¶ اے سادہ لوحو، ہوشیاری سیکھ لو! اے احمقو، سمجھ اپنا لو!
TSK
TSK · رومیوں 1:14
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ اُس وقت عیسیٰ نے کہا، ”اے باپ، آسمان و زمین کے مالک! مَیں تیری تمجید کرتا ہوں کہ تُو نے یہ باتیں داناؤں اور عقل مندوں سے چھپا کر چھوٹے بچوں پر ظاہر کر دی ہیں۔
¶ لیکن خداوند نے کہا، ”جا، یہ آدمی میرا چنا ہوا وسیلہ ہے جو میرا نام غیریہودیوں، بادشاہوں اور اسرائیلیوں تک پہنچائے گا۔
لیکن خداوند نے کہا، ’جا، کیونکہ مَیں تجھے دُوردراز علاقوں میں غیریہودیوں کے پاس بھیج دوں گا‘۔“
مقامی لوگوں نے ہمیں غیرمعمولی مہربانی دکھائی۔ اُنہوں نے آگ جلا کر ہمارا استقبال کیا، کیونکہ بارش شروع ہو چکی تھی اور ٹھنڈ تھی۔
وہ دعویٰ تو کرتے تھے کہ ہم دانا ہیں، لیکن احمق ثابت ہوئے۔
¶ بھائیو، مَیں چاہتا ہوں کہ آپ ایک بھید سے واقف ہو جائیں، کیونکہ یہ آپ کو اپنے آپ کو دانا سمجھنے سے باز رکھے گا۔ بھید یہ ہے کہ اسرائیل کا ایک حصہ اللہ کے فضل کے بارے میں بےحس ہو گیا ہے، اور اُس کی یہ حالت اُس وقت تک رہے گی جب تک غیریہودیوں کی پوری تعداد اللہ کی بادشاہی میں داخل نہ ہو جائے۔
¶ کسی کے بھی قرض دار نہ رہیں۔ صرف ایک قرض ہے جو آپ کبھی نہیں اُتار سکتے، ایک دوسرے سے محبت رکھنے کا قرض۔ یہ کرتے رہیں کیونکہ جو دوسروں سے محبت رکھتا ہے اُس نے شریعت کے تمام تقاضے پورے کئے ہیں۔
چنانچہ پاک نوشتوں میں لکھا ہے، ”مَیں دانش مندوں کی دانش کو تباہ کروں گا اور سمجھ داروں کی سمجھ کو رد کروں گا۔“
¶ کوئی اپنے آپ کو فریب نہ دے۔ اگر آپ میں سے کوئی سمجھے کہ وہ اِس دنیا کی نظر میں دانش مند ہے تو پھر ضروری ہے کہ وہ بےوقوف بنے تاکہ واقعی دانش مند ہو جائے۔
اگر مَیں کسی زبان سے واقف نہیں تو مَیں اُس زبان میں بولنے والے کے نزدیک اجنبی ٹھہروں گا اور وہ میرے نزدیک۔
¶ اب فرض کریں کہ ایمان دار ایک جگہ جمع ہیں اور تمام حاضرین غیرزبانیں بول رہے ہیں۔ اِسی اثنا میں غیرزبان کو نہ سمجھنے والے یا غیرایمان دار آ شامل ہوتے ہیں۔ آپ کو اِس حالت میں دیکھ کر کیا وہ آپ کو دیوانہ قرار نہیں دیں گے؟
بےشک آپ خود اِتنے دانش مند ہیں کہ آپ احمقوں کو خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔
جہاں یہ کام ہو رہا ہے وہاں لوگوں میں کوئی فرق نہیں ہے، خواہ کوئی غیریہودی ہو یا یہودی، مختون ہو یا نامختون، غیریونانی ہو یا سکوتی، غلام ہو یا آزاد۔ کوئی فرق نہیں پڑتا، صرف مسیح ہی سب کچھ اور سب میں ہے۔
کیونکہ ایک وقت تھا جب ہم بھی ناسمجھ، نافرمان اور صحیح راہ سے بھٹکے ہوئے تھے۔ اُس وقت ہم کئی طرح کی شہوتوں اور غلط خواہشوں کی غلامی میں تھے۔ ہم بُرے کاموں اور حسد کرنے میں زندگی گزارتے تھے۔ دوسرے ہم سے نفرت کرتے تھے اور ہم بھی اُن سے نفرت کرتے تھے۔