موجودہ گھنٹہ
صبح کی دعا - پہلی ساعت
ہم رات کے لیے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور التجا کرتے ہیں کہ وہ نئی صبح پر مسیح کے قیام کی روشنی چمکا دے۔
ہر ساعت کی تمہید
باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام پر
ایک خدا، آمین۔
اے رب رحم فرما۔ اے رب رحم فرما۔ اے رب برکت دے۔ آمین۔
باپ اور بیٹے اور روح القدس کو جلال، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین۔
خداوند کی دعا
بلکہ یوں دعا کیا کرو، اے ہمارے آسمانی باپ، تیرا نام مُقدّس مانا جائے۔
¶ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جس طرح آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔
¶ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔
¶ ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم نے اُنہیں معاف کیا جنہوں نے ہمارا گناہ کیا ہے۔
¶ اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں ابلیس سے بچائے رکھ۔ [کیونکہ بادشاہی، قدرت اور جلال ابد تک تیرے ہی ہیں۔]
دعائے شکرگزاری
آئیے نیکیوں کے صانع، رحیم خدا کا شکر کریں، جو ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے باپ ہیں، کیونکہ اُس نے ہمیں ڈھانپا اور مدد دی، اور محفوظ رکھا، اور اپنی طرف قبول کیا، اور ہم پر ترس کھایا، اور ہمیں سہارا دیا، اور ہمیں اس ساعت تک پہنچایا۔ ہم یہ بھی اُس سے مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اس مقدس دن میں اور ہماری ساری عمر کے تمام ایام میں کامل سلامتی کے ساتھ محفوظ رکھے۔ ہمارا ربّ خدا، قادرِ مطلق۔
اَے آقا خدا، قادرِ مطلق، جو ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے باپ ہے، ہم تیرا شکر کرتے ہیں ہر حال میں، ہر امر کے لیے، اور ہر حالت میں؛ کیونکہ تُو نے ہمیں ڈھانپا، اور ہماری مدد کی، اور ہمیں محفوظ رکھا، اور ہمیں اپنی طرف قبول کیا، اور ہم پر ترس کھایا، اور ہمیں سہارا دیا، اور ہمیں اس ساعت تک پہنچایا۔
پس ہم تیری بھلائی سے درخواست اور التجا کرتے ہیں، اَے محبِّ بشر، ہمیں بخش کہ ہم اس مقدس دن اور اپنی عمر کے سارے ایام کو تیری خوفداری کے ساتھ پورے سکون سے تمام کریں۔ ہر حسد، ہر آزمائش، اور ابلیس کے ہر فعل کو، اور شریر لوگوں کی سازش کو، اور پوشیدہ و ظاہر دشمنوں کے قیام کو ہم سے، تیری ساری قوم سے، اور اس تیرے مقدس مقام سے دور کر دے۔ اور جو چیزیں اچھی اور نفع بخش ہیں وہ ہمیں عطا فرما؛ کیونکہ تُو ہی نے ہمیں یہ اختیار دیا ہے کہ ہم سانپوں اور بچھوؤں اور دشمن کی ساری قوت پر پاؤں رکھیں۔ اور ہمیں آزمائش میں نہ لا، بلکہ شریر سے بچا۔
تیرے اکلوتے بیٹے، ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی نعمت، شفقتوں اور انسان سے محبت کے سبب؛ جس کے وسیلہ سے تجھ کو جلال، عزت، طاقت اور سجدہ زیبا ہے، اُس کے ساتھ اور تیرے جان بخش روح القدس کے ساتھ جو تیرے برابر ہے، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین۔
زبور 50
¶ آسف کا زبور۔ رب قادرِ مطلق خدا بول اُٹھا ہے، اُس نے طلوعِ صبح سے لے کر غروبِ آفتاب تک پوری دنیا کو بُلایا ہے۔
¶ اللہ کا نور صیون سے چمک اُٹھا ہے، اُس پہاڑ سے جو کامل حُسن کا اظہار ہے۔
¶ ہمارا خدا آ رہا ہے، وہ خاموش نہیں رہے گا۔ اُس کے آگے آگے سب کچھ بھسم ہو رہا ہے، اُس کے ارد گرد تیز آندھی چل رہی ہے۔
¶ وہ آسمان و زمین کو آواز دیتا ہے، ”اب مَیں اپنی قوم کی عدالت کروں گا۔
¶ میرے ایمان داروں کو میرے حضور جمع کرو، اُنہیں جنہوں نے قربانیاں پیش کر کے میرے ساتھ عہد باندھا ہے۔“
¶ آسمان اُس کی راستی کا اعلان کریں گے، کیونکہ اللہ خود انصاف کرنے والا ہے۔ (سِلاہ)
¶ ”اے میری قوم، سن! مجھے بات کرنے دے۔ اے اسرائیل، مَیں تیرے خلاف گواہی دوں گا۔ مَیں اللہ تیرا خدا ہوں۔
¶ مَیں تجھے تیری ذبح کی قربانیوں کے باعث ملامت نہیں کر رہا۔ تیری بھسم ہونے والی قربانیاں تو مسلسل میرے سامنے ہیں۔
¶ نہ مَیں تیرے گھر سے بَیل لوں گا، نہ تیرے باڑوں سے بکرے۔
¶ کیونکہ جنگل کے تمام جاندار میرے ہی ہیں، ہزاروں پہاڑیوں پر بسنے والے جانور میرے ہی ہیں۔
¶ مَیں پہاڑوں کے ہر پرندے کو جانتا ہوں، اور جو بھی میدانوں میں حرکت کرتا ہے وہ میرا ہے۔
¶ اگر مجھے بھوک لگتی تو مَیں تجھے نہ بتاتا، کیونکہ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے میرا ہے۔
¶ کیا تُو سمجھتا ہے کہ مَیں سانڈوں کا گوشت کھانا یا بکروں کا خون پینا چاہتا ہوں؟
¶ اللہ کو شکرگزاری کی قربانی پیش کر، اور وہ مَنت پوری کر جو تُو نے اللہ تعالیٰ کے حضور مانی ہے۔
¶ مصیبت کے دن مجھے پکار۔ تب مَیں تجھے نجات دوں گا اور تُو میری تمجید کرے گا۔“
¶ لیکن بےدین سے اللہ فرماتا ہے، ”میرے احکام سنانے اور میرے عہد کا ذکر کرنے کا تیرا کیا حق ہے؟
¶ تُو تو تربیت سے نفرت کرتا اور میرے فرمان کچرے کی طرح اپنے پیچھے پھینک دیتا ہے۔
¶ کسی چور کو دیکھتے ہی تُو اُس کا ساتھ دیتا ہے، تُو زناکاروں سے رفاقت رکھتا ہے۔
¶ تُو اپنے منہ کو بُرے کام کے لئے استعمال کرتا، اپنی زبان کو دھوکا دینے کے لئے تیار رکھتا ہے۔
¶ تُو دوسروں کے پاس بیٹھ کر اپنے بھائی کے خلاف بولتا ہے، اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔
¶ یہ کچھ تُو نے کیا ہے، اور مَیں خاموش رہا۔ تب تُو سمجھا کہ مَیں بالکل تجھ جیسا ہوں۔ لیکن مَیں تجھے ملامت کروں گا، تیرے سامنے ہی معاملہ ترتیب سے سناؤں گا۔
¶ تم جو اللہ کو بھولے ہوئے ہو، بات سمجھ لو، ورنہ مَیں تمہیں پھاڑ ڈالوں گا۔ اُس وقت کوئی نہیں ہو گا جو تمہیں بچائے۔
¶ جو شکرگزاری کی قربانی پیش کرے وہ میری تعظیم کرتا ہے۔ جو مصمم ارادے سے ایسی راہ پر چلے اُسے مَیں اللہ کی نجات دکھاؤں گا۔“
ابتدایۂ دعا (آؤ سجدہ کریں — پولس — کلیسیا کے ایمان سے):-
آؤ سجدہ کریں: آؤ ہم مسیح ہمارے خدا کے حضور سجدہ کریں۔ آؤ سجدہ کریں، آؤ اپنے بادشاہ مسیح سے طلب کریں۔ آؤ سجدہ کریں، آؤ مسیح ہمارے نجات دہندہ سے التجا کریں۔ اَے ہمارے خداوند یسوع مسیح، خدا کا کلمہ، ہمارے خدا! مطوبہ قدیسہ مریم اور سارے قدیسوں کی شفاعت سے، ہمیں محفوظ رکھ؛ اور ہمیں نیک آغاز بخش۔ اپنی مرضی کے مطابق ہم پر ابد تک رحم فرما۔ رات گزر گئی؛ ہم تیرا شکر کرتے ہیں اَے رب، اور التجا کرتے ہیں کہ تُو ہمیں اس دن بےگناہی میں محفوظ رکھے اور نجات دے۔
