دیکھیں، اگر انسان کسی دوسرے انسان کا گناہ کرے تو ہو سکتا ہے اللہ دونوں کا درمیانی بن کر قصوروار شخص پر رحم کرے۔ لیکن اگر کوئی رب کا گناہ کرے تو پھر کون اُس کا درمیانی بن کر اُسے بچائے گا؟“ لیکن عیلی کے بیٹوں نے باپ کی نہ سنی، کیونکہ رب کی مرضی تھی کہ اُنہیں سزائے موت مل جائے۔
TSK
TSK · امثال 29:1
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ ایک دن الیاس نبی نے جو جِلعاد کے شہر تِشبی کا تھا اخی اب بادشاہ سے کہا، ”رب اسرائیل کے خدا کی قَسم جس کی خدمت مَیں کرتا ہوں، آنے والے سالوں میں نہ اوس، نہ بارش پڑے گی جب تک مَیں نہ کہوں۔“
نبی نے کہا، ”رب فرماتا ہے، ’مَیں نے مقرر کیا تھا کہ بن ہدد کو میرے لئے مخصوص کر کے ہلاک کرنا ہے، لیکن تُو نے اُسے رِہا کر دیا ہے۔ اب اُس کی جگہ تُو ہی مرے گا، اور اُس کی قوم کی جگہ تیری قوم کو نقصان پہنچے گا‘۔“
رب نے پوچھا، ’کون اخی اب کو رامات جِلعاد پر حملہ کرنے پر اُکسائے گا تاکہ وہ وہاں جا کر مر جائے؟‘ ایک نے یہ مشورہ دیا، دوسرے نے وہ۔
لیکن کسی نے خاص نشانہ باندھے بغیر اپنا تیر چلایا تو وہ اخی اب کو ایسی جگہ جا لگا جہاں زرہ بکتر کا جوڑ تھا۔ بادشاہ نے اپنے رتھ بان کو حکم دیا، ”رتھ کو موڑ کر مجھے میدانِ جنگ سے باہر لے جاؤ! مجھے چوٹ لگ گئی ہے۔“
¶ گو رب نے منسّی اور اپنی قوم کو سمجھایا، لیکن اُنہوں نے پروا نہ کی۔
¶ بار بار رب اُن کے باپ دادا کا خدا اپنے پیغمبروں کو اُن کے پاس بھیج کر اُنہیں سمجھاتا رہا، کیونکہ اُسے اپنی قوم اور سکونت گاہ پر ترس آتا تھا۔
تُو اُنہیں سمجھاتا رہا تاکہ وہ دوبارہ تیری شریعت کی طرف رجوع کریں، لیکن وہ مغرور تھے اور تیرے احکام کے تابع نہ ہوئے۔ اُنہوں نے تیری ہدایات کی خلاف ورزی کی، حالانکہ اِن ہی پر چلنے سے انسان کو زندگی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اُنہوں نے پروا نہ کی بلکہ اپنا منہ تجھ سے پھیر کر اَڑ گئے اور سننے کے لئے تیار نہ ہوئے۔
لیکن ایسے شخص پر اچانک ہی آفت آئے گی۔ ایک ہی لمحے میں وہ پاش پاش ہو جائے گا۔ تب اُس کا علاج ناممکن ہو گا۔
¶ جو بےالزام زندگی گزارے وہ بچا رہے گا، لیکن جو ٹیڑھی راہ پر چلے وہ اچانک ہی گر جائے گا۔
اب یہ گناہ تمہارے لئے اُس اونچی دیوار کی مانند ہو گا جس میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ دراڑیں پھیلتی ہیں اور دیوار بیٹھی جاتی ہے۔ پھر اچانک ایک ہی لمحے میں وہ دھڑام سے زمین بوس ہو جاتی ہے۔
¶ اے رب، کیا تُو نے یہوداہ کو سراسر رد کیا ہے؟ کیا تجھے صیون سے اِتنی گھن آتی ہے؟ تُو نے ہمیں اِتنی بار کیوں مارا کہ ہمارا علاج ناممکن ہو گیا ہے؟ ہم امن و امان کے انتظار میں رہے، لیکن حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ہم شفا پانے کی اُمید رکھتے تھے، لیکن اِس کے بجائے ہم پر دہشت چھا گئی۔
¶ ”23 سال سے رب کا کلام مجھ پر نازل ہوتا رہا ہے یعنی یوسیاہ بن امون کی حکومت کے تیرھویں سال سے لے کر آج تک۔ بار بار مَیں تمہیں پیغامات سناتا رہا ہوں، لیکن تم نے دھیان نہیں دیا۔
”رب الافواج جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے کہ یہوداہ اور یروشلم کے باشندوں کے پاس جا کر کہہ، ’تم میری تربیت کیوں قبول نہیں کرتے؟ تم میری کیوں نہیں سنتے؟
جب تمہارے باپ دادا نے یہ کچھ سنا تو وہ اِس پر دھیان دینے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ اکڑ گئے۔ اُنہوں نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر اپنے کانوں کو بند کئے رکھا۔
¶ جواب میں عیسیٰ نے کہا، ”کیا مَیں نے تم بارہ کو نہیں چنا؟ توبھی تم میں سے ایک شخص شیطان ہے۔“
¶ مَیں تم سب کی بات نہیں کر رہا۔ جنہیں مَیں نے چن لیا ہے اُنہیں مَیں جانتا ہوں۔ لیکن کلامِ مُقدّس کی اِس بات کا پورا ہونا ضرور ہے، ’جو میری روٹی کھاتا ہے اُس نے مجھ پر لات اُٹھائی ہے۔‘
¶ (جو پیسے یہوداہ کو اُس کے غلط کام کے لئے مل گئے تھے اُن سے اُس نے ایک کھیت خرید لیا تھا۔ وہاں وہ سر کے بل گر گیا، اُس کا پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی تمام انتڑیاں باہر نکل پڑیں۔
جب لوگ کہیں گے، ”اب امن و امان ہے،“ تو ہلاکت اچانک ہی اُن پر آن پڑے گی۔ وہ اِس طرح مصیبت میں پڑ جائیں گے جس طرح وہ عورت جس کا بچہ پیدا ہو رہا ہے۔ وہ ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