TSK

TSK · یعقوب 3:17

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ موسیٰ نے بضلی ایل اور اُہلیاب کو بُلایا۔ ساتھ ہی اُس نے ہر اُس کاری گر کو بھی بُلایا جسے رب نے مقدِس کی تعمیر کے لئے حکمت اور مہارت دی تھی اور جو خوشی سے آنا اور یہ کام کرنا چاہتا تھا۔

اِس لئے مَیں تیری درخواست پوری کر کے تجھے اِتنا دانش مند اور سمجھ دار بنا دوں گا کہ اُتنا نہ ماضی میں کوئی تھا، نہ مستقبل میں کبھی کوئی ہو گا۔

لیکن تیرے ایک بیٹا پیدا ہو گا جو امن پسند ہو گا۔ اُسے مَیں امن و امان مہیا کروں گا، اُسے چاروں طرف کے دشمنوں سے لڑنا نہیں پڑے گا۔ اُس کا نام سلیمان ہو گا، اور اُس کی حکومت کے دوران مَیں اسرائیل کو امن و امان عطا کروں گا۔

¶ لیکن حکمت کہاں پائی جاتی ہے، سمجھ کہاں سے ملتی ہے؟

انسان سے اُس نے کہا، ’سنو، اللہ کا خوف ماننا ہی حکمت اور بُرائی سے دُور رہنا ہی سمجھ ہے‘۔“

¶ رب بین الاقوامی جھگڑوں کو نپٹائے گا اور بےشمار قوموں کا انصاف کرے گا۔ تب وہ اپنی تلواروں کو کوٹ کر پھالے بنائیں گی اور اپنے نیزوں کو کانٹ چھانٹ کے اوزار میں تبدیل کریں گی۔ اب سے نہ ایک قوم دوسری پر حملہ کرے گی، نہ لوگ جنگ کرنے کی تربیت حاصل کریں گے۔

رب کا روح اُس پر ٹھہرے گا یعنی حکمت اور سمجھ کا روح، مشورت اور قوت کا روح، عرفان اور رب کے خوف کا روح۔

¶ جب تک اللہ اپنا روح ہم پر نازل نہ کرے اُس وقت تک حالات ایسے ہی رہیں گے۔ لیکن پھر ریگستان باغ میں تبدیل ہو جائے گا، اور باغ کے پھل دار درخت جنگل جیسے گھنے ہو جائیں گے۔

اللہ نے اِن چار آدمیوں کو ادب اور حکمت کے ہر شعبے میں علم اور سمجھ عطا کی۔ نیز، دانیال ہر قسم کی رویا اور خواب کی تعبیر کر سکتا تھا۔

وہ بیٹھ کر چاندی کو پگھلا کر پاک صاف کرے گا۔ جس طرح سونے چاندی کو پگھلا کر پاک صاف کیا جاتا ہے اُسی طرح وہ لاوی کے قبیلے کو پاک صاف کرے گا۔ تب وہ رب کو راست قربانیاں پیش کریں گے۔

تم بھی باہر سے راست باز دکھائی دیتے ہو جبکہ اندر سے تم ریاکاری اور بےدینی سے معمور ہوتے ہو۔

¶ اِتنے میں کئی ہزار لوگ جمع ہو گئے تھے۔ بڑی تعداد کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ پھر عیسیٰ اپنے شاگردوں سے یہ بات کرنے لگا، ”فریسیوں کے خمیر یعنی ریاکاری سے خبردار!

¶ کلام انسان بن کر ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا اور ہم نے اُس کے جلال کا مشاہدہ کیا۔ وہ فضل اور سچائی سے معمور تھا اور اُس کا جلال باپ کے اکلوتے فرزند کا سا تھا۔

¶ یافا میں ایک عورت تھی جو شاگرد تھی اور نیک کام کرنے اور خیرات دینے میں بہت آگے تھی۔ اُس کا نام تبیتا (غزالہ) تھا۔

¶ آپ کی محبت محض دکھاوے کی نہ ہو۔ جو کچھ بُرا ہے اُس سے نفرت کریں اور جو کچھ اچھا ہے اُس کے ساتھ لپٹے رہیں۔

¶ میرے بھائیو، مجھے پورا یقین ہے کہ آپ خود بھلائی سے معمور ہیں، کہ آپ ہر طرح کا علم و عرفان رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو نصیحت کرنے کے قابل بھی ہیں۔

ایک کو روح القدس حکمت کا کلام عطا کرتا ہے، دوسرے کو وہی روح علم و عرفان کا کلام۔

خدا ہی بیج بونے والے کو بیج مہیا کرتا اور اُسے کھانے کے لئے روٹی دیتا ہے۔ اور وہ آپ کو بھی بیج دے کر اُس میں اضافہ کرے گا اور آپ کی راست بازی کی فصل اُگنے دے گا۔

¶ روح القدس کا پھل فرق ہے۔ وہ محبت، خوشی، صلح سلامتی، صبر، مہربانی، نیکی، وفاداری،

اور یوں آپ اُس راست بازی کے پھل سے بھرے رہیں گے جو آپ کو عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے حاصل ہوتی ہے۔ پھر آپ اپنی زندگی سے اللہ کو جلال دیں گے اور اُس کی تمجید کریں گے۔

کیونکہ پھر ہی آپ اپنی زندگی خداوند کے لائق گزار سکیں گے اور ہر طرح سے اُسے پسند آئیں گے۔ ہاں، آپ ہر قسم کا اچھا کام کر کے پھل لائیں گے اور اللہ کے علم و عرفان میں ترقی کریں گے۔

¶ اللہ اور مسیح عیسیٰ اور اُس کے چنیدہ فرشتوں کے سامنے مَیں سنجیدگی سے تاکید کرتا ہوں کہ اِن ہدایات کی یوں پیروی کریں کہ آپ کسی معاملے سے صحیح طور پر واقف ہونے سے پیشتر فیصلہ نہ کریں، نہ جانب داری کا شکار ہو جائیں۔

جو لوگ پاک صاف ہیں اُن کے لئے سب کچھ پاک ہے۔ لیکن جو ناپاک اور ایمان سے خالی ہیں اُن کے لئے کچھ بھی پاک نہیں ہوتا بلکہ اُن کا ذہن اور اُن کا ضمیر دونوں ناپاک ہو گئے ہیں۔

جب ہماری تربیت کی جاتی ہے تو اُس وقت ہم خوشی محسوس نہیں کرتے بلکہ غم۔ لیکن جن کی تربیت اِس طرح ہوتی ہے وہ بعد میں راست بازی اور سلامتی کی فصل کاٹتے ہیں۔

لیکن اگر آپ میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو اللہ سے مانگے جو سب کو فیاضی سے اور بغیر جھڑکی دیئے دیتا ہے۔ وہ ضرور آپ کو حکمت دے گا۔

کیا آپ ایسا کرنے سے مجرمانہ خیالات والے منصف نہیں ثابت ہوئے؟ کیونکہ آپ نے لوگوں میں ناروا فرق کیا ہے۔

اللہ کے قریب آ جائیں تو وہ آپ کے قریب آئے گا۔ گناہ گارو، اپنے ہاتھوں کو پاک صاف کریں۔ دو دلو، اپنے دلوں کو مخصوص و مُقدّس کریں۔

¶ چنانچہ اپنی زندگی سے تمام طرح کی بُرائی، دھوکے بازی، ریاکاری، حسد اور بہتان نکالیں۔

پیارے بچو، آئیں ہم الفاظ اور باتوں سے محبت کا اظہار نہ کریں بلکہ ہماری محبت عملی اور حقیقی ہو۔