TSK

TSK · پَیدایش 6:17

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

اُس نے کہا، ”گو مَیں ہی نے انسان کو خلق کیا مَیں اُسے رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالوں گا۔ مَیں نہ صرف لوگوں کو بلکہ زمین پر چلنے پھرنے اور رینگنے والے جانوروں اور ہَوا کے پرندوں کو بھی ہلاک کر دوں گا، کیونکہ مَیں پچھتاتا ہوں کہ مَیں نے اُن کو بنایا۔“

ایک ہفتے کے بعد مَیں چالیس دن اور چالیس رات متواتر بارش برساؤں گا۔ اِس سے مَیں تمام جانداروں کو رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالوں گا، اگرچہ مَیں ہی نے اُنہیں بنایا ہے۔“

¶ چالیس دن تک طوفانی سیلاب جاری رہا۔ پانی چڑھا تو اُس نے کشتی کو زمین پر سے اُٹھا لیا۔

یوں ہر مخلوق کو رُوئے زمین پر سے مٹا دیا گیا۔ انسان، زمین پر پھرنے اور رینگنے والے جانور اور پرندے، سب کچھ ختم کر دیا گیا۔ صرف نوح اور کشتی میں سوار اُس کے ساتھی بچ گئے۔

مَیں مصریوں کو اَڑے رہنے دوں گا تاکہ وہ اسرائیلیوں کا پیچھا کریں۔ پھر مَیں فرعون، اُس کی ساری فوج، اُس کے رتھوں اور اُس کے سواروں پر اپنا جلال ظاہر کروں گا۔

¶ اب جان لو کہ مَیں اور صرف مَیں خدا ہوں۔ میرے سوا کوئی اَور خدا نہیں ہے۔ مَیں ہی ہلاک کرتا اور مَیں ہی زندہ کر دیتا ہوں۔ مَیں ہی زخمی کرتا اور مَیں ہی شفا دیتا ہوں۔ کوئی میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا۔

¶ رب سیلاب کے اوپر تخت نشین ہے، رب بادشاہ کی حیثیت سے ابد تک تخت نشین ہے۔

¶ باشندوں کی بُرائی دیکھ کر وہ زرخیز زمین کو کلر کے بیابان میں بدل دیتا ہے۔

¶ ”بڑے سیلاب کے بعد مَیں نے نوح سے قَسم کھائی تھی کہ آئندہ سیلاب کبھی پوری زمین پر نہیں آئے گا۔ اِسی طرح اب مَیں قَسم کھا کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ نہ مَیں کبھی تجھ سے ناراض ہوں گا، نہ تجھے ملامت کروں گا۔

اُن سے کہہ، ’اے اسرائیل کے پہاڑو، رب قادرِ مطلق کا کلام سنو! وہ پہاڑوں، پہاڑیوں، گھاٹیوں اور وادیوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ مَیں تمہارے خلاف تلوار چلا کر تمہاری اونچی جگہوں کے مندروں کو تباہ کر دوں گا۔

¶ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ جہاں موٹی اور دُبلی بھیڑبکریوں کے درمیان ناانصافی ہے وہاں مَیں خود فیصلہ کروں گا۔

¶ وہ آسمان پر اپنا بالاخانہ تعمیر کرتا اور زمین پر اپنے تہہ خانے کی بنیاد ڈالتا ہے۔ وہ سمندر کا پانی بُلا کر رُوئے زمین پر اُنڈیل دیتا ہے۔ اُسی کا نام رب ہے!

لوگ اُس دن تک کھانے پینے اور شادی کرنے کروانے میں لگے رہے جب تک نوح کشتی میں داخل نہ ہو گیا۔ پھر سیلاب نے آ کر اُن سب کو تباہ کر دیا۔

چنانچہ جس طرح گناہ موت کی صورت میں حکومت کرتا تھا اُسی طرح اب اللہ کا فضل ہمیں راست باز ٹھہرا کر حکومت کرتا ہے۔ یوں ہمیں اپنے خداوند عیسیٰ مسیح کی بدولت ابدی زندگی حاصل ہوتی ہے۔

کیونکہ کائنات اللہ کی لعنت کے تحت آ کر فانی ہو گئی ہے۔ یہ اُس کی اپنی نہیں بلکہ اللہ کی مرضی تھی جس نے اُس پر یہ لعنت بھیجی۔ توبھی یہ اُمید دلائی گئی

یہ اُن کی روحیں تھیں جو اُن دنوں میں نافرمان تھے جب نوح اپنی کشتی بنا رہا تھا۔ اُس وقت اللہ صبر سے انتظار کرتا رہا، لیکن آخرکار صرف چند ایک لوگ یعنی آٹھ افراد پانی میں سے گزر کر بچ نکلے۔