اُس نے اُنہیں آسمان پر رکھا تاکہ وہ دنیا کو روشن کریں،
TSK
TSK · یسعیاہ 45:7
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
اِس طرح بادل مصریوں اور اسرائیلیوں کے لشکروں کے درمیان آ گیا۔ پوری رات مصریوں کی طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا جبکہ اسرائیلیوں کی طرف روشنی تھی۔ اِس لئے مصری پوری رات کے دوران اسرائیلیوں کے قریب نہ آ سکے۔
لیکن اُس نے جواب دیا، ”تُو احمق عورت کی سی باتیں کر رہی ہے۔ اللہ کی طرف سے بھلائی تو ہم قبول کرتے ہیں، تو کیا مناسب نہیں کہ اُس کے ہاتھ سے مصیبت بھی قبول کریں؟“ اِس سارے معاملے میں ایوب نے اپنے منہ سے گناہ نہ کیا۔
لیکن اگر وہ خاموش بھی رہے تو کون اُسے مجرم قرار دے سکتا ہے؟ اگر وہ اپنے چہرے کو چھپائے رکھے تو کون اُسے دیکھ سکتا ہے؟ وہ تو قوم پر بلکہ ہر فرد پر حکومت کرتا ہے
¶ رب اپنی قوم کو تقویت دے گا، رب اپنے لوگوں کو سلامتی کی برکت دے گا۔
¶ بلکہ اللہ سے جو منصف ہے۔ وہی ایک کو پست کر دیتا ہے اور دوسرے کو سرفراز۔
¶ اللہ کے کام کا ملاحظہ کر۔ جو کچھ اُس نے پیچ دار بنایا کون اُسے سلجھا سکتا ہے؟
لیکن اللہ بھی دانا ہے۔ وہ تم پر آفت لائے گا اور اپنا فرمان منسوخ نہیں کرے گا بلکہ شریروں کے گھر اور اُن کے معاونوں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو گا۔
اِس سے پہلے کہ تاریکی پھیل جائے اور تمہارے پاؤں دُھندلے پن میں پہاڑوں کے ساتھ ٹھوکر کھائیں، رب اپنے خدا کو جلال دو! کیونکہ اُس وقت گو تم روشنی کے انتظار میں رہو گے، لیکن اللہ اندھیرے کو مزید بڑھائے گا، گہری تاریکی تم پر چھا جائے گی۔
¶ رب فرماتا ہے، ”مَیں ہی نے مقرر کیا ہے کہ دن کے وقت سورج چمکے اور رات کے وقت چاند ستاروں سمیت روشنی دے۔ مَیں ہی سمندر کو یوں اُچھال دیتا ہوں کہ اُس کی موجیں گرجنے لگتی ہیں۔ رب الافواج ہی میرا نام ہے۔“
¶ آفتیں اور اچھی چیزیں دونوں اللہ تعالیٰ کے فرمان پر وجود میں آتی ہیں۔
جو کچھ بھی آسمان پر چمکتا دمکتا ہے اُسے مَیں تیرے باعث تاریک کر دوں گا۔ تیرے پورے ملک پر تاریکی چھا جائے گی۔ یہ رب قادرِ مطلق کا فرمان ہے۔
جب شہر میں نرسنگا پھونکا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو کسی خطرے سے آگاہ کرے تو کیا وہ نہیں گھبراتے؟ جب آفت شہر پر آتی ہے تو کیا رب کی طرف سے نہیں ہوتی؟
¶ رب کو تلاش کرو تو تم جیتے رہو گے۔ ورنہ وہ آگ کی طرح یوسف کے گھرانے میں سے گزر کر بیت ایل کو بھسم کرے گا، اور اُسے کوئی نہیں بجھا سکے گا۔
لیکن جو کچھ اُنہوں نے کیا وہ تُو نے اپنی قدرت اور مرضی سے پہلے ہی سے مقرر کیا تھا۔
ہر اچھی نعمت اور ہر اچھا تحفہ آسمان سے نازل ہوتا ہے، نوروں کے باپ سے، جس میں نہ کبھی تبدیلی آتی ہے، نہ بدلتے ہوئے سایوں کی سی حالت پائی جاتی ہے۔
یہ سمندر کی بےقابو لہروں کی مانند ہیں جو اپنی شرم ناک حرکتوں کی جھاگ اُچھالتی ہیں۔ یہ آوارہ ستارے ہیں جن کے لئے اللہ نے سب سے گہری تاریکی میں ایک دائمی جگہ مخصوص کی ہے۔