پولس الرسول کی افسیوں کو خط سے (4: 1-5): پس میں جو خداوند میں قیدی ہوں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ جس بُلاوے کے لائق تم بلائے گئے ہو اُس کے مطابق چل پھر کرو، پوری فروتنی اور حِلم اور تحمل کے ساتھ، باہم محبت میں ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے، صلح کے بند کے ذریعہ سے روح کی یگانگت کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے رہو؛ تاکہ تم ایک بدن اور ایک روح ہو، جیسا کہ تم اپنی بُلاہٹ کے ایک ہی اُمّید میں بلائے گئے ہو۔ ایک خداوند، ایک ایمان، ایک بپتسمہ۔
کلیسیا کے ایمان سے: ایک ہی خدا ہے، سب کا باپ۔ اور ایک ہی اُس کا بیٹا ہے، یسوع مسیح کلمہ، جس نے مجسم ہوکر، مر کر، اور تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھ کر ہمیں بھی اپنے ساتھ زندہ کیا۔ ایک ہی روح القدس ہے، جو اپنی اقنومی ہستی میں واحد تسلی دہندہ ہے، باپ سے صادر ہوتا ہے، جو تمام خلقت کو پاک کرتا ہے۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم تثلیثِ اقدس کی ایک ہی الوہیت اور ایک ہی طبیعت کو سجدہ کریں اور جلال دیں۔ ہم اُسے ابد تک سَبح و برکت دیتے ہیں۔ آمین۔
پولس رسول کا رسالہ (افسیوں 4:1-5)
¶ چنانچہ مَیں جو خداوند میں قیدی ہوں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ اُس زندگی کے مطابق چلیں جس کے لئے خدا نے آپ کو بُلایا ہے۔
ہر وقت حلیم اور نرم دل رہیں، صبر سے کام لیں اور ایک دوسرے سے محبت رکھ کر اُسے برداشت کریں۔
صلح سلامتی کے بندھن میں رہ کر روح کی یگانگت قائم رکھنے کی پوری کوشش کریں۔
ایک ہی بدن اور ایک ہی روح ہے۔ یوں آپ کو بھی ایک ہی اُمید کے لئے بُلایا گیا۔
ایک خداوند، ایک ایمان، ایک بپتسمہ ہے۔
مبارک دن کی باکر (صبح) کی دعا، میں اسے مسیح اپنے بادشاہ اور اپنے خدا کو پیش کرتا ہوں، اور اُس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے گناہ بخش دے۔
ہمارے باپ، نبی معلم داؤد کے زبوروں سے — اُن کی برکات ہم پر ہوں۔ آمین۔
مبارک دن کی صبح کی دعا،
¶ مبارک ہے وہ جو نہ بےدینوں کے مشورے پر چلتا، نہ گناہ گاروں کی راہ پر قدم رکھتا، اور نہ طعنہ زنوں کے ساتھ بیٹھتا ہے
¶ بلکہ رب کی شریعت سے لطف اندوز ہوتا اور دن رات اُسی پر غور و خوض کرتا رہتا ہے۔
¶ وہ نہروں کے کنارے پر لگے درخت کی مانند ہے۔ وقت پر وہ پھل لاتا، اور اُس کے پتے نہیں مُرجھاتے۔ جو کچھ بھی کرے اُس میں وہ کامیاب ہے۔
¶ بےدینوں کا یہ حال نہیں ہوتا۔ وہ بھوسے کی مانند ہیں جسے ہَوا اُڑا لے جاتی ہے۔
¶ اِس لئے بےدین عدالت میں قائم نہیں رہیں گے، اور گناہ گار کا راست بازوں کی مجلس میں مقام نہیں ہو گا۔
¶ کیونکہ رب راست بازوں کی راہ کی پہرا داری کرتا ہے جبکہ بےدینوں کی راہ تباہ ہو جائے گی۔
ہمارے باپ داؤد نبی اور بادشاہ کے زبور سے،
¶ اقوام کیوں طیش میں آ گئی ہیں؟ اُمّتیں کیوں بےکار سازشیں کر رہی ہیں؟
¶ دنیا کے بادشاہ اُٹھ کھڑے ہوئے، حکمران رب اور اُس کے مسیح کے خلاف جمع ہو گئے ہیں۔
¶ وہ کہتے ہیں، ”آؤ، ہم اُن کی زنجیروں کو توڑ کر آزاد ہو جائیں، اُن کے رسّوں کو دُور تک پھینک دیں۔“
¶ لیکن جو آسمان پر تخت نشین ہے وہ ہنستا ہے، رب اُن کا مذاق اُڑاتا ہے۔
¶ پھر وہ غصے سے اُنہیں ڈانٹتا، اپنا شدید غضب اُن پر نازل کر کے اُنہیں ڈراتا ہے۔
¶ وہ فرماتا ہے، ”مَیں نے خود اپنے بادشاہ کو اپنے مُقدّس پہاڑ صیون پر مقرر کیا ہے!“
¶ آؤ، مَیں رب کا فرمان سناؤں۔ اُس نے مجھ سے کہا، ”تُو میرا بیٹا ہے، آج مَیں تیرا باپ بن گیا ہوں۔
¶ مجھ سے مانگ تو مَیں تجھے میراث میں تمام اقوام عطا کروں گا، دنیا کی انتہا تک سب کچھ بخش دوں گا۔
¶ تُو اُنہیں لوہے کے شاہی عصا سے پاش پاش کرے گا، اُنہیں مٹی کے برتنوں کی طرح چِکنا چُور کرے گا۔“
¶ چنانچہ اے بادشاہو، سمجھ سے کام لو! اے دنیا کے حکمرانو، تربیت قبول کرو!
¶ خوف کرتے ہوئے رب کی خدمت کرو، لرزتے ہوئے خوشی مناؤ۔
¶ بیٹے کو بوسہ دو، ایسا نہ ہو کہ وہ غصے ہو جائے اور تم راستے میں ہی ہلاک ہو جاؤ۔ کیونکہ وہ ایک دم طیش میں آ جاتا ہے۔ مبارک ہیں وہ سب جو اُس میں پناہ لیتے ہیں۔
زبور 1
¶ مبارک ہے وہ جو نہ بےدینوں کے مشورے پر چلتا، نہ گناہ گاروں کی راہ پر قدم رکھتا، اور نہ طعنہ زنوں کے ساتھ بیٹھتا ہے
¶ بلکہ رب کی شریعت سے لطف اندوز ہوتا اور دن رات اُسی پر غور و خوض کرتا رہتا ہے۔
¶ وہ نہروں کے کنارے پر لگے درخت کی مانند ہے۔ وقت پر وہ پھل لاتا، اور اُس کے پتے نہیں مُرجھاتے۔ جو کچھ بھی کرے اُس میں وہ کامیاب ہے۔
¶ بےدینوں کا یہ حال نہیں ہوتا۔ وہ بھوسے کی مانند ہیں جسے ہَوا اُڑا لے جاتی ہے۔
¶ اِس لئے بےدین عدالت میں قائم نہیں رہیں گے، اور گناہ گار کا راست بازوں کی مجلس میں مقام نہیں ہو گا۔
¶ کیونکہ رب راست بازوں کی راہ کی پہرا داری کرتا ہے جبکہ بےدینوں کی راہ تباہ ہو جائے گی۔
زبور 2
¶ اقوام کیوں طیش میں آ گئی ہیں؟ اُمّتیں کیوں بےکار سازشیں کر رہی ہیں؟
¶ دنیا کے بادشاہ اُٹھ کھڑے ہوئے، حکمران رب اور اُس کے مسیح کے خلاف جمع ہو گئے ہیں۔
¶ وہ کہتے ہیں، ”آؤ، ہم اُن کی زنجیروں کو توڑ کر آزاد ہو جائیں، اُن کے رسّوں کو دُور تک پھینک دیں۔“
¶ لیکن جو آسمان پر تخت نشین ہے وہ ہنستا ہے، رب اُن کا مذاق اُڑاتا ہے۔
¶ پھر وہ غصے سے اُنہیں ڈانٹتا، اپنا شدید غضب اُن پر نازل کر کے اُنہیں ڈراتا ہے۔
¶ وہ فرماتا ہے، ”مَیں نے خود اپنے بادشاہ کو اپنے مُقدّس پہاڑ صیون پر مقرر کیا ہے!“
¶ آؤ، مَیں رب کا فرمان سناؤں۔ اُس نے مجھ سے کہا، ”تُو میرا بیٹا ہے، آج مَیں تیرا باپ بن گیا ہوں۔
¶ مجھ سے مانگ تو مَیں تجھے میراث میں تمام اقوام عطا کروں گا، دنیا کی انتہا تک سب کچھ بخش دوں گا۔
¶ تُو اُنہیں لوہے کے شاہی عصا سے پاش پاش کرے گا، اُنہیں مٹی کے برتنوں کی طرح چِکنا چُور کرے گا۔“
¶ چنانچہ اے بادشاہو، سمجھ سے کام لو! اے دنیا کے حکمرانو، تربیت قبول کرو!
