TSK

TSK · یوحنا 7:28

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ اے رب، جو تیرا نام جانتے وہ تجھ پر بھروسا رکھتے ہیں۔ کیونکہ جو تیرے طالب ہیں اُنہیں تُو نے کبھی ترک نہیں کیا۔

اے یرمیاہ، تُو فریب سے گھرا رہتا ہے، اور یہ لوگ فریب کے باعث ہی مجھے جاننے سے انکار کرتے ہیں۔“

¶ اے اسرائیلیو، رب کا کلام سنو! کیونکہ رب کا ملک کے باشندوں سے مقدمہ ہے۔ ”الزام یہ ہے کہ ملک میں نہ وفاداری، نہ مہربانی اور نہ اللہ کا عرفان ہے۔

آؤ، ہم اُسے جان لیں، ہم پوری جد و جہد کے ساتھ رب کو جاننے کے لئے کوشاں رہیں۔ وہ ضرور ہم پر ظاہر ہو گا۔ یہ اُتنا یقینی ہے جتنا سورج کا روزانہ طلوع ہونا یقینی ہے۔ جس طرح موسمِ بہار کی تیز بارش زمین کو سیراب کرتی ہے اُسی طرح اللہ بھی ہمارے پاس آئے گا۔“

¶ میرے باپ نے سب کچھ میرے سپرد کر دیا ہے۔ کوئی بھی فرزند کو نہیں جانتا سوائے باپ کے۔ اور کوئی باپ کو نہیں جانتا سوائے فرزند کے اور اُن لوگوں کے جن پر فرزند باپ کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔

آج ہی داؤد کے شہر میں تمہارے لئے نجات دہندہ پیدا ہوا ہے یعنی مسیح خداوند۔

¶ پھر وہ اُن کے ساتھ روانہ ہو کر ناصرت واپس آیا اور اُن کے تابع رہا۔ لیکن اُس کی ماں نے یہ تمام باتیں اپنے دل میں محفوظ رکھیں۔

¶ نتن ایل نے کہا، ”ناصرت؟ کیا ناصرت سے کوئی اچھی چیز نکل سکتی ہے؟“ فلپّس نے جواب دیا، ”آ اور خود دیکھ لے۔“

لیکن جس نے اُسے قبول کیا اُس نے اِس کی تصدیق کی ہے کہ اللہ سچا ہے۔

اگرچہ مَیں اپنے باپ کے نام میں آیا ہوں توبھی تم مجھے قبول نہیں کرتے۔ اِس کے مقابلے میں اگر کوئی اپنے نام میں آئے گا تو تم اُسے قبول کرو گے۔

¶ عیسیٰ نے جواب دیا، ”اگرچہ مَیں اپنے بارے میں ہی گواہی دے رہا ہوں توبھی وہ معتبر ہے۔ کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ مَیں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں کو جا رہا ہوں۔ لیکن تم کو تو معلوم نہیں کہ مَیں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جا رہا ہوں۔

¶ اُنہوں نے پوچھا، ”آپ کا باپ کہاں ہے؟“ عیسیٰ نے جواب دیا، ”تم نہ مجھے جانتے ہو، نہ میرے باپ کو۔ اگر تم مجھے جانتے تو پھر میرے باپ کو بھی جانتے۔“

¶ عیسیٰ نے اُن سے کہا، ”اگر اللہ تمہارا باپ ہوتا تو تم مجھ سے محبت رکھتے، کیونکہ مَیں اللہ میں سے نکل آیا ہوں۔ مَیں اپنی طرف سے نہیں آیا بلکہ اُسی نے مجھے بھیجا ہے۔

تو پھر تم کفر بکنے کی بات کیوں کرتے ہو جب مَیں کہتا ہوں کہ مَیں اللہ کا فرزند ہوں؟ آخر باپ نے خود مجھے مخصوص کر کے دنیا میں بھیجا ہے۔

کیا تُو ایمان نہیں رکھتا کہ مَیں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے؟ جو باتیں مَیں تم کو بتاتا ہوں وہ میری نہیں بلکہ مجھ میں رہنے والے باپ کی طرف سے ہیں۔ وہی اپنا کام کر رہا ہے۔

وہ اِس قسم کی حرکتیں اِس لئے کریں گے کہ اُنہوں نے نہ باپ کو جانا ہے، نہ مجھے۔

اے راست باپ، دنیا تجھے نہیں جانتی، لیکن مَیں تجھے جانتا ہوں۔ اور یہ شاگرد جانتے ہیں کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے۔

¶ اور چونکہ اُنہوں نے اللہ کو جاننے سے انکار کر دیا اِس لئے اُس نے اُنہیں اُن کی مکروہ سوچ میں چھوڑ دیا۔ اور اِس لئے وہ ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں جو کبھی نہیں کرنی چاہئیں۔

لیکن اللہ وفادار ہے اور وہ میرا گواہ ہے کہ ہم آپ کے ساتھ بات کرتے وقت ”نہیں“ کو ”ہاں“ کے ساتھ نہیں ملاتے۔

¶ کیونکہ اِس سے اُنہیں ابدی زندگی کی اُمید دلائی جاتی ہے، ایسی زندگی کی جس کا وعدہ اللہ نے دنیا کے زمانوں سے پیشتر ہی کیا تھا۔ اور وہ جھوٹ نہیں بولتا۔

¶ اِس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم نے اُسے جان لیا ہے، جب ہم اُس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