TSK

TSK · مکاشفہ 21:6

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ کیونکہ زندگی کا سرچشمہ تیرے ہی پاس ہے، اور ہم تیرے نور میں رہ کر نور کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

¶ ”کیا تم پیاسے ہو؟ آؤ، سب پانی کے پاس آؤ! کیا تمہارے پاس پیسے نہیں؟ اِدھر آؤ، سودا خرید کر کھانا کھاؤ۔ یہاں کی مَے اور دودھ مفت ہے۔ آؤ، اُسے پیسے دیئے بغیر خریدو۔

¶ تب رب فرمائے گا، ”مَیں اُن کی بےوفائی کے اثرات ختم کر کے اُنہیں شفا دوں گا، ہاں مَیں اُنہیں کھلے دل سے پیار کروں گا، کیونکہ میرا اُن پر غضب ٹھنڈا ہو گیا ہے۔

¶ عیسیٰ نے جواب دیا، ”اگر تُو اُس بخشش سے واقف ہوتی جو اللہ تجھ کو دینا چاہتا ہے اور تُو اُسے جانتی جو تجھ سے پانی مانگ رہا ہے تو تُو اُس سے مانگتی اور وہ تجھے زندگی کا پانی دیتا۔“

¶ عید کے آخری دن جو سب سے اہم ہے عیسیٰ کھڑا ہوا اور اونچی آواز سے پکار اُٹھا، ”جو پیاسا ہو وہ میرے پاس آئے،

اُس نے اپنے فرزند کو بھی دریغ نہ کیا بلکہ اُسے ہم سب کے لئے دشمن کے حوالے کر دیا۔ جس نے ہمیں اپنے فرزند کو دے دیا کیا وہ ہمیں اُس کے ساتھ سب کچھ مفت نہیں دے گا؟

¶ اپلّوس کی کیا حیثیت ہے اور پولس کی کیا؟ دونوں نوکر ہیں جن کے وسیلے سے آپ ایمان لائے۔ اور ہم میں سے ہر ایک نے وہی خدمت انجام دی جو خداوند نے اُس کے سپرد کی۔

غرض کوئی کسی انسان کے بارے میں شیخی نہ مارے۔ سب کچھ تو آپ کا ہے۔

¶ رب خدا فرماتا ہے، ”مَیں اوّل اور آخر ہوں، وہ جو ہے، جو تھا اور جو آنے والا ہے، یعنی قادرِ مطلق خدا۔“

اُسے دیکھتے ہی مَیں اُس کے پاؤں میں گر گیا۔ مَیں مُردہ سا تھا۔ پھر اُس نے اپنا دہنا ہاتھ مجھ پر رکھ کر کہا، ”مت ڈر۔ مَیں اوّل اور آخر ہوں۔

اللہ کے نام کی قَسم کھائی، اُس کے نام کی جو ازل سے ابد تک زندہ ہے اور جس نے آسمانوں، زمین اور سمندر کو اُن تمام چیزوں سمیت خلق کیا جو اُن میں ہیں۔ فرشتے نے کہا، ”اب دیر نہیں ہو گی۔

مَیں الف اور ے، اوّل اور آخر، ابتدا اور انتہا ہوں۔“