”بادشاہ کے تمام ملازم بلکہ صوبوں کے تمام باشندے جانتے ہیں کہ جو بھی بُلائے بغیر محل کے اندرونی صحن میں بادشاہ کے پاس آئے اُسے سزائے موت دی جائے گی، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ وہ صرف اِس صورت میں بچ جائے گا کہ بادشاہ سونے کا اپنا عصا اُس کی طرف بڑھائے۔ بات یہ بھی ہے کہ بادشاہ کو مجھے بُلائے 30 دن ہو گئے ہیں۔“
TSK
TSK · مرقس 8:35
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ اُن دنوں میں ایک اَور نبی بھی یرمیاہ کی طرح رب کا نام لے کر نبوّت کرتا تھا۔ اُس کا نام اُوریاہ بن سمعیاہ تھا، اور وہ قِریَت یعریم کا رہنے والا تھا۔ اُس نے بھی یروشلم اور یہوداہ کے خلاف وہی پیش گوئیاں سنائیں جو یرمیاہ سناتا تھا۔
سب تم سے نفرت کریں گے، اِس لئے کہ تم میرے پیروکار ہو۔ لیکن جو آخر تک قائم رہے گا اُسے نجات ملے گی۔
کیونکہ جو اپنی جان کو بچائے رکھنا چاہے وہ اُسے کھو دے گا۔ لیکن جو میری خاطر اپنی جان کھو دے وہی اُسے پا لے گا۔
¶ مبارک ہو تم جب لوگ اِس لئے تم سے نفرت کرتے اور تمہارا حقہ پانی بند کرتے ہیں کہ تم ابنِ آدم کے پیروکار بن گئے ہو۔ ہاں، مبارک ہو تم جب وہ اِسی وجہ سے تمہیں لعن طعن کرتے اور تمہاری بدنامی کرتے ہیں۔
جو اپنی جان بچانے کی کوشش کرے گا وہ اُسے کھو دے گا، اور جو اپنی جان کھو دے گا وہی اُسے بچائے رکھے گا۔
وہ بات یاد کرو جو مَیں نے تم کو بتائی کہ غلام اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا۔ اگر اُنہوں نے مجھے ستایا ہے تو تمہیں بھی ستائیں گے۔ اور اگر اُنہوں نے میرے کلام کے مطابق زندگی گزاری تو وہ تمہاری باتوں پر بھی عمل کریں گے۔
خیر، مَیں اپنی زندگی کو کسی طرح بھی اہم نہیں سمجھتا۔ اہم بات صرف یہ ہے کہ مَیں اپنا وہ مشن اور ذمہ داری پوری کروں جو خداوند عیسیٰ نے میرے سپرد کی ہے۔ اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ مَیں لوگوں کو گواہی دے کر یہ خوش خبری سناؤں کہ اللہ نے اپنے فضل سے اُن کے لئے کیا کچھ کیا ہے۔
جو کچھ بھی کرتا ہوں اللہ کی خوش خبری کے واسطے کرتا ہوں تاکہ اِس کی برکات میں شریک ہو جاؤں۔
¶ اِس لئے ہمارے خداوند کے بارے میں گواہی دینے سے نہ شرمائیں، نہ مجھ سے جو مسیح کی خاطر قیدی ہوں۔ اِس کے بجائے میرے ساتھ اللہ کی قوت سے مدد لے کر اُس کی خوش خبری کی خاطر دُکھ اُٹھائیں۔
¶ جہاں تک میرا تعلق ہے، وہ وقت آ چکا ہے کہ مجھے مَے کی نذر کی طرح قربان گاہ پر اُنڈیلا جائے۔ میرے کوچ کا وقت آ گیا ہے۔
¶ عزیزو، ایذا رسانی کی اُس آگ پر تعجب نہ کریں جو آپ کو آزمانے کے لئے آپ پر آن پڑی ہے۔ یہ مت سوچنا کہ میرے ساتھ کیسی غیرمعمولی بات ہو رہی ہے۔
¶ مَیں نے جواب دیا، ”میرے آقا، آپ ہی جانتے ہیں۔“ اُس نے کہا، ”یہ وہی ہیں جو بڑی ایذا رسانی سے نکل کر آئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے لباس لیلے کے خون میں دھو کر سفید کر لئے ہیں۔