¶ خوف کرتے ہوئے رب کی خدمت کرو، لرزتے ہوئے خوشی مناؤ۔
¶ بیٹے کو بوسہ دو، ایسا نہ ہو کہ وہ غصے ہو جائے اور تم راستے میں ہی ہلاک ہو جاؤ۔ کیونکہ وہ ایک دم طیش میں آ جاتا ہے۔ مبارک ہیں وہ سب جو اُس میں پناہ لیتے ہیں۔
زبور 3
¶ داؤد کا زبور۔ اُس وقت جب اُسے اپنے بیٹے ابی سلوم سے بھاگنا پڑا۔ اے رب، میرے دشمن کتنے زیادہ ہیں، کتنے لوگ میرے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں!
¶ میرے بارے میں بہتیرے کہہ رہے ہیں، ”اللہ اِسے چھٹکارا نہیں دے گا۔“ (سِلاہ)
¶ لیکن تُو اے رب، چاروں طرف میری حفاظت کرنے والی ڈھال ہے۔ تُو میری عزت ہے جو میرے سر کو اُٹھائے رکھتا ہے۔
¶ مَیں بلند آواز سے رب کو پکارتا ہوں، اور وہ اپنے مُقدّس پہاڑ سے میری سنتا ہے۔ (سِلاہ)
¶ مَیں آرام سے لیٹ کر سو گیا، پھر جاگ اُٹھا، کیونکہ رب خود مجھے سنبھالے رکھتا ہے۔
¶ اُن ہزاروں سے مَیں نہیں ڈرتا جو مجھے گھیرے رکھتے ہیں۔
¶ اے رب، اُٹھ! اے میرے خدا، مجھے رِہا کر! کیونکہ تُو نے میرے تمام دشمنوں کے منہ پر تھپڑ مارا، تُو نے بےدینوں کے دانتوں کو توڑ دیا ہے۔
¶ رب کے پاس نجات ہے۔ تیری برکت تیری قوم پر آئے۔ (سِلاہ)
زبور 4
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ اے میری راستی کے خدا، میری سن جب مَیں تجھے پکارتا ہوں۔ اے تُو جو مصیبت میں میری مخلصی رہا ہے مجھ پر مہربانی کر کے میری التجا سن!
¶ اے آدم زادو، میری عزت کب تک خاک میں ملائی جاتی رہے گی؟ تم کب تک باطل چیزوں سے لپٹے رہو گے، کب تک جھوٹ کی تلاش میں رہو گے؟ (سِلاہ)
¶ جان لو کہ رب نے ایمان دار کو اپنے لئے الگ کر رکھا ہے۔ رب میری سنے گا جب مَیں اُسے پکاروں گا۔
¶ غصے میں آتے وقت گناہ مت کرنا۔ اپنے بستر پر لیٹ کر معاملے پر سوچ بچار کرو، لیکن دل میں، خاموشی سے۔ (سِلاہ)
¶ راستی کی قربانیاں پیش کرو، اور رب پر بھروسا رکھو۔
¶ بہتیرے شک کر رہے ہیں، ”کون ہمارے حالات ٹھیک کرے گا؟“ اے رب، اپنے چہرے کا نور ہم پر چمکا!
¶ تُو نے میرے دل کو خوشی سے بھر دیا ہے، ایسی خوشی سے جو اُن کے پاس بھی نہیں ہوتی جن کے پاس کثرت کا اناج اور انگور ہے۔
¶ مَیں آرام سے لیٹ کر سو جاتا ہوں، کیونکہ تُو ہی اے رب مجھے حفاظت سے بسنے دیتا ہے۔
زبور 5
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اِسے بانسری کے ساتھ گانا ہے۔ اے رب، میری باتیں سن، میری آہوں پر دھیان دے!
¶ اے میرے بادشاہ، میرے خدا، مدد کے لئے میری چیخیں سن، کیونکہ مَیں تجھ ہی سے دعا کرتا ہوں۔
¶ اے رب، صبح کو تُو میری آواز سنتا ہے، صبح کو مَیں تجھے سب کچھ ترتیب سے پیش کر کے جواب کا انتظار کرنے لگتا ہوں۔
¶ کیونکہ تُو ایسا خدا نہیں ہے جو بےدینی سے خوش ہو۔ جو بُرا ہے وہ تیرے حضور نہیں ٹھہر سکتا۔
¶ مغرور تیرے حضور کھڑے نہیں ہو سکتے، بدکار سے تُو نفرت کرتا ہے۔
¶ جھوٹ بولنے والوں کو تُو تباہ کرتا، خوں خوار اور دھوکے باز سے رب گھن کھاتا ہے۔
¶ لیکن مجھ پر تُو نے بڑی مہربانی کی ہے، اِس لئے مَیں تیرے گھر میں داخل ہو سکتا، مَیں تیرا خوف مان کر تیری مُقدّس سکونت گاہ کے سامنے سجدہ کرتا ہوں۔
¶ اے رب، اپنی راست راہ پر میری راہنمائی کر تاکہ میرے دشمن مجھ پر غالب نہ آئیں۔ اپنی راہ کو میرے آگے ہموار کر۔
¶ کیونکہ اُن کے منہ سے ایک بھی قابلِ اعتماد بات نہیں نکلتی۔ اُن کا دل تباہی سے بھرا رہتا، اُن کا گلا کھلی قبر ہے، اور اُن کی زبان چِکنی چپڑی باتیں اُگلتی رہتی ہے۔
¶ اے رب، اُنہیں اُن کے غلط کام کا اجر دے۔ اُن کی سازشیں اُن کی اپنی تباہی کا باعث بنیں۔ اُنہیں اُن کے متعدد گناہوں کے باعث نکال کر منتشر کر دے، کیونکہ وہ تجھ سے سرکش ہو گئے ہیں۔
¶ لیکن جو تجھ میں پناہ لیتے ہیں وہ سب خوش ہوں، وہ ابد تک شادیانہ بجائیں، کیونکہ تُو اُنہیں محفوظ رکھتا ہے۔ تیرے نام کو پیار کرنے والے تیرا جشن منائیں۔
¶ کیونکہ تُو اے رب، راست باز کو برکت دیتا ہے، تُو اپنی مہربانی کی ڈھال سے اُس کی چاروں طرف حفاظت کرتا ہے۔
زبور 6
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ اے رب، غصے میں مجھے سزا نہ دے، طیش میں مجھے تنبیہ نہ کر۔
¶ اے رب، مجھ پر رحم کر، کیونکہ مَیں نڈھال ہوں۔ اے رب، مجھے شفا دے، کیونکہ میرے اعضا دہشت زدہ ہیں۔
¶ میری جان نہایت خوف زدہ ہے۔ اے رب، تُو کب تک دیر کرے گا؟
¶ اے رب، واپس آ کر میری جان کو بچا۔ اپنی شفقت کی خاطر مجھے چھٹکارا دے۔
¶ کیونکہ مُردہ تجھے یاد نہیں کرتا۔ پاتال میں کون تیری ستائش کرے گا؟
¶ مَیں کراہتے کراہتے تھک گیا ہوں۔ پوری رات رونے سے بستر بھیگ گیا ہے، میرے آنسوؤں سے پلنگ گل گیا ہے۔
¶ غم کے مارے میری آنکھیں سوج گئی ہیں، میرے مخالفوں کے حملوں سے وہ ضائع ہوتی جا رہی ہیں۔
¶ اے بدکارو، مجھ سے دُور ہو جاؤ، کیونکہ رب نے میری آہ و بکا سنی ہے۔
¶ رب نے میری التجاؤں کو سن لیا ہے، میری دعا رب کو قبول ہے۔
¶ میرے تمام دشمنوں کی رُسوائی ہو جائے گی، اور وہ سخت گھبرا جائیں گے۔ وہ مُڑ کر اچانک ہی شرمندہ ہو جائیں گے۔
زبور 8
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: گتّیت۔ اے رب ہمارے آقا، تیرا نام پوری دنیا میں کتنا شاندار ہے! تُو نے آسمان پر ہی اپنا جلال ظاہر کر دیا ہے۔
¶ اپنے مخالفوں کے جواب میں تُو نے چھوٹے بچوں اور شیرخواروں کی زبان کو تیار کیا ہے تاکہ وہ تیری قوت سے دشمن اور کینہ پرور کو ختم کریں۔
¶ جب مَیں تیرے آسمان کا ملاحظہ کرتا ہوں جو تیری اُنگلیوں کا کام ہے، چاند اور ستاروں پر غور کرتا ہوں جن کو تُو نے اپنی اپنی جگہ پر قائم کیا
¶ تو انسان کون ہے کہ تُو اُسے یاد کرے یا آدم زاد کہ تُو اُس کا خیال رکھے؟
¶ تُو نے اُسے فرشتوں سے کچھ ہی کم بنایا، تُو نے اُسے جلال اور عزت کا تاج پہنایا۔
¶ تُو نے اُسے اپنے ہاتھوں کے کاموں پر مقرر کیا، سب کچھ اُس کے پاؤں کے نیچے کر دیا،
¶ خواہ بھیڑبکریاں ہوں خواہ گائےبَیل، جنگلی جانور،
¶ پرندے، مچھلیاں یا سمندری راہوں پر چلنے والے باقی تمام جانور۔
¶ اے رب ہمارے آقا، پوری دنیا میں تیرا نام کتنا شاندار ہے!
