حِتّی، فرِزّی، رفائی،
TSK
TSK · پَیدایش 14:5
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ پہلے ایمی وہاں رہتے تھے جو عناق کی اولاد کی طرح طاقت ور، درازقد اور تعداد میں زیادہ تھے۔
¶ بادشاہ عوج دیو قامت قبیلے رفائی کا آخری مرد تھا۔ اُس کا لوہے کا تابوت 13 سے زائد فٹ لمبا اور چھ فٹ چوڑا تھا اور آج تک عمونیوں کے شہر ربّہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اُن سے نہ ڈرو۔ تمہارا خدا خود تمہارے لئے جنگ کرے گا۔“
¶ پہلے یہ سارا علاقہ بسن کے بادشاہ عوج کے قبضے میں تھا جس کی حکومت کے مرکز عستارات اور اِدرعی تھے۔ رفائیوں کے دیو قامت قبیلے سے صرف عوج باقی رہ گیا تھا۔ موسیٰ کی راہنمائی کے تحت اسرائیلیوں نے اُس علاقے پر فتح پا کر تمام باشندوں کو نکال دیا تھا۔
جِلعاد کا آدھا حصہ عوج کی حکومت کے دو مراکز عستارات اور اِدرعی سمیت مکیر بن منسّی کی اولاد کو اُس کے کنبوں کے مطابق دیا گیا۔
¶ ایک بار پھر فلستی آ کر وادیٔ رفائیم میں پھیل گئے۔
وہاں اُنہیں اچھی اور شاداب چراگاہیں مل گئیں۔ علاقہ کھلا، پُرسکون اور آرام دہ بھی تھا۔ پہلے حام کی کچھ اولاد وہاں آباد تھی،
جب فلستی اسرائیل میں پہنچ کر وادیٔ رفائیم میں پھیل گئے
¶ پھر یعقوب کا خاندان مصر آیا، اور اسرائیل حام کے ملک میں اجنبی کی حیثیت سے بسنے لگا۔
¶ جو معجزے حام کے ملک میں ہوئے اور جو جلالی واقعات بحرِ قُلزم پر پیش آئے تھے وہ سب اللہ کے ہاتھ سے ہوئے تھے۔
¶ موآب کے بارے میں رب الافواج جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے، ”نبو شہر پر افسوس، کیونکہ وہ تباہ ہو گیا ہے۔ دشمن نے قِریَتائم کی بےحرمتی کر کے اُس پر قبضہ کر لیا ہے۔ چٹان کے قلعے کی رُسوائی ہو گئی، وہ پاش پاش ہو گیا ہے۔