اللہ کا غضب مجھے پھاڑ رہا ہے، وہ میرا دشمن اور میرا مخالف بن گیا ہے جو میرے خلاف دانت پیس پیس کر مجھے اپنی آنکھوں سے چھید رہا ہے۔
TSK
TSK · نوحہ 2:16
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ مسلسل کفر بک بک کر وہ میرا مذاق اُڑاتے، میرے خلاف دانت پیستے تھے۔
¶ وہ دل میں نہ سوچیں، ”لو جی، ہمارا ارادہ پورا ہوا ہے!“ وہ نہ بولیں، ”ہم نے اُسے ہڑپ کر لیا ہے۔“
¶ ”اُسے مہلک مرض لگ گیا ہے۔ وہ کبھی اپنے بستر پر سے دوبارہ نہیں اُٹھے گا۔“
¶ وہ آسمان سے مدد بھیج کر مجھے چھٹکارا دے گا اور اُن کی رُسوائی کرے گا جو مجھے تنگ کر رہے ہیں۔ (سِلاہ) اللہ اپنا کرم اور وفاداری بھیجے گا۔
¶ بےدین یہ دیکھ کر ناراض ہو جائے گا، وہ دانت پیس پیس کر نیست ہو جائے گا۔ جو کچھ بےدین چاہتے ہیں وہ جاتا رہے گا۔
¶ ”فی الحال تیرے ملک میں چاروں طرف کھنڈرات، اُجاڑ اور تباہی نظر آتی ہے، لیکن آئندہ وہ اپنے باشندوں کی کثرت کے باعث چھوٹا ہو گا۔ اور جنہوں نے تجھے ہڑپ کر لیا تھا وہ دُور رہیں گے۔
جو بھی اُن کو پاتے وہ اُنہیں پکڑ کر کھا جاتے تھے۔ اُن کے مخالف کہتے تھے، ’اِس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ اُنہوں نے تو رب کا گناہ کیا ہے، گو وہ اُن کی حقیقی چراگاہ ہے اور اُن کے باپ دادا اُس پر اُمید رکھتے تھے۔‘
¶ صیون بیٹی روتی ہے، ’شاہِ بابل نبوکدنضر نے مجھے ہڑپ کر لیا، چوس لیا، خالی برتن کی طرح ایک طرف رکھ دیا ہے۔ اُس نے اژدہے کی طرح مجھے نگل لیا، اپنے پیٹ کو میری لذیذ چیزوں سے بھر لیا ہے۔ پھر اُس نے مجھے وطن سے نکال دیا۔‘
¶ ہمارے تمام دشمن ہمیں طعنے دیتے ہیں۔
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ تجھے اپنی بہن کا پیالہ پینا پڑے گا جو بڑا اور گہرا ہے۔ اور تُو اُس وقت تک اُسے پیتی رہے گی جب تک مذاق اور لعن طعن کا نشانہ نہ بن گئی ہو۔
¶ کیونکہ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ تُو نے تالیاں بجا بجا کر اور پاؤں زمین پر مار مار کر اسرائیل کے انجام پر اپنی دلی خوشی کا اظہار کیا۔ تیری اسرائیل کے لئے حقارت صاف طور پر نظر آئی۔
قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اُنہوں نے تمہیں اُجاڑ دیا، تمہیں چاروں طرف سے تنگ کیا ہے۔ نتیجے میں تم دیگر اقوام کے قبضے میں آ گئی ہو اور لوگ تم پر کفر بکنے لگے ہیں۔
تجھے اپنے بھائی کی بدقسمتی پر خوشی نہیں منانی چاہئے تھی۔ مناسب نہیں تھا کہ تُو یہوداہ کے باشندوں کی تباہی پر شادیانہ بجاتا۔ اُن کی مصیبت دیکھ کر تجھے شیخی نہیں مارنی چاہئے تھی۔
¶ ”مَیں نے موآبیوں کی لعن طعن اور عمونیوں کی اہانت پر غور کیا ہے۔ اُنہوں نے میری قوم کی رُسوائی اور اُس کے ملک کے خلاف بڑی بڑی باتیں کی ہیں۔“