زبور 11
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ مَیں نے رب میں پناہ لی ہے۔ تو پھر تم کس طرح مجھ سے کہتے ہو، ”چل، پرندے کی طرح پھڑپھڑا کر پہاڑوں میں بھاگ جا“؟
¶ کیونکہ دیکھو، بےدین کمان تان کر تیر کو تانت پر لگا چکے ہیں۔ اب وہ اندھیرے میں بیٹھ کر اِس انتظار میں ہیں کہ دل سے سیدھی راہ پر چلنے والوں پر چلائیں۔
¶ راست باز کیا کرے؟ اُنہوں نے تو بنیاد کو ہی تباہ کر دیا ہے۔
¶ لیکن رب اپنی مُقدّس سکونت گاہ میں ہے، رب کا تخت آسمان پر ہے۔ وہاں سے وہ دیکھتا ہے، وہاں سے اُس کی آنکھیں آدم زادوں کو پرکھتی ہیں۔
¶ رب راست باز کو پرکھتا تو ہے، لیکن بےدین اور ظالم سے نفرت ہی کرتا ہے۔
¶ بےدینوں پر وہ جلتے ہوئے کوئلے اور شعلہ زن گندھک برسا دے گا۔ جُھلسنے والی آندھی اُن کا حصہ ہو گی۔
¶ کیونکہ رب راست ہے، اور اُسے انصاف پیارا ہے۔ صرف سیدھی راہ پر چلنے والے اُس کا چہرہ دیکھیں گے۔
زبور 12
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: شمینیت۔ اے رب، مدد فرما! کیونکہ ایمان دار ختم ہو گئے ہیں۔ دیانت دار انسانوں میں سے مٹ گئے ہیں۔
¶ آپس میں سب جھوٹ بولتے ہیں۔ اُن کی زبان پر چِکنی چپڑی باتیں ہوتی ہیں جبکہ دل میں کچھ اَور ہی ہوتا ہے۔
¶ رب تمام چِکنی چپڑی اور شیخی باز زبانوں کو کاٹ ڈالے!
¶ وہ اُن سب کو مٹا دے جو کہتے ہیں، ”ہم اپنی لائق زبان کے باعث طاقت ور ہیں۔ ہمارے ہونٹ ہمیں سہارا دیتے ہیں تو کون ہمارا مالک ہو گا؟ کوئی نہیں!“
¶ لیکن رب فرماتا ہے، ”ناچاروں پر تمہارے ظلم کی خبر اور ضرورت مندوں کی کراہتی آوازیں میرے سامنے آئی ہیں۔ اب مَیں اُٹھ کر اُنہیں اُن سے چھٹکارا دوں گا جو اُن کے خلاف پھنکارتے ہیں۔“
¶ رب کے فرمان پاک ہیں، وہ بھٹی میں سات بار صاف کی گئی چاندی کی مانند خالص ہیں۔
¶ اے رب، تُو ہی اُنہیں محفوظ رکھے گا، تُو ہی اُنہیں ابد تک اِس نسل سے بچائے رکھے گا،
¶ گو بےدین آزادی سے اِدھر اُدھر پھرتے ہیں، اور انسانوں کے درمیان کمینہ پن کا راج ہے۔
زبور 14
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ احمق دل میں کہتا ہے، ”اللہ ہے ہی نہیں!“ ایسے لوگ بدچلن ہیں، اُن کی حرکتیں قابلِ گھن ہیں۔ ایک بھی نہیں ہے جو اچھا کام کرے۔
¶ رب نے آسمان سے انسان پر نظر ڈالی تاکہ دیکھے کہ کیا کوئی سمجھ دار ہے؟ کیا کوئی اللہ کا طالب ہے؟
¶ افسوس، سب صحیح راہ سے بھٹک گئے، سب کے سب بگڑ گئے ہیں۔ کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں۔
¶ کیا جو بدی کر کے میری قوم کو روٹی کی طرح کھا لیتے ہیں اُن میں سے ایک کو بھی سمجھ نہیں آتی؟ وہ تو رب کو پکارتے ہی نہیں۔
¶ تب اُن پر سخت دہشت چھا گئی، کیونکہ اللہ راست باز کی نسل کے ساتھ ہے۔
¶ تم ناچار کے منصوبوں کو خاک میں ملانا چاہتے ہو، لیکن رب خود اُس کی پناہ گاہ ہے۔
¶ کاش کوہِ صیون سے اسرائیل کی نجات نکلے! جب رب اپنی قوم کو بحال کرے گا تو یعقوب خوشی کے نعرے لگائے گا، اسرائیل باغ باغ ہو گا۔
زبور 15
¶ داؤد کا زبور۔ اے رب، کون تیرے خیمے میں ٹھہر سکتا ہے؟ کس کو تیرے مُقدّس پہاڑ پر رہنے کی اجازت ہے؟
¶ وہ جس کا چال چلن بےگناہ ہے، جو راست باز زندگی گزار کر دل سے سچ بولتا ہے۔
¶ ایسا شخص اپنی زبان سے کسی پر تہمت نہیں لگاتا۔ نہ وہ اپنے پڑوسی پر زیادتی کرتا، نہ اُس کی بےعزتی کرتا ہے۔
¶ وہ مردود کو حقیر جانتا لیکن خدا ترس کی عزت کرتا ہے۔ جو وعدہ اُس نے قَسم کھا کر کیا اُسے پورا کرتا ہے، خواہ اُسے کتنا ہی نقصان کیوں نہ پہنچے۔
¶ وہ سود لئے بغیر اُدھار دیتا ہے اور اُس کی رشوت قبول نہیں کرتا جو بےگناہ کا حق مارنا چاہتا ہے۔ ایسا شخص کبھی ڈانواں ڈول نہیں ہو گا۔
زبور 18
¶ رب کے خادم داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ داؤد نے رب کے لئے یہ گیت گایا جب رب نے اُسے تمام دشمنوں اور ساؤل سے بچایا۔ وہ بولا، اے رب میری قوت، مَیں تجھے پیار کرتا ہوں۔
¶ رب میری چٹان، میرا قلعہ اور میرا نجات دہندہ ہے۔ میرا خدا میری چٹان ہے جس میں مَیں پناہ لیتا ہوں۔ وہ میری ڈھال، میری نجات کا پہاڑ، میرا بلند حصار ہے۔
¶ مَیں رب کو پکارتا ہوں، اُس کی تمجید ہو! تب وہ مجھے دشمنوں سے چھٹکارا دیتا ہے۔
¶ موت کے رسّوں نے مجھے گھیر لیا، ہلاکت کے سیلاب نے میرے دل پر دہشت طاری کی۔
¶ پاتال کے رسّوں نے مجھے جکڑ لیا، موت نے میرے راستے میں اپنے پھندے ڈال دیئے۔
¶ جب مَیں مصیبت میں پھنس گیا تو مَیں نے رب کو پکارا۔ مَیں نے مدد کے لئے اپنے خدا سے فریاد کی تو اُس نے اپنی سکونت گاہ سے میری آواز سنی، میری چیخیں اُس کے کان تک پہنچ گئیں۔
