اللہ نے موسیٰ سے کہا، ”مَیں نے دیکھا ہے کہ یہ قوم بڑی ہٹ دھرم ہے۔
TSK
TSK · اعمال 13:46
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ بےدین فرار ہو جاتا ہے حالانکہ تعاقب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، لیکن راست باز اپنے آپ کو جوان شیرببر کی طرح محفوظ سمجھتا ہے۔
دیکھ، تُو ایسی قوم کو بُلائے گا جسے تُو نہیں جانتا، اور تجھ سے ناواقف قوم رب تیرے خدا کی خاطر تیرے پاس دوڑی چلی آئے گی۔ کیونکہ جو اسرائیل کا قدوس ہے اُس نے تجھے شان و شوکت عطا کی ہے۔“
اگر وہ گھر اِس لائق ہو گا تو جو سلامتی تم نے اُس کے لئے مانگی ہے وہ اُس پر آ کر ٹھہری رہے گی۔ اگر نہیں تو یہ سلامتی تمہارے پاس لوٹ آئے گی۔
باقیوں نے بادشاہ کے نوکروں کو پکڑ لیا اور اُن سے بُرا سلوک کر کے اُنہیں قتل کیا۔
پھر یروشلم سے شروع کر کے اُس کے نام میں یہ پیغام تمام قوموں کو سنایا جائے گا کہ وہ توبہ کر کے گناہوں کی معافی پائیں۔
تم سامری اُس کی پرستش کرتے ہو جسے نہیں جانتے۔ اِس کے مقابلے میں ہم اُس کی پرستش کرتے ہیں جسے جانتے ہیں، کیونکہ نجات یہودیوں میں سے ہے۔
¶ پطرس اور یوحنا کی باتیں سن کر لوگ حیران ہوئے کیونکہ وہ دلیری سے بات کر رہے تھے اگرچہ وہ نہ تو عالِم تھے، نہ اُنہوں نے شریعت کی خاص تعلیم پائی تھی۔ ساتھ ساتھ سننے والوں نے یہ بھی جان لیا کہ دونوں عیسیٰ کے ساتھی ہیں۔
¶ اے گردن کش لوگو! بےشک آپ کا ختنہ ہوا ہے جو اللہ کی قوم کا ظاہری نشان ہے۔ لیکن اُس کا آپ کے دلوں اور کانوں پر کچھ بھی اثر نہیں ہوا۔ آپ اپنے باپ دادا کی طرح ہمیشہ روح القدس کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔
لیکن پولس اور برنباس آگے نکل کر پسدیہ میں واقع شہر انطاکیہ پہنچے جہاں وہ سبت کے دن یہودی عبادت خانے میں جا کر بیٹھ گئے۔
¶ جب سیلاس اور تیمُتھیُس مکدُنیہ سے آئے تو پولس اپنا پورا وقت کلام سنانے میں صرف کرنے لگا۔ اُس نے یہودیوں کو گواہی دی کہ عیسیٰ کلامِ مُقدّس میں بیان کیا گیا مسیح ہے۔
بلکہ اِس بات کی منادی کی کہ لوگ توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کریں اور اپنے عمل سے اپنی تبدیلی کا اظہار بھی کریں۔ مَیں نے اِس کی تبلیغ پہلے دمشق میں کی، پھر یروشلم اور پورے یہودیہ میں اور اِس کے بعد غیریہودی قوموں میں بھی۔
¶ مَیں تو خوش خبری کے سبب سے شرماتا نہیں، کیونکہ یہ اللہ کی قدرت ہے جو ہر ایک کو جو ایمان لاتا ہے نجات دیتی ہے، پہلے یہودیوں کو، پھر غیریہودیوں کو۔
اللہ نے اُن ہی کو جو اسرائیلی ہیں اپنے فرزند بننے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اُن ہی پر اُس نے اپنا جلال ظاہر کیا، اُن ہی کے ساتھ اپنے عہد باندھے اور اُن ہی کو شریعت عطا کی۔ وہی حقیقی عبادت اور اللہ کے وعدوں کے حق دار ہیں،
¶ تو کیا اللہ کی قوم ٹھوکر کھا کر یوں گر گئی کہ کبھی بحال نہیں ہو گی؟ ہرگز نہیں! اُس کی خطاؤں کی وجہ سے اللہ نے غیریہودیوں کو نجات پانے کا موقع دیا تاکہ اسرائیلی غیرت کھائیں۔
اور میرے قید میں ہونے کی وجہ سے خداوند میں زیادہ تر بھائیوں کا اعتماد اِتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ مزید دلیری کے ساتھ بلاخوف اللہ کا کلام سناتے ہیں۔