¶ صندوق کا ڈھکنا خالص سونے کا بنانا۔ اُس کی لمبائی پونے چار فٹ اور چوڑائی سوا دو فٹ ہو۔ اُس کا نام کفارے کا ڈھکنا ہے۔
TSK
TSK · رومیوں 3:25
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ ہاں، وہ آ کر اُس کی راستی ایک قوم کو سنائیں گے جو ابھی پیدا نہیں ہوئی، کیونکہ اُس نے یہ کچھ کیا ہے۔
¶ آسمان اُس کی راستی کا اعلان کریں گے، کیونکہ اللہ خود انصاف کرنے والا ہے۔ (سِلاہ)
¶ تیری راستی ابدی ہے، اور تیری شریعت سچائی ہے۔
مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ جو ایمان رکھتا ہے اُسے ابدی زندگی حاصل ہے۔
لیکن اللہ کو پہلے ہی علم تھا کہ کیا ہونا ہے، کیونکہ اُس نے خود اپنی مرضی سے مقرر کیا تھا کہ عیسیٰ کو دشمن کے حوالے کر دیا جائے۔ چنانچہ آپ نے بےدین لوگوں کے ذریعے اُسے صلیب پر چڑھوا کر قتل کیا۔
لیکن جو کچھ اُنہوں نے کیا وہ تُو نے اپنی قدرت اور مرضی سے پہلے ہی سے مقرر کیا تھا۔
¶ بلکہ یہ اُسے ازل سے معلوم ہے۔
یا کیا تُو اُس کی وسیع مہربانی، تحمل اور صبر کو حقیر جانتا ہے؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کی مہربانی تجھے توبہ تک لے جانا چاہتی ہے؟
اور اب موجودہ زمانے میں بھی۔ اِس سے وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ راست ہے اور ہر ایک کو راست باز ٹھہراتا ہے جو عیسیٰ پر ایمان لایا ہے۔
¶ اب چونکہ ہمیں ایمان سے راست باز قرار دیا گیا ہے اِس لئے اللہ کے ساتھ ہماری صلح ہے۔ اِس صلح کا وسیلہ ہمارا خداوند عیسیٰ مسیح ہے۔
نہ صرف یہ بلکہ اب ہم اللہ پر فخر کرتے ہیں اور یہ ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے ہے، جس نے ہماری صلح کرائی ہے۔
ہم اِس قابلِ قبول بات پر پورا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ مسیح عیسیٰ گناہ گاروں کو نجات دینے کے لئے اِس دنیا میں آیا۔ اُن میں سے مَیں سب سے بڑا گناہ گار ہوں،
اگر اِن چیزوں کا یہ اثر تھا تو پھر مسیح کے خون کا کیا زبردست اثر ہو گا! ازلی روح کے ذریعے اُس نے اپنے آپ کو بےداغ قربانی کے طور پر پیش کیا۔ یوں اُس کا خون ہمارے ضمیر کو موت تک پہنچانے والے کاموں سے پاک صاف کرتا ہے تاکہ ہم زندہ خدا کی خدمت کر سکیں۔
کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ بَیل بکروں کا خون گناہوں کو دُور کرے۔
¶ یہ ایمان کا کام تھا کہ نوح نے اللہ کی سنی جب اُس نے اُسے آنے والی باتوں کے بارے میں آگاہ کیا، ایسی باتوں کے بارے میں جو ابھی دیکھنے میں نہیں آئی تھیں۔ نوح نے خدا کا خوف مان کر ایک کشتی بنائی تاکہ اُس کا خاندان بچ جائے۔ یوں اُس نے اپنے ایمان کے ذریعے دنیا کو مجرم قرار دیا اور اُس راست بازی کا وارث بن گیا جو ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔
¶ یہ ایمان کا کام تھا کہ ابراہیم نے اُس وقت اسحاق کو قربانی کے طور پر پیش کیا جب اللہ نے اُسے آزمایا۔ ہاں، وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے تیار تھا اگرچہ اُسے اللہ کے وعدے مل گئے تھے
کیونکہ آپ خود جانتے ہیں کہ آپ کو باپ دادا کی بےمعنی زندگی سے چھڑانے کے لئے کیا فدیہ دیا گیا۔ یہ سونے یا چاندی جیسی فانی چیز نہیں تھی
وہی ہمارے گناہوں کا کفارہ دینے والی قربانی ہے، اور نہ صرف ہمارے گناہوں کا بلکہ پوری دنیا کے گناہوں کا بھی۔
ساتھ ساتھ وہ ایک نیا گیت گانے لگے، ”تُو طومار کو لے کر اُس کی مُہروں کو کھولنے کے لائق ہے۔ کیونکہ تجھے ذبح کیا گیا، اور اپنے خون سے تُو نے لوگوں کو ہر قبیلے، ہر اہلِ زبان، ہر ملت اور ہر قوم سے اللہ کے لئے خرید لیا ہے۔
جس کسی کا نام کتابِ حیات میں درج نہیں تھا اُسے جلتی ہوئی جھیل میں پھینکا گیا۔