¶ اِن بارہ مردوں کو عیسیٰ نے بھیج دیا۔ ساتھ ساتھ اُس نے اُنہیں ہدایت دی، ”غیریہودی آبادیوں میں نہ جانا، نہ کسی سامری شہر میں،
TSK
TSK · اعمال 8:5
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
لیکن تمہیں روح القدس کی قوت ملے گی جو تم پر نازل ہو گا۔ پھر تم یروشلم، پورے یہودیہ اور سامریہ بلکہ دنیا کی انتہا تک میرے گواہ ہو گے۔“
¶ یہ بات پوری جماعت کو پسند آئی اور اُنہوں نے سات آدمی چن لئے: ستفنس (جو ایمان اور روح القدس سے معمور تھا)، فلپّس، پرخرس، نیکانور، تیمون، پرمناس اور انطاکیہ کا نیکلاؤس۔ (نیکلاؤس غیریہودی تھا جس نے عیسیٰ پر ایمان لانے سے پہلے یہودی مذہب کو اپنا لیا تھا۔)
¶ جب یروشلم میں رسولوں نے سنا کہ سامریہ نے اللہ کا کلام قبول کر لیا ہے تو اُنہوں نے پطرس اور یوحنا کو اُن کے پاس بھیج دیا۔
اِتنے میں فلپّس کو اشدود شہر میں پایا گیا۔ وہ وہاں اور قیصریہ تک کے تمام شہروں میں سے گزر کر اللہ کی خوش خبری سناتا گیا۔
اپنی عادت کے مطابق پولس اُس میں گیا اور لگاتار تین سبتوں کے دوران کلامِ مُقدّس سے دلائل دے دے کر یہودیوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
اِس کے مقابلے میں ہم مسیحِ مصلوب کی منادی کرتے ہیں۔ یہودی اِس سے ٹھوکر کھا کر ناراض ہو جاتے ہیں جبکہ غیریہودی اِسے بےوقوفی قرار دیتے ہیں۔
کیونکہ بنیاد رکھی جا چکی ہے اور وہ ہے عیسیٰ مسیح۔ اِس کے علاوہ کوئی بھی مزید کوئی بنیاد نہیں رکھ سکتا۔