جب وادیٔ زِرد سے روانہ ہوئے تو دریائے ارنون کے پرلے یعنی جنوبی کنارے پر خیمہ زن ہوئے۔ یہ دریا ریگستان میں ہے اور اموریوں کے علاقے سے نکلتا ہے۔ یہ اموریوں اور موآبیوں کے درمیان کی سرحد ہے۔
TSK
TSK · گِنتی 21:24
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
اُس وقت وہ اموریوں کے بادشاہ سیحون کو شکست دے چکا تھا جس کا دار الحکومت حسبون تھا۔ بسن کے بادشاہ عوج پر بھی فتح حاصل ہو چکی تھی جس کی حکومت کے مرکز عستارات اور اِدرعی تھے۔
تو رب ہمارے خدا نے ہمیں پوری فتح بخشی۔ ہم نے سیحون، اُس کے بیٹوں اور پوری قوم کو شکست دی۔
دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر تھے۔ بیت فغور اُن کے مقابل تھا، اور وہ اموری بادشاہ سیحون کے ملک میں خیمہ زن تھے۔ سیحون کی رہائش حسبون میں تھی اور اُسے اسرائیلیوں سے شکست ہوئی تھی جب وہ موسیٰ کی راہنمائی میں مصر سے نکل آئے تھے۔
رب وہاں کے لوگوں کو بالکل اُسی طرح تباہ کرے گا جس طرح وہ اموریوں کو اُن کے بادشاہوں سیحون اور عوج سمیت تباہ کر چکا ہے۔
¶ درجِ ذیل دریائے یردن کے مشرق میں اُن بادشاہوں کی فہرست ہے جنہیں اسرائیلیوں نے شکست دی تھی اور جن کے علاقے پر اُنہوں نے قبضہ کیا تھا۔ یہ علاقہ جنوب میں وادیٔ ارنون سے لے کر شمال میں حرمون پہاڑ تک تھا، اور اُس میں وادیٔ یردن کا پورا مشرقی حصہ شامل تھا۔
¶ آخرکار مَیں نے تمہیں اُن اموریوں کے ملک میں پہنچایا جو دریائے یردن کے مشرق میں آباد تھے۔ گو اُنہوں نے تم سے جنگ کی، لیکن مَیں نے اُنہیں تمہارے ہاتھ میں کر دیا۔ تمہارے آگے آگے چل کر مَیں نے اُنہیں نیست و نابود کر دیا، اِس لئے تم اُن کے ملک پر قبضہ کر سکے۔
بادشاہ نے جواب دیا، ”جب اسرائیلی مصر سے نکلے تو اُنہوں نے ارنون، یبوق اور یردن کے دریاؤں کے درمیان کا علاقہ مجھ سے چھین لیا۔ اب اُسے جھگڑا کئے بغیر مجھے واپس کر دو۔“
¶ عمونیوں پر فتح کے بعد افرائیم کے قبیلے کے آدمی جمع ہوئے اور دریائے یردن کو پار کر کے اِفتاح کے پاس آئے جو صفون میں تھا۔ اُنہوں نے شکایت کی، ”آپ کیوں ہمیں بُلائے بغیر عمونیوں سے لڑنے گئے؟ اب ہم آپ کو آپ کے گھر سمیت جلا دیں گے!“
¶ تُو نے ممالک اور قومیں اُن کے حوالے کر دیں، مختلف علاقے یکے بعد دیگرے اُن کے قبضے میں آئے۔ یوں وہ سیحون بادشاہ کے ملک حسبون اور عوج بادشاہ کے ملک بسن پر فتح پا سکے۔
¶ اموریوں کا بادشاہ سیحون، بسن کا بادشاہ عوج اور ملکِ کنعان کی تمام سلطنتیں نہ رہیں۔
¶ یہ کیسی بات ہے؟ مَیں ہی نے اموریوں کو اُن کے آگے آگے نیست کر دیا تھا، حالانکہ وہ دیودار کے درختوں جیسے لمبے اور بلوط کے درختوں جیسے طاقت ور تھے۔ مَیں ہی نے اموریوں کو جڑوں اور پھل سمیت مٹا دیا تھا۔