¶ گو سمندر شور مچا کر ٹھاٹھیں مارے اور پہاڑ اُس کی دہاڑوں سے کانپ اُٹھیں۔ (سِلاہ)
TSK
TSK · لوقا 21:25
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ اُس دن دشمن غُراتے اور متلاطم سمندر کا سا شور مچاتے ہوئے اسرائیل پر ٹوٹ پڑیں گے۔ جہاں بھی دیکھو وہاں اندھیرا ہی اندھیرا اور مصیبت ہی مصیبت۔ بادل چھا جانے کے سبب سے روشنی تاریک ہو جائے گی۔
¶ کیونکہ آسمان رب الافواج کے قہر کے سامنے کانپ اُٹھے گا، اُس کے شدید غضب کے نازل ہونے پر زمین لرز کر اپنی جگہ سے کھسک جائے گی۔
اُس وقت چاند نادم ہو گا اور سورج شرم کھائے گا، کیونکہ رب الافواج کوہِ صیون پر تخت نشین ہو گا۔ وہاں یروشلم میں وہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ اپنے بزرگوں کے سامنے حکومت کرے گا۔
¶ مَیں نے ملک پر نظر ڈالی تو ویران و سنسان تھا۔ جب آسمان کی طرف دیکھا تو اندھیرا تھا۔
¶ اُس وقت فرشتوں کا عظیم سردار میکائیل اُٹھ کھڑا ہو گا، وہ جو تیری قوم کی شفاعت کرتا ہے۔ مصیبت کا ایسا وقت ہو گا کہ قوموں کے پیدا ہونے سے لے کر اُس وقت تک نہیں ہوا ہو گا۔ لیکن ساتھ ساتھ تیری قوم کو نجات ملے گی۔ جس کا بھی نام اللہ کی کتاب میں درج ہے وہ نجات پائے گا۔
¶ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے، ”اُس دن مَیں ہونے دوں گا کہ سورج دوپہر کے وقت غروب ہو جائے۔ دن عروج پر ہی ہو گا تو زمین پر اندھیرا چھا جائے گا۔
¶ مصیبت کے اُن دنوں کے عین بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی۔ ستارے آسمان پر سے گر پڑیں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔
¶ مصیبت کے اُن دنوں کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی۔
¶ دوپہر بارہ بجے پورا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا۔ یہ تاریکی تین گھنٹوں تک رہی۔
¶ لیکن خداوند کا دن چور کی طرح آئے گا۔ آسمان بڑے شور کے ساتھ ختم ہو جائیں گے، اجرامِ فلکی آگ میں پگھل جائیں گے اور زمین اُس کے کاموں سمیت ظاہر ہو کر عدالت میں پیش کی جائے گی۔
¶ پھر مَیں نے ایک بڑا سفید تخت دیکھا اور اُسے جو اُس پر بیٹھا ہے۔ آسمان و زمین اُس کے حضور سے بھاگ کر غائب ہو گئے۔