ایک دن اُس نے اپنے گھر کے سب سے بزرگ نوکر سے جو اُس کی جائیداد کا پورا انتظام چلاتا تھا بات کی۔ ”قَسم کے لئے اپنا ہاتھ میری ران کے نیچے رکھو۔
TSK
TSK · امثال 27:18
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
یوسف یہاں تک مقبول ہوا کہ داروغے نے تمام قیدیوں کو اُس کے سپرد کر کے اُسے پورا انتظام چلانے کی ذمہ داری دی۔
¶ چنانچہ رب جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے، ’وعدہ تو مَیں نے کیا تھا کہ لاوی کے قبیلے کا تیرا گھرانا ہمیشہ ہی امام کی خدمت سرانجام دے گا۔ لیکن اب مَیں اعلان کرتا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا! کیونکہ جو میرا احترام کرتے ہیں اُن کا مَیں احترام کروں گا، لیکن جو مجھے حقیر جانتے ہیں اُنہیں حقیر جانا جائے گا۔
نعمان کے گھر میں ایک اسرائیلی لڑکی رہتی تھی۔ کسی وقت جب شام کے فوجیوں نے اسرائیل پر چھاپہ مارا تھا تو وہ اُسے گرفتار کر کے یہاں لے آئے تھے۔ اب لڑکی نعمان کی بیوی کی خدمت کرتی تھی۔
اب نعمان کی جِلدی بیماری ہمیشہ تک تمہیں اور تمہاری اولاد کو لگی رہے گی۔“ جب جیحازی کمرے سے نکلا تو جِلدی بیماری اُسے لگ چکی تھی۔ وہ برف کی طرح سفید ہو گیا تھا۔
¶ جس طرح غلام کی آنکھیں اپنے مالک کے ہاتھ کی طرف اور لونڈی کی آنکھیں اپنی مالکن کے ہاتھ کی طرف لگی رہتی ہیں اُسی طرح ہماری آنکھیں رب اپنے خدا پر لگی رہتی ہیں، جب تک وہ ہم پر مہربانی نہ کرے۔
¶ کیا تجھے ایسا آدمی نظر آتا ہے جو اپنے کام میں ماہر ہے؟ وہ نچلے طبقے کے لوگوں کی خدمت نہیں کرے گا بلکہ بادشاہوں کی۔
دیکھو، مَیں نے تمہیں پہلے سے اِس سے آگاہ کر دیا ہے۔
اُس کے مالک نے جواب دیا، ’شاباش، میرے اچھے اور وفادار نوکر۔ تم تھوڑے میں وفادار رہے، اِس لئے مَیں تمہیں بہت کچھ پر مقرر کروں گا۔ اندر آؤ اور اپنے مالک کی خوشی میں شریک ہو جاؤ۔‘
وہ نوکر مبارک ہیں جنہیں مالک آ کر جاگتے ہوئے اور چوکس پائے گا۔ مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ یہ دیکھ کر مالک اپنے کپڑے بدل کر اُنہیں بٹھائے گا اور میز پر اُن کی خدمت کرے گا۔
مالک نے کہا، ’شاباش، اچھے نوکر۔ تُو تھوڑے میں وفادار رہا، اِس لئے اب تجھے دس شہروں پر اختیار ملے گا۔‘
¶ جوں ہی فرشتہ چلا گیا کُرنیلیُس نے دو نوکروں اور اپنے خدمت گار فوجیوں میں سے ایک خدا ترس آدمی کو بُلایا۔
کون سا فوجی اپنے خرچ پر جنگ لڑتا ہے؟ کون انگور کا باغ لگا کر اُس کے پھل سے اپنا حصہ نہیں پاتا؟ یا کون ریوڑ کی گلہ بانی کر کے اُس کے دودھ سے اپنا حصہ نہیں پاتا؟
¶ غلامو، ہر بات میں اپنے دنیاوی مالکوں کے تابع رہیں۔ نہ صرف اُن کے سامنے ہی اور اُنہیں خوش رکھنے کے لئے خدمت کریں بلکہ خلوص دلی اور خداوند کا خوف مان کر کام کریں۔
¶ اے غلامو، ہر لحاظ سے اپنے مالکوں کا احترام کر کے اُن کے تابع رہیں۔ اور یہ سلوک نہ صرف اُن کے ساتھ ہو جو نیک اور نرم دل ہیں بلکہ اُن کے ساتھ بھی جو ظالم ہیں۔