ یہ وبائی جِلدی مرض ہے۔

اگر وہ اُس کا معائنہ کر کے دیکھے کہ متاثرہ جگہ جِلد کے اندر دھنسی ہوئی ہے اور اُس کے بال سفید ہو گئے ہیں تو وہ مریض کو ناپاک قرار دے۔ کیونکہ اِس کا مطلب ہے کہ جہاں پہلے پھوڑا تھا وہاں وبائی جِلدی بیماری پیدا ہو گئی ہے۔

¶ لازم ہے کہ ہر قسم کی وبائی بیماری سے ایسے نپٹو جیسے بیان کیا گیا ہے، چاہے وہ وبائی جِلدی بیماریاں ہوں (مثلاً خارش، سوجن، پپڑی یا سفید داغ)، چاہے کپڑوں یا گھروں میں پھپھوندی ہو۔

رب قادرِ مطلق فرماتا ہے، ’ایسی حرکتیں کر کے تُو کتنی سرگرم ہوئی! صاف ظاہر ہوا کہ تُو زبردست کسبی ہے۔

غیرملکی اُس کی طاقت کھا کھا کر اُسے کمزور کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک اُسے پتا نہیں چلا۔ اُس کے بال سفید ہو گئے ہیں، لیکن ابھی تک اُسے معلوم نہیں ہوا۔

¶ اماموں کا فرض ہے کہ وہ صحیح تعلیم محفوظ رکھیں، اور لوگوں کو اُن سے ہدایت حاصل کرنی چاہئے۔ کیونکہ امام رب الافواج کا پیغمبر ہے۔

اگر وہ اُن کی بات بھی نہ مانے تو جماعت کو بتا دینا۔ اور اگر وہ جماعت کی بھی نہ مانے تو اُس کے ساتھ غیرایمان دار یا ٹیکس لینے والے کا سا سلوک کر۔

چنانچہ خبردار رہ کر اپنا اور اُس پورے گلے کا خیال رکھنا جس پر روح القدس نے آپ کو مقرر کیا ہے۔ نگرانوں اور چرواہوں کی حیثیت سے اللہ کی جماعت کی خدمت کریں، اُس جماعت کی جسے اُس نے اپنے ہی فرزند کے خون سے حاصل کیا ہے۔

¶ کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت خود گناہ ہے؟ ہرگز نہیں! بات تو یہ ہے کہ اگر شریعت مجھ پر میرے گناہ ظاہر نہ کرتی تو مجھے اِن کا کچھ پتا نہ چلتا۔ مثلاً اگر شریعت نہ بتاتی، ”لالچ نہ کرنا“ تو مجھے در حقیقت معلوم نہ ہوتا کہ لالچ کیا ہے۔

اگر کوئی اِس خط میں درج ہماری ہدایت پر عمل نہ کرے تو اُس سے تعلق نہ رکھنا تاکہ اُسے شرم آئے۔

دنیاوی بکواس سے باز رہیں۔ کیونکہ جتنا یہ لوگ اِس میں پھنس جائیں گے اُتنا ہی بےدینی کا اثر بڑھے گا

¶ اپنے راہنماؤں کو یاد رکھیں جنہوں نے آپ کو اللہ کا کلام سنایا۔ اِس پر غور کریں کہ اُن کے چال چلن سے کتنی بھلائی پیدا ہوئی ہے، اور اُن کے ایمان کے نمونے پر چلیں۔