¶ تب زمین لرز اُٹھی اور تھرتھرانے لگی، پہاڑوں کی بنیادیں رب کے غضب کے سامنے کانپنے اور جھولنے لگیں۔
¶ اُس کی ناک سے دھواں نکل آیا، اُس کے منہ سے بھسم کرنے والے شعلے اور دہکتے کوئلے بھڑک اُٹھے۔
¶ آسمان کو جھکا کر وہ نازل ہوا۔ جب اُتر آیا تو اُس کے پاؤں کے نیچے اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔
¶ وہ کروبی فرشتے پر سوار ہوا اور اُڑ کر ہَوا کے پَروں پر منڈلانے لگا۔
¶ اُس نے اندھیرے کو اپنی چھپنے کی جگہ بنایا، بارش کے کالے اور گھنے بادل خیمے کی طرح اپنے گرداگرد لگائے۔
¶ اُس کے حضور کی تیز روشنی سے اُس کے بادل اولے اور شعلہ زن کوئلے لے کر نکل آئے۔
¶ رب آسمان سے کڑکنے لگا، اللہ تعالیٰ کی آواز گونج اُٹھی۔ تب اولے اور شعلہ زن کوئلے برسنے لگے۔
¶ اُس نے اپنے تیر چلائے تو دشمن تتر بتر ہو گئے۔ اُس کی تیز بجلی اِدھر اُدھر گرتی گئی تو اُن میں ہل چل مچ گئی۔
¶ اے رب، تُو نے ڈانٹا تو سمندر کی وادیاں ظاہر ہوئیں، جب تُو غصے میں گرجا تو تیرے دم کے جھونکوں سے زمین کی بنیادیں نظر آئیں۔
¶ بلندیوں پر سے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُس نے مجھے پکڑ لیا، مجھے گہرے پانی میں سے کھینچ کر نکال لایا۔
¶ اُس نے مجھے میرے زبردست دشمن سے بچایا، اُن سے جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں، جن پر مَیں غالب نہ آ سکا۔
¶ جس دن مَیں مصیبت میں پھنس گیا اُس دن اُنہوں نے مجھ پر حملہ کیا، لیکن رب میرا سہارا بنا رہا۔
¶ اُس نے مجھے تنگ جگہ سے نکال کر چھٹکارا دیا، کیونکہ وہ مجھ سے خوش تھا۔
¶ رب مجھے میری راست بازی کا اجر دیتا ہے۔ میرے ہاتھ صاف ہیں، اِس لئے وہ مجھے برکت دیتا ہے۔
¶ کیونکہ مَیں رب کی راہوں پر چلتا رہا ہوں، مَیں بدی کرنے سے اپنے خدا سے دُور نہیں ہوا۔
¶ اُس کے تمام احکام میرے سامنے رہے ہیں، مَیں نے اُس کے فرمانوں کو رد نہیں کیا۔
¶ اُس کے سامنے ہی مَیں بےالزام رہا، گناہ کرنے سے باز رہا ہوں۔
¶ اِس لئے رب نے مجھے میری راست بازی کا اجر دیا، کیونکہ اُس کی آنکھوں کے سامنے ہی مَیں پاک صاف ثابت ہوا۔
¶ اے اللہ، جو وفادار ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک وفاداری کا ہے، جو بےالزام ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک بےالزام ہے۔
¶ جو پاک ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک پاک ہے۔ لیکن جو کج رَو ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک بھی کج رَوی کا ہے۔
¶ کیونکہ تُو پست حالوں کو نجات دیتا اور مغرور آنکھوں کو پست کرتا ہے۔
¶ اے رب، تُو ہی میرا چراغ جلاتا، میرا خدا ہی میرے اندھیرے کو روشن کرتا ہے۔
¶ کیونکہ تیرے ساتھ مَیں فوجی دستے پر حملہ کر سکتا، اپنے خدا کے ساتھ دیوار کو پھلانگ سکتا ہوں۔
¶ اللہ کی راہ کامل ہے، رب کا فرمان خالص ہے۔ جو بھی اُس میں پناہ لے اُس کی وہ ڈھال ہے۔
¶ کیونکہ رب کے سوا کون خدا ہے؟ ہمارے خدا کے سوا کون چٹان ہے؟
¶ اللہ مجھے قوت سے کمربستہ کرتا، وہ میری راہ کو کامل کر دیتا ہے۔
¶ وہ میرے پاؤں کو ہرن کی سی پُھرتی عطا کرتا، مجھے مضبوطی سے میری بلندیوں پر کھڑا کرتا ہے۔
¶ وہ میرے ہاتھوں کو جنگ کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ اب میرے بازو پیتل کی کمان کو بھی تان لیتے ہیں۔
¶ اے رب، تُو نے مجھے اپنی نجات کی ڈھال بخش دی ہے۔ تیرے دہنے ہاتھ نے مجھے قائم رکھا، تیری نرمی نے مجھے بڑا بنا دیا ہے۔
¶ تُو میرے قدموں کے لئے راستہ بنا دیتا ہے، اِس لئے میرے ٹخنے نہیں ڈگمگاتے۔
¶ مَیں نے اپنے دشمنوں کا تعاقب کر کے اُنہیں پکڑ لیا، مَیں باز نہ آیا جب تک وہ ختم نہ ہو گئے۔
¶ مَیں نے اُنہیں یوں پاش پاش کر دیا کہ دوبارہ اُٹھ نہ سکے بلکہ گر کر میرے پاؤں تلے پڑے رہے۔
¶ کیونکہ تُو نے مجھے جنگ کرنے کے لئے قوت سے کمربستہ کر دیا، تُو نے میرے مخالفوں کو میرے سامنے جھکا دیا۔
¶ تُو نے میرے دشمنوں کو میرے سامنے سے بھگا دیا، اور مَیں نے نفرت کرنے والوں کو تباہ کر دیا۔
¶ وہ مدد کے لئے چیختے چلّاتے رہے، لیکن بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ رب کو پکارتے رہے، لیکن اُس نے جواب نہ دیا۔
¶ مَیں نے اُنہیں چُور چُور کر کے گرد کی طرح ہَوا میں اُڑا دیا۔ مَیں نے اُنہیں کچرے کی طرح گلی میں پھینک دیا۔
¶ تُو نے مجھے قوم کے جھگڑوں سے بچا کر اقوام کا سردار بنا دیا ہے۔ جس قوم سے مَیں ناواقف تھا وہ میری خدمت کرتی ہے۔
¶ جوں ہی مَیں بات کرتا ہوں تو لوگ میری سنتے ہیں۔ پردیسی دبک کر میری خوشامد کرتے ہیں۔
¶ وہ ہمت ہار کر کانپتے ہوئے اپنے قلعوں سے نکل آتے ہیں۔
¶ رب زندہ ہے! میری چٹان کی تمجید ہو! میری نجات کے خدا کی تعظیم ہو!
