پھر سموایل نے اُسے کھل کر سب کچھ بتا دیا اور ایک بات بھی نہ چھپائی۔ عیلی نے کہا، ”وہی رب ہے۔ جو کچھ اُس کی نظر میں ٹھیک ہے اُسے وہ کرے۔“
TSK
TSK · دانیال 4:35
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
اگر وہ کچھ چھین لے تو کون اُسے روکے گا؟ کون اُس سے کہے گا، ’تُو کیا کر رہا ہے؟‘
¶ لیکن آپ کی یہ بات درست نہیں، کیونکہ اللہ انسان سے اعلیٰ ہے۔
وہ تو نہ رئیسوں کی جانب داری کرتا، نہ عُہدے داروں کو پست حالوں پر ترجیح دیتا ہے، کیونکہ سب ہی کو اُس کے ہاتھوں نے بنایا ہے۔
¶ ”کیا ملامت کرنے والا عدالت میں قادرِ مطلق سے جھگڑنا چاہتا ہے؟ اللہ کی سرزنش کرنے والا اُسے جواب دے!“
¶ ”مَیں نے جان لیا ہے کہ تُو سب کچھ کر پاتا ہے، کہ تیرا کوئی بھی منصوبہ روکا نہیں جا سکتا۔
¶ اپنے تخت سے وہ زمین کے تمام باشندوں کا معائنہ کرتا ہے۔
¶ ہمارا خدا تو آسمان پر ہے، اور جو جی چاہے کرتا ہے۔
¶ کسی کی بھی حکمت، سمجھ یا منصوبہ رب کا سامنا نہیں کر سکتا۔
¶ رات کے وقت میری روح تیرے لئے تڑپتی، میرا دل تیرا طالب رہتا ہے۔ کیونکہ دنیا کے باشندے اُس وقت انصاف کا مطلب سیکھتے ہیں جب تُو دنیا کی عدالت کرتا ہے۔
رب رُوئے زمین کے اوپر بلندیوں پر تخت نشین ہے جہاں سے انسان ٹڈیوں جیسے لگتے ہیں۔ وہ آسمان کو پردے کی طرح تان کر اور ہر طرف کھینچ کر رہنے کے قابل خیمہ بنا دیتا ہے۔
¶ اُس پر افسوس جو اپنے خالق سے جھگڑا کرتا ہے، گو وہ مٹی کے ٹوٹے پھوٹے برتنوں کا ٹھیکرا ہی ہے۔ کیا گارا کمہار سے پوچھتا ہے، ”تُو کیا بنا رہا ہے؟“ کیا تیری بنائی ہوئی کوئی چیز تیرے بارے میں شکایت کرتی ہے، ”اُس کی کوئی طاقت نہیں“؟
¶ اُس وقت عیسیٰ نے کہا، ”اے باپ، آسمان و زمین کے مالک! مَیں تیری تمجید کرتا ہوں کہ تُو نے یہ باتیں داناؤں اور عقل مندوں سے چھپا کر چھوٹے بچوں پر ظاہر کر دی ہیں۔
لیکن اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو آپ اِنہیں ختم نہیں کر سکیں گے۔ ایسا نہ ہو کہ آخرکار آپ اللہ ہی کے خلاف لڑ رہے ہوں۔“ حاضرین نے اُس کی بات مان لی۔
اللہ نے اُنہیں وہی نعمت دی جو اُس نے ہمیں بھی دی تھی جو خداوند عیسیٰ مسیح پر ایمان لائے تھے۔ تو پھر مَیں کون تھا کہ اللہ کو روکتا؟“
¶ واہ! اللہ کی دولت، حکمت اور علم کیا ہی گہرا ہے۔ کون اُس کے فیصلوں کی تہہ تک پہنچ سکتا ہے! کون اُس کی راہوں کا کھوج لگا سکتا ہے!
یا کیا ہم اللہ کی غیرت کو اُکسانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم اُس سے طاقت ور ہیں؟
¶ تاکہ عیسیٰ کے اِس نام کے سامنے ہر گھٹنا جھکے، خواہ وہ گھٹنا آسمان پر، زمین پر یا اِس کے نیچے ہو،