¶ اُس کی موت پر یوباب بن زارح جو بُصرہ شہر کا تھا۔
TSK
TSK · میکاہ 2:12
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ اُس دن رب ایک بار پھر اپنا ہاتھ بڑھائے گا تاکہ اپنی قوم کا وہ بچا کھچا حصہ دوبارہ حاصل کرے جو اسور، شمالی اور جنوبی مصر، ایتھوپیا، عیلام، بابل، حمات اور ساحلی علاقوں میں منتشر ہو گا۔
رب کی تلوار خون آلودہ ہو گئی ہے، اور اُس سے چربی ٹپکتی ہے۔ بھیڑبکریوں کا خون اور مینڈھوں کے گُردوں کی چربی اُس پر لگی ہے، کیونکہ رب بُصرہ شہر میں قربانی کی عید اور ملکِ ادوم میں قتلِ عام کا تہوار منائے گا۔
¶ مَیں خود اپنے ریوڑ کی بچی ہوئی بھیڑوں کو جمع کروں گا۔ جہاں بھی مَیں نے اُنہیں منتشر کر دیا تھا، اُن تمام ممالک سے مَیں اُنہیں اُن کی اپنی چراگاہ میں واپس لاؤں گا۔ وہاں وہ پھلیں پھولیں گے، اور اُن کی تعداد بڑھتی جائے گی۔
¶ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ آئندہ مَیں خود اپنی بھیڑبکریوں کو ڈھونڈ کر واپس لاؤں گا، خود اُن کی دیکھ بھال کروں گا۔
لیکن مَیں اپنی بھیڑبکریوں کو تم سے بچا لوں گا۔ آئندہ اُنہیں لُوٹا نہیں جائے گا بلکہ مَیں خود اُن میں انصاف قائم رکھوں گا۔
¶ قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ ایک بار پھر مَیں اسرائیلی قوم کی التجائیں سن کر باشندوں کی تعداد ریوڑ کی طرح بڑھا دوں گا۔
تب یہوداہ اور اسرائیل کے لوگ متحد ہو جائیں گے اور مل کر ایک راہنما مقرر کریں گے۔ پھر وہ ملک میں سے نکل آئیں گے، کیونکہ یزرعیل کا دن عظیم ہو گا!
¶ رب فرماتا ہے، ”اُس دن مَیں لنگڑوں کو جمع کروں گا اور اُنہیں اکٹھا کروں گا جنہیں مَیں نے منتشر کر کے دُکھ پہنچایا تھا۔
¶ تب یعقوب کے جتنے لوگ بچ کر متعدد اقوام کے بیچ میں رہیں گے وہ رب کی بھیجی ہوئی اوس یا ہریالی پر پڑنے والی بارش کی مانند ہوں گے یعنی ایسی چیزوں کی مانند جو نہ کسی انسان کے انتظار میں رہتی، نہ کسی انسان کے حکم پر پڑتی ہیں۔
¶ اے رب، تجھ جیسا خدا کہاں ہے؟ تُو ہی گناہوں کو معاف کر دیتا، تُو ہی اپنی میراث کے بچے ہوؤں کے جرائم سے درگزر کرتا ہے۔ تُو ہمیشہ تک غصے نہیں رہتا بلکہ شفقت پسند کرتا ہے۔
ہاں، متعدد اقوام اور طاقت ور اُمّتیں یروشلم آئیں گی تاکہ رب الافواج کی مرضی معلوم کریں اور اُس سے التماس کریں۔
¶ مَیں یہوداہ کے گھرانے کو تقویت دوں گا، یوسف کے گھرانے کو چھٹکارا دوں گا، ہاں اُن پر رحم کر کے اُنہیں دوبارہ وطن میں بسا دوں گا۔ تب اُن کی حالت سے پتا نہیں چلے گا کہ مَیں نے کبھی اُنہیں رد کیا تھا۔ کیونکہ مَیں رب اُن کا خدا ہوں، مَیں ہی اُن کی سنوں گا۔