¶ وہی خدا ہے جو میرا انتقام لیتا، اقوام کو میرے تابع کر دیتا
¶ اور مجھے میرے دشمنوں سے چھٹکارا دیتا ہے۔ یقیناً تُو مجھے میرے مخالفوں پر سرفراز کرتا، مجھے ظالموں سے بچائے رکھتا ہے۔
¶ اے رب، اِس لئے مَیں اقوام میں تیری حمد و ثنا کروں گا، تیرے نام کی تعریف میں گیت گاؤں گا۔
¶ کیونکہ رب اپنے بادشاہ کو بڑی نجات دیتا ہے، وہ اپنے مسح کئے ہوئے بادشاہ داؤد اور اُس کی اولاد پر ہمیشہ تک مہربان رہے گا۔
زبور 24
¶ داؤد کا زبور۔ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے رب کا ہے، دنیا اور اُس کے باشندے اُسی کے ہیں۔
¶ کیونکہ اُس نے زمین کی بنیاد سمندروں پر رکھی اور اُسے دریاؤں پر قائم کیا۔
¶ کس کو رب کے پہاڑ پر چڑھنے کی اجازت ہے؟ کون اُس کے مُقدّس مقام میں کھڑا ہو سکتا ہے؟
¶ وہ جس کے ہاتھ پاک اور دل صاف ہیں، جو نہ فریب کا ارادہ رکھتا، نہ قَسم کھا کر جھوٹ بولتا ہے۔
¶ وہ رب سے برکت پائے گا، اُسے اپنی نجات کے خدا سے راستی ملے گی۔
¶ یہ ہو گا اُن لوگوں کا حال جو اللہ کی مرضی دریافت کرتے، جو تیرے چہرے کے طالب ہوتے ہیں، اے یعقوب کے خدا۔ (سِلاہ)
¶ اے پھاٹکو، کھل جاؤ! اے قدیم دروازو، پورے طور پر کھل جاؤ تاکہ جلال کا بادشاہ داخل ہو جائے۔
¶ جلال کا بادشاہ کون ہے؟ رب جو قوی اور قادر ہے، رب جو جنگ میں زورآور ہے۔
¶ اے پھاٹکو، کھل جاؤ! اے قدیم دروازو، پورے طور پر کھل جاؤ تاکہ جلال کا بادشاہ داخل ہو جائے۔
¶ جلال کا بادشاہ کون ہے؟ رب الافواج، وہی جلال کا بادشاہ ہے۔ (سِلاہ)
زبور 26
¶ داؤد کا زبور۔ اے رب، میرا انصاف کر، کیونکہ میرا چال چلن بےقصور ہے۔ مَیں نے رب پر بھروسا رکھا ہے، اور مَیں ڈانواں ڈول نہیں ہو جاؤں گا۔
¶ اے رب، مجھے جانچ لے، مجھے آزما کر دل کی تہہ تک میرا معائنہ کر۔
¶ کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سامنے رہی ہے، مَیں تیری سچی راہ پر چلتا رہا ہوں۔
¶ نہ مَیں دھوکے بازوں کی مجلس میں بیٹھتا، نہ چالاک لوگوں سے رفاقت رکھتا ہوں۔
¶ مجھے شریروں کے اجتماعوں سے نفرت ہے، بےدینوں کے ساتھ مَیں بیٹھتا بھی نہیں۔
¶ اے رب، مَیں اپنے ہاتھ دھو کر اپنی بےگناہی کا اظہار کرتا ہوں۔ مَیں تیری قربان گاہ کے گرد پھر کر
¶ بلند آواز سے تیری حمد و ثنا کرتا، تیرے تمام معجزات کا اعلان کرتا ہوں۔
¶ اے رب، تیری سکونت گاہ مجھے پیاری ہے، جس جگہ تیرا جلال ٹھہرتا ہے وہ مجھے عزیز ہے۔
¶ میری جان کو مجھ سے چھین کر مجھے گناہ گاروں میں شامل نہ کر! میری زندگی کو مٹا کر مجھے خوں خواروں میں شمار نہ کر،
¶ ایسے لوگوں میں جن کے ہاتھ شرم ناک حرکتوں سے آلودہ ہیں، جو ہر وقت رشوت کھاتے ہیں۔
¶ کیونکہ مَیں بےگناہ زندگی گزارتا ہوں۔ فدیہ دے کر مجھے چھٹکارا دے! مجھ پر مہربانی کر!
¶ میرے پاؤں ہموار زمین پر قائم ہو گئے ہیں، اور مَیں اجتماعوں میں رب کی ستائش کروں گا۔
زبور 62
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ یدوتون کے لئے۔ میری جان خاموشی سے اللہ ہی کے انتظار میں ہے۔ اُسی سے مجھے مدد ملتی ہے۔
¶ وہی میری چٹان، میری نجات اور میرا قلعہ ہے، اِس لئے مَیں زیادہ نہیں ڈگمگاؤں گا۔
¶ تم کب تک اُس پر حملہ کرو گے جو پہلے ہی جھکی ہوئی دیوار کی مانند ہے؟ تم سب کب تک اُسے قتل کرنے پر تُلے رہو گے جو پہلے ہی گرنے والی چاردیواری جیسا ہے؟
¶ اُن کے منصوبوں کا ایک ہی مقصد ہے، کہ اُسے اُس کے اونچے عُہدے سے اُتاریں۔ اُنہیں جھوٹ سے مزہ آتا ہے۔ منہ سے وہ برکت دیتے، لیکن اندر ہی اندر لعنت کرتے ہیں۔ (سِلاہ)
¶ لیکن تُو اے میری جان، خاموشی سے اللہ ہی کے انتظار میں رہ۔ کیونکہ اُسی سے مجھے اُمید ہے۔
¶ صرف وہی میری جان کی چٹان، میری نجات اور میرا قلعہ ہے، اِس لئے مَیں نہیں ڈگمگاؤں گا۔
¶ میری نجات اور عزت اللہ پر مبنی ہے، وہی میری محفوظ چٹان ہے۔ اللہ میں مَیں پناہ لیتا ہوں۔
¶ اے اُمّت، ہر وقت اُس پر بھروسا رکھ! اُس کے حضور اپنے دل کا رنج و الم پانی کی طرح اُنڈیل دے۔ اللہ ہی ہماری پناہ گاہ ہے۔ (سِلاہ)
¶ انسان دم بھر کا ہی ہے، اور بڑے لوگ فریب ہی ہیں۔ اگر اُنہیں ترازو میں تولا جائے تو مل کر اُن کا وزن ایک پھونک سے بھی کم ہے۔
¶ ظلم پر اعتماد نہ کرو، چوری کرنے پر فضول اُمید نہ رکھو۔ اور اگر دولت بڑھ جائے تو تمہارا دل اُس سے لپٹ نہ جائے۔
¶ اللہ نے ایک بات فرمائی بلکہ دو بار مَیں نے سنی ہے کہ اللہ ہی قادر ہے۔
¶ اے رب، یقیناً تُو مہربان ہے، کیونکہ تُو ہر ایک کو اُس کے اعمال کا بدلہ دیتا ہے۔
زبور 66
¶ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ زبور۔ گیت۔ اے ساری زمین، خوشی کے نعرے لگا کر اللہ کی مدح سرائی کر!
¶ اُس کے نام کے جلال کی تمجید کرو، اُس کی ستائش عروج تک لے جاؤ!
¶ اللہ سے کہو، ”تیرے کام کتنے پُرجلال ہیں۔ تیری بڑی قدرت کے سامنے تیرے دشمن دبک کر تیری خوشامد کرنے لگتے ہیں۔
¶ تمام دنیا تجھے سجدہ کرے! وہ تیری تعریف میں گیت گائے، تیرے نام کی ستائش کرے۔“ (سِلاہ)
¶ آؤ، اللہ کے کام دیکھو! آدم زاد کی خاطر اُس نے کتنے پُرجلال معجزے کئے ہیں!
