TSK

TSK · پَیدایش 27:41

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

¶ جب قاصد واپس آئے تو اُنہوں نے کہا، ”ہم آپ کے بھائی عیسَو کے پاس گئے، اور وہ 400 آدمی ساتھ لے کر آپ سے ملنے آ رہا ہے۔“

اُس کے بھائیوں نے کہا، ”اچھا، تُو بادشاہ بن کر ہم پر حکومت کرے گا؟“ اُس کے خوابوں اور اُس کی باتوں کے سبب سے اُن کی اُس سے نفرت مزید بڑھ گئی۔

اِس میں 40 دن لگ گئے۔ عام طور پر حنوط کرنے کے لئے اِتنے ہی دن لگتے ہیں۔ مصریوں نے 70 دن تک یعقوب کا ماتم کیا۔

¶ جب یعقوب انتقال کر گیا تو یوسف کے بھائی ڈر گئے۔ اُنہوں نے کہا، ”خطرہ ہے کہ اب یوسف ہمارا تعاقب کر کے اُس غلط کام کا بدلہ لے جو ہم نے اُس کے ساتھ کیا تھا۔ پھر کیا ہو گا؟“

¶ ضیافت سے پہلے ابی سلوم نے اپنے ملازموں کو حکم دیا، ”سنیں! جب امنون مَے پی پی کر خوش ہو جائے گا تو مَیں آپ کو امنون کو مارنے کا حکم دوں گا۔ پھر آپ کو اُسے مار ڈالنا ہے۔ ڈریں مت، کیونکہ مَیں ہی نے آپ کو یہ حکم دیا ہے۔ مضبوط اور دلیر ہوں!“

¶ مَیں نے یوں ماتم کیا جیسے میرا کوئی دوست یا بھائی ہو۔ مَیں ماتمی لباس پہن کر یوں خاک میں جھک گیا جیسے اپنی ماں کا جنازہ ہو۔

¶ راست باز کو جو تھوڑا بہت حاصل ہے وہ بہت بےدینوں کی دولت سے بہتر ہے۔

¶ جب میری روح میرے اندر نڈھال ہو جاتی ہے تو تُو ہی میری راہ جانتا ہے۔ جس راستے میں مَیں چلتا ہوں اُس میں لوگوں نے پھندا چھپایا ہے۔

کیونکہ اُن کے پاؤں غلط کام کے پیچھے دوڑتے، خون بہانے کے لئے بھاگتے ہیں۔

¶ جس بھائی کو ایک دفعہ مایوس کر دیا جائے اُسے دوبارہ جیت لینا قلعہ بند شہر پر فتح پانے سے زیادہ دشوار ہے۔ جھگڑے حل کرنا بُرج کے کنڈے توڑنے کی طرح مشکل ہے۔

¶ ”رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ یہوداہ سے انتقام لینے سے ادوم نے سنگین گناہ کیا ہے۔

¶ رب فرماتا ہے، ”ادوم کے باشندوں نے بار بار گناہ کیا ہے، اِس لئے مَیں اُنہیں سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔ کیونکہ اُنہوں نے اپنے اسرائیلی بھائیوں کو تلوار سے مار مار کر اُن کا تعاقب کیا اور سختی سے اُن پر رحم کرنے سے انکار کیا۔ اُن کا قہر بھڑکتا رہا، اُن کا طیش کبھی ٹھنڈا نہ ہوا۔

غصے میں آتے وقت گناہ مت کرنا۔ آپ کا غصہ سورج کے غروب ہونے تک ٹھنڈا ہو جائے،

کیونکہ ایک وقت تھا جب ہم بھی ناسمجھ، نافرمان اور صحیح راہ سے بھٹکے ہوئے تھے۔ اُس وقت ہم کئی طرح کی شہوتوں اور غلط خواہشوں کی غلامی میں تھے۔ ہم بُرے کاموں اور حسد کرنے میں زندگی گزارتے تھے۔ دوسرے ہم سے نفرت کرتے تھے اور ہم بھی اُن سے نفرت کرتے تھے۔