¶ قرعہ ڈالتے وقت لاوی کے گھرانے قِہات میں سے ہارون کے کنبے کو پہلا حصہ مل گیا۔ اُسے یہوداہ اور شمعون کے قبیلوں کے یہ شہر دیئے گئے:
TSK
TSK · ۱-توارِیخ 6:39
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ اُس دن داؤد نے پہلی دفعہ آسف اور اُس کے ساتھی لاویوں کے حوالے ذیل کا گیت کر کے اُنہیں رب کی ستائش کرنے کی ذمہ داری دی۔
¶ رب کے گھر کے صحن کے دروازوں پر پہرا داری کرنے کے گروہ بھی مقرر کئے گئے۔ اُن میں ذیل کے آدمی شامل تھے: قورح کے خاندان کا فرد مسلمیاہ بن قورے جو آسف کی اولاد میں سے تھا۔
تب رب کا روح ایک لاوی بنام یحزی ایل پر نازل ہوا جب وہ جماعت کے درمیان کھڑا تھا۔ یہ آدمی آسف کے خاندان کا تھا، اور اُس کا پورا نام یحزی ایل بن زکریاہ بن بِنایاہ بن یعی ایل بن متنیاہ تھا۔
بادشاہ اور بزرگوں نے لاویوں کو کہا، ”داؤد اور آسف غیب بین کے زبور گا کر رب کی ستائش کریں۔“ چنانچہ لاویوں نے بڑی خوشی سے حمد و ثنا کے گیت گائے۔ وہ بھی اوندھے منہ جھک گئے۔
¶ گلوکار: آسف کے خاندان کے 128 آدمی،
¶ گلوکار: آسف کے خاندان کے 148 آدمی،
¶ یروشلم میں رہنے والے لاویوں کا نگران عُزّی بن بانی بن حسبیاہ بن متنیاہ بن میکا تھا۔ وہ آسف کے خاندان کا تھا، اُس خاندان کا جس کے گلوکار اللہ کے گھر میں خدمت کرتے تھے۔
کیونکہ داؤد اور آسف کے زمانے سے ہی گلوکاروں کے لیڈر اللہ کی حمد و ثنا کے گیتوں میں راہنمائی کرتے تھے۔
¶ آسف کا زبور۔ یقیناً اللہ اسرائیل پر مہربان ہے، اُن پر جن کے دل پاک ہیں۔
¶ آسف کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: تباہ نہ کر۔ اے اللہ، تیرا شکر ہو، تیرا شکر! تیرا نام اُن کے قریب ہے جو تیرے معجزے بیان کرتے ہیں۔
¶ آسف کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ یدوتون کے لئے۔ مَیں اللہ سے فریاد کر کے مدد کے لئے چلّاتا ہوں، مَیں اللہ کو پکارتا ہوں کہ مجھ پر دھیان دے۔
¶ آسف کا زبور۔ اے اللہ، اجنبی قومیں تیری موروثی زمین میں گھس آئی ہیں۔ اُنہوں نے تیری مُقدّس سکونت گاہ کی بےحرمتی کر کے یروشلم کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
¶ آسف کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: گتّیت۔ اللہ ہماری قوت ہے۔ اُس کی خوشی میں شادیانہ بجاؤ، یعقوب کے خدا کی تعظیم میں خوشی کے نعرے لگاؤ۔
¶ گیت۔ آسف کا زبور۔ اے اللہ، خاموش نہ رہ! اے اللہ، چپ نہ رہ!