¶ اُس نے سمندر کو خشک زمین میں بدل دیا۔ جہاں پہلے پانی کا تیز بہاؤ تھا وہاں سے لوگ پیدل ہی گزرے۔ چنانچہ آؤ، ہم اُس کی خوشی منائیں۔
¶ اپنی قدرت سے وہ ابد تک حکومت کرتا ہے۔ اُس کی آنکھیں قوموں پر لگی رہتی ہیں تاکہ سرکش اُس کے خلاف نہ اُٹھیں۔ (سِلاہ)
¶ اے اُمّتو، ہمارے خدا کی حمد کرو۔ اُس کی ستائش دُور تک سنائی دے۔
¶ کیونکہ وہ ہماری زندگی قائم رکھتا، ہمارے پاؤں کو ڈگمگانے نہیں دیتا۔
¶ کیونکہ اے اللہ، تُو نے ہمیں آزمایا۔ جس طرح چاندی کو پگھلا کر صاف کیا جاتا ہے اُسی طرح تُو نے ہمیں پاک صاف کر دیا ہے۔
¶ تُو نے ہمیں جال میں پھنسا دیا، ہماری کمر پر اذیت ناک بوجھ ڈال دیا۔
¶ تُو نے لوگوں کے رتھوں کو ہمارے سروں پر سے گزرنے دیا، اور ہم آگ اور پانی کی زد میں آ گئے۔ لیکن پھر تُو نے ہمیں مصیبت سے نکال کر فراوانی کی جگہ پہنچایا۔
¶ مَیں بھسم ہونے والی قربانیاں لے کر تیرے گھر میں آؤں گا اور تیرے حضور اپنی مَنتیں پوری کروں گا،
¶ وہ مَنتیں جو میرے منہ نے مصیبت کے وقت مانی تھیں۔
¶ بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر مَیں تجھے موٹی تازی بھیڑیں اور مینڈھوں کا دھواں پیش کروں گا، ساتھ ساتھ بَیل اور بکرے بھی چڑھاؤں گا۔ (سِلاہ)
¶ اے اللہ کا خوف ماننے والو، آؤ اور سنو! جو کچھ اللہ نے میری جان کے لئے کیا وہ تمہیں سناؤں گا۔
¶ مَیں نے اپنے منہ سے اُسے پکارا، لیکن میری زبان اُس کی تعریف کرنے کے لئے تیار تھی۔
¶ اگر مَیں دل میں گناہ کی پرورش کرتا تو رب میری نہ سنتا۔
¶ لیکن یقیناً رب نے میری سنی، اُس نے میری التجا پر توجہ دی۔
¶ اللہ کی حمد ہو، جس نے نہ میری دعا رد کی، نہ اپنی شفقت مجھ سے باز رکھی۔
زبور 69
¶ داؤد کا زبور۔ طرز: سوسن کے پھول۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ، مجھے بچا! کیونکہ پانی میرے گلے تک پہنچ گیا ہے۔
¶ مَیں گہری دلدل میں دھنس گیا ہوں، کہیں پاؤں جمانے کی جگہ نہیں ملتی۔ مَیں پانی کی گہرائیوں میں آ گیا ہوں، سیلاب مجھ پر غالب آ گیا ہے۔
¶ مَیں چلّاتے چلّاتے تھک گیا ہوں۔ میرا گلا بیٹھ گیا ہے۔ اپنے خدا کا انتظار کرتے کرتے میری آنکھیں دُھندلا گئیں۔
¶ جو بلاوجہ مجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں، جو بےسبب میرے دشمن ہیں اور مجھے تباہ کرنا چاہتے ہیں وہ طاقت ور ہیں۔ جو کچھ مَیں نے نہیں لُوٹا اُسے مجھ سے طلب کیا جاتا ہے۔
¶ اے اللہ، تُو میری حماقت سے واقف ہے، میرا قصور تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
¶ اے قادرِ مطلق رب الافواج، جو تیرے انتظار میں رہتے ہیں وہ میرے باعث شرمندہ نہ ہوں۔ اے اسرائیل کے خدا، میرے باعث تیرے طالب کی رُسوائی نہ ہو۔
¶ کیونکہ تیری خاطر مَیں شرمندگی برداشت کر رہا ہوں، تیری خاطر میرا چہرہ شرم سار ہی رہتا ہے۔
¶ مَیں اپنے سگے بھائیوں کے نزدیک اجنبی اور اپنی ماں کے بیٹوں کے نزدیک پردیسی بن گیا ہوں۔
¶ کیونکہ تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا گئی ہے، جو تجھے گالیاں دیتے ہیں اُن کی گالیاں مجھ پر آ گئی ہیں۔
¶ جب مَیں روزہ رکھ کر روتا تھا تو لوگ میرا مذاق اُڑاتے تھے۔
¶ جب ماتمی لباس پہنے پھرتا تھا تو اُن کے لئے عبرت انگیز مثال بن گیا۔
¶ جو بزرگ شہر کے دروازے پر بیٹھے ہیں وہ میرے بارے میں گپیں ہانکتے ہیں۔ شرابی مجھے اپنے طنز بھرے گیتوں کا نشانہ بناتے ہیں۔
¶ لیکن اے رب، میری تجھ سے دعا ہے کہ مَیں تجھے دوبارہ منظور ہو جاؤں۔ اے اللہ، اپنی عظیم شفقت کے مطابق میری سن، اپنی یقینی نجات کے مطابق مجھے بچا۔
¶ مجھے دلدل سے نکال تاکہ غرق نہ ہو جاؤں۔ مجھے اُن سے چھٹکارا دے جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ پانی کی گہرائیوں سے مجھے بچا۔
¶ سیلاب مجھ پر غالب نہ آئے، سمندر کی گہرائی مجھے ہڑپ نہ کر لے، گڑھا میرے اوپر اپنا منہ بند نہ کر لے۔
¶ اے رب، میری سن، کیونکہ تیری شفقت بھلی ہے۔ اپنے عظیم رحم کے مطابق میری طرف رجوع کر۔
¶ اپنا چہرہ اپنے خادم سے چھپائے نہ رکھ، کیونکہ مَیں مصیبت میں ہوں۔ جلدی سے میری سن!
¶ قریب آ کر میری جان کا فدیہ دے، میرے دشمنوں کے سبب سے عوضانہ دے کر مجھے چھڑا۔
¶ تُو میری رُسوائی، میری شرمندگی اور تذلیل سے واقف ہے۔ تیری آنکھیں میرے تمام دشمنوں پر لگی رہتی ہیں۔
¶ اُن کے طعنوں سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے، مَیں بیمار پڑ گیا ہوں۔ مَیں ہم دردی کے انتظار میں رہا، لیکن بےفائدہ۔ مَیں نے توقع کی کہ کوئی مجھے دلاسا دے، لیکن ایک بھی نہ ملا۔
¶ اُنہوں نے میری خوراک میں کڑوا زہر ملایا، مجھے سرکہ پلایا جب پیاسا تھا۔
¶ اُن کی میز اُن کے لئے پھندا اور اُن کے ساتھیوں کے لئے جال بن جائے۔
¶ اُن کی آنکھیں تاریک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں۔ اُن کی کمر ہمیشہ تک ڈگمگاتی رہے۔
¶ اپنا پورا غصہ اُن پر اُتار، تیرا سخت غضب اُن پر آ پڑے۔
¶ اُن کی رہائش گاہ سنسان ہو جائے اور کوئی اُن کے خیموں میں آباد نہ ہو،
¶ کیونکہ جسے تُو ہی نے سزا دی اُسے وہ ستاتے ہیں، جسے تُو ہی نے زخمی کیا اُس کا دُکھ دوسروں کو سنا کر خوش ہوتے ہیں۔
¶ اُن کے قصور کا سختی سے حساب کتاب کر، وہ تیرے سامنے راست باز نہ ٹھہریں۔
¶ اُنہیں کتابِ حیات سے مٹایا جائے، اُن کا نام راست بازوں کی فہرست میں درج نہ ہو۔
¶ ہائے، مَیں مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں، مجھے بہت درد ہے۔ اے اللہ، تیری نجات مجھے محفوظ رکھے۔
¶ مَیں اللہ کے نام کی مدح سرائی کروں گا، شکرگزاری سے اُس کی تعظیم کروں گا۔
¶ یہ رب کو بَیل یا سینگ اور کُھر رکھنے والے سانڈ سے کہیں زیادہ پسند آئے گا۔
¶ حلیم اللہ کا کام دیکھ کر خوش ہو جائیں گے۔ اے اللہ کے طالبو، تسلی پاؤ!
