TSK

TSK · یسعیاہ 63:8

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

¶ رب نے کہا، ”مَیں نے مصر میں اپنی قوم کی بُری حالت دیکھی اور غلامی میں اُن کی چیخیں سنی ہیں، اور مَیں اُن کے دُکھوں کو خوب جانتا ہوں۔

مَیں تمہیں اپنی قوم بناؤں گا اور تمہارا خدا ہوں گا۔ تب تم جان لو گے کہ مَیں رب تمہارا خدا ہوں جس نے تمہیں مصریوں کے جوئے سے آزاد کر دیا ہے۔

¶ پھر اُس نے وہ کتاب لی جس میں رب کے ساتھ عہد کی تمام شرائط درج تھیں اور اُسے قوم کو پڑھ کر سنایا۔ جواب میں اُنہوں نے کہا، ”ہم رب کی اِن تمام باتوں پر عمل کریں گے۔ ہم اُس کی سنیں گے۔“

¶ اے اسرائیل، تُو کتنا مبارک ہے۔ کون تیری مانند ہے، جسے رب نے بچایا ہے۔ وہ تیری مدد کی ڈھال اور تیری شان کی تلوار ہے۔ تیرے دشمن شکست کھا کر تیری خوشامد کریں گے، اور تُو اُن کی کمریں پاؤں تلے کچلے گا۔“

¶ لیکن وہ منہ سے اُسے دھوکا دیتے، زبان سے اُسے جھوٹ پیش کرتے تھے۔

¶ اللہ میری نجات ہے۔ اُس پر بھروسا رکھ کر مَیں دہشت نہیں کھاؤں گا۔ کیونکہ رب خدا میری قوت اور میرا گیت ہے، وہ میری نجات بن گیا ہے۔“

کیونکہ مَیں رب تیرا خدا ہوں، مَیں اسرائیل کا قدوس اور تیرا نجات دہندہ ہوں۔ تجھے چھڑانے کے لئے مَیں عوضانہ کے طور پر مصر دیتا، تیری جگہ ایتھوپیا اور سِبا ادا کرتا ہوں۔

¶ ”اے میری قوم، مجھ پر دھیان دے! اے میری اُمّت، مجھ پر غور کر! کیونکہ ہدایت مجھ سے صادر ہو گی، اور میرا انصاف قوموں کی روشنی بنے گا۔

¶ اے رب، تاہم تُو ہی ہمارا باپ، ہمارا کمہار ہے۔ ہم سب مٹی ہی ہیں جسے تیرے ہاتھ نے تشکیل دیا ہے۔

¶ ”لیکن مَیں، رب تجھے مصر سے نکالتے وقت سے لے کر آج تک تیرا خدا ہوں۔ تجھے میرے سوا کسی اَور کو خدا نہیں جاننا ہے۔ میرے سوا اَور کوئی نجات دہندہ نہیں ہے۔

¶ جب عیسیٰ نے نتن ایل کو آتے دیکھا تو اُس نے کہا، ”لو، یہ سچا اسرائیلی ہے جس میں مکر نہیں۔“

¶ چونکہ یہودی اللہ کی خوش خبری قبول نہیں کرتے اِس لئے وہ اللہ کے دشمن ہیں، اور یہ بات آپ کے لئے فائدے کا باعث بن گئی ہے۔ توبھی وہ اللہ کو پیارے ہیں، اِس لئے کہ اُس نے اُن کے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو چن لیا تھا۔

ایک دوسرے سے بات کرتے وقت جھوٹ مت بولنا، کیونکہ آپ نے اپنی پرانی فطرت اُس کی حرکتوں سمیت اُتار دی ہے۔

اُس واحد خدا یعنی ہمارے نجات دہندہ کا جلال ہو۔ ہاں، ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے اُسے جلال، عظمت، قدرت اور اختیار ازل سے اب بھی ہو اور ابد تک رہے۔ آمین۔