TSK

TSK · خروج 4:21

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

پھر رب نے کہا، ”میری روح ہمیشہ کے لئے انسان میں نہ رہے کیونکہ وہ فانی مخلوق ہے۔ اب سے وہ 120 سال سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا۔“

اِس لئے مَیں اپنی قدرت ظاہر کر کے اپنے معجزوں کی معرفت مصریوں کو ماروں گا۔ پھر وہ تمہیں جانے دے گا۔

¶ تاہم فرعون اِس سے متاثر نہ ہوا۔ اُس نے موسیٰ اور ہارون کی بات سننے سے انکار کیا۔ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے کہا تھا۔

¶ لیکن جب فرعون نے دیکھا کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے تو وہ پھر اکڑ گیا اور اُن کی نہ سنی۔ یوں رب کی بات درست نکلی۔

فرعون اَڑا رہا اور اسرائیلیوں کو جانے نہ دیا۔ ویسا ہی ہوا جیسا رب نے موسیٰ سے کہا تھا۔

گو موسیٰ اور ہارون نے فرعون کے سامنے یہ تمام معجزے دکھائے، لیکن رب نے فرعون کو ضدی بنائے رکھا، اِس لئے اُس نے اسرائیلیوں کو ملک چھوڑنے نہ دیا۔

رب نے مصر کے بادشاہ فرعون کو دوبارہ اَڑ جانے دیا تھا، اِس لئے جب اسرائیلی بڑے اختیار کے ساتھ نکل رہے تھے تو وہ اُن کا تعاقب کرنے لگا۔

¶ لیکن حسبون کے بادشاہ سیحون نے ہمیں گزرنے نہ دیا، کیونکہ رب تمہارے خدا نے اُسے بےلچک اور ہماری بات سے انکار کرنے پر آمادہ کر دیا تھا تاکہ سیحون ہمارے قابو میں آ جائے۔ اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔

رب ہی نے اُنہیں اکڑنے دیا تھا تاکہ وہ اسرائیل سے جنگ کریں اور اُن پر رحم نہ کیا جائے بلکہ اُنہیں پورے طور پر رب کے حوالے کر کے ہلاک کیا جائے۔ لازم تھا کہ اُنہیں یوں نیست و نابود کیا جائے جس طرح رب نے موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

¶ ساتھ ساتھ اُس نے مصریوں کا رویہ بدل دیا، تو وہ اُس کی قوم اسرائیل سے نفرت کر کے رب کے خادموں سے چالاکیاں کرنے لگے۔

اے رب، تُو ہمیں اپنی راہوں سے کیوں بھٹکنے دیتا ہے؟ تُو نے ہمارے دلوں کو اِتنا سخت کیوں کر دیا کہ ہم تیرا خوف نہیں مان سکتے؟ ہماری خاطر واپس آ! کیونکہ ہم تیرے خادم، تیری موروثی ملکیت کے قبیلے ہیں۔

¶ اور چونکہ اُنہوں نے اللہ کو جاننے سے انکار کر دیا اِس لئے اُس نے اُنہیں اُن کی مکروہ سوچ میں چھوڑ دیا۔ اور اِس لئے وہ ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں جو کبھی نہیں کرنی چاہئیں۔

جس طرح کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے، ”آج تک اللہ نے اُنہیں ایسی حالت میں رکھا ہے کہ اُن کی روح مدہوش ہے، اُن کی آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں اور اُن کے کان سن نہیں سکتے۔“

یوں وہ اُنہیں ہر طرح کے شریر فریب میں پھنسائے گا جو ہلاک ہونے والے ہیں۔ لوگ اِس لئے ہلاک ہو جائیں گے کہ اُنہوں نے سچائی سے محبت کرنے سے انکار کیا، ورنہ وہ بچ جاتے۔