¶ کیونکہ رب محتاجوں کی سنتا اور اپنے قیدیوں کو حقیر نہیں جانتا۔
¶ آسمان و زمین اُس کی تمجید کریں، سمندر اور جو کچھ اُس میں حرکت کرتا ہے اُس کی ستائش کرے۔
¶ کیونکہ اللہ صیون کو نجات دے کر یہوداہ کے شہروں کو تعمیر کرے گا، اور اُس کے خادم اُن پر قبضہ کر کے اُن میں آباد ہو جائیں گے۔
¶ اُن کی اولاد ملک کو میراث میں پائے گی، اور اُس کے نام سے محبت رکھنے والے اُس میں بسے رہیں گے۔
زبور 112
¶ رب کی حمد ہو! مبارک ہے وہ جو اللہ کا خوف مانتا اور اُس کے احکام سے بہت لطف اندوز ہوتا ہے۔
¶ اُس کے فرزند ملک میں طاقت ور ہوں گے، اور دیانت دار کی نسل کو برکت ملے گی۔
¶ دولت اور خوش حالی اُس کے گھر میں رہے گی، اور اُس کی راست بازی ابد تک قائم رہے گی۔
¶ اندھیرے میں چلتے وقت دیانت داروں پر روشنی چمکتی ہے۔ وہ راست باز، مہربان اور رحیم ہے۔
¶ مہربانی کرنا اور قرض دینا بابرکت ہے۔ جو اپنے معاملوں کو انصاف سے حل کرے وہ اچھا کرے گا،
¶ کیونکہ وہ ابد تک نہیں ڈگمگائے گا۔ راست باز ہمیشہ ہی یاد رہے گا۔
¶ وہ بُری خبر ملنے سے نہیں ڈرتا۔ اُس کا دل مضبوط ہے، اور وہ رب پر بھروسا رکھتا ہے۔
¶ اُس کا دل مستحکم ہے۔ وہ سہما ہوا نہیں رہتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک دن مَیں اپنے دشمنوں کی شکست دیکھ کر خوش ہوں گا۔
¶ وہ فیاضی سے ضرورت مندوں میں خیرات بکھیر دیتا ہے۔ اُس کی راست بازی ہمیشہ قائم رہے گی، اور اُسے عزت کے ساتھ سرفراز کیا جائے گا۔
¶ بےدین یہ دیکھ کر ناراض ہو جائے گا، وہ دانت پیس پیس کر نیست ہو جائے گا۔ جو کچھ بےدین چاہتے ہیں وہ جاتا رہے گا۔
زبور 142
¶ حکمت کا گیت۔ دعا جو داؤد نے کی جب وہ غار میں تھا۔ مَیں مدد کے لئے چیختا چلّاتا رب کو پکارتا ہوں، مَیں زوردار آواز سے رب سے التجا کرتا ہوں۔
¶ مَیں اپنی آہ و زاری اُس کے سامنے اُنڈیل دیتا، اپنی تمام مصیبت اُس کے حضور پیش کرتا ہوں۔
¶ جب میری روح میرے اندر نڈھال ہو جاتی ہے تو تُو ہی میری راہ جانتا ہے۔ جس راستے میں مَیں چلتا ہوں اُس میں لوگوں نے پھندا چھپایا ہے۔
¶ مَیں دہنی طرف نظر ڈال کر دیکھتا ہوں، لیکن کوئی نہیں ہے جو میرا خیال کرے۔ مَیں بچ نہیں سکتا، کوئی نہیں ہے جو میری جان کی فکر کرے۔
¶ اے رب، مَیں مدد کے لئے تجھے پکارتا ہوں۔ مَیں کہتا ہوں، ”تُو میری پناہ گاہ اور زندوں کے ملک میں میرا موروثی حصہ ہے۔“
¶ میری چیخوں پر دھیان دے، کیونکہ مَیں بہت پست ہو گیا ہوں۔ مجھے اُن سے چھڑا جو میرا پیچھا کر رہے ہیں، کیونکہ مَیں اُن پر قابو نہیں پا سکتا۔
¶ میری جان کو قیدخانے سے نکال لا تاکہ تیرے نام کی ستائش کروں۔ جب تُو میرے ساتھ بھلائی کرے گا تو راست باز میرے ارد گرد جمع ہو جائیں گے۔
پاک انجیل مقدّس یوحنا کے مطابق (1:1-17)
¶ ابتدا میں کلام تھا۔ کلام اللہ کے ساتھ تھا اور کلام اللہ تھا۔
یہی ابتدا میں اللہ کے ساتھ تھا۔
سب کچھ کلام کے وسیلے سے پیدا ہوا۔ مخلوقات کی ایک بھی چیز اُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔
اُس میں زندگی تھی، اور یہ زندگی انسانوں کا نور تھی۔
یہ نور تاریکی میں چمکتا ہے، اور تاریکی نے اُس پر قابو نہ پایا۔
¶ ایک دن اللہ نے اپنا پیغمبر بھیج دیا، ایک آدمی جس کا نام یحییٰ تھا۔
وہ نور کی گواہی دینے کے لئے آیا۔ مقصد یہ تھا کہ لوگ اُس کی گواہی کی بنا پر ایمان لائیں۔
وہ خود تو نور نہ تھا بلکہ اُسے صرف نور کی گواہی دینی تھی۔
حقیقی نور جو ہر شخص کو روشن کرتا ہے دنیا میں آنے کو تھا۔
¶ گو کلام دنیا میں تھا اور دنیا اُس کے وسیلے سے پیدا ہوئی توبھی دنیا نے اُسے نہ پہچانا۔
وہ اُس میں آیا جو اُس کا اپنا تھا، لیکن اُس کے اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا۔
توبھی کچھ اُسے قبول کر کے اُس کے نام پر ایمان لائے۔ اُنہیں اُس نے اللہ کے فرزند بننے کا حق بخش دیا،
ایسے فرزند جو نہ فطری طور پر، نہ کسی انسان کے منصوبے کے تحت پیدا ہوئے بلکہ اللہ سے۔
¶ کلام انسان بن کر ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا اور ہم نے اُس کے جلال کا مشاہدہ کیا۔ وہ فضل اور سچائی سے معمور تھا اور اُس کا جلال باپ کے اکلوتے فرزند کا سا تھا۔
¶ یحییٰ اُس کے بارے میں گواہی دے کر پکار اُٹھا، ”یہ وہی ہے جس کے بارے میں مَیں نے کہا، ’ایک میرے بعد آنے والا ہے جو مجھ سے بڑا ہے، کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا‘۔“
¶ اُس کی کثرت سے ہم سب نے فضل پر فضل پایا۔
کیونکہ شریعت موسیٰ کی معرفت دی گئی، لیکن اللہ کا فضل اور سچائی عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے قائم ہوئی۔
سلام ہو تجھ پر
سلام ہو تجھ پر۔ ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں، اَے مقدسہ، جلال سے معمور، سدا کنواری، والدۂ الٰہ، مسیح کی ماں، ہماری دعائیں اپنے پیارے بیٹے کے حضور پیش کر کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے۔
سلام ہو اُس پر جس نے ہمارے لیے سچا نور، مسیح ہمارے خدا کو جنم دیا؛ اے مقدسہ کنواری، خداوند سے ہمارے لیے شفاعت کر کہ وہ ہماری جانوں پر رحم کرے اور ہمارے گناہ معاف کرے۔
اَے کنواری مریم، والدۂ الٰہ، اَے مقدسہ اور نوعِ انسانی کی امانت دار شفیعہ، اُس مسیح کے حضور ہمارے لیے شفاعت کر جس کو تُو نے جَنا، تاکہ وہ ہمیں ہمارے گناہوں کی معافی عنایت فرمائے۔
سلام ہو تجھ پر، اَے کنواری، حقیقی ملکہ؛ سلام ہو ہماری نسل کے فخر کو؛ تُو نے ہمارے لیے عِمّانوایل کو جَنا۔ ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں: ہمیں یاد رکھ، اَے امانت دار شفیعہ، ہمارے خداوند یسوع مسیح کے روبرو، کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے۔
قانونِ ایمان کا آغاز
ہم تیری تعظیم کرتے ہیں، اَے حقیقی نور کی ماں، اور ہم تیری تمجید کرتے ہیں، اَے مقدسہ کنواری، والدۂ الٰہ، کیونکہ تُو نے ہمارے لیے جہان کے نجات دہندہ کو جَنا؛ وہ آیا اور اُس نے ہماری جانوں کو بچایا۔
جلال تجھے ہو، اَے ہمارے آقا اور بادشاہ مسیح، رسولوں کا فخر، شہیدوں کا تاج، صادقوں کی خوشی، کلیسیاؤں کا ثبات، گناہوں کی مغفرت۔
ہم تثلیثِ اقدس کی بشارت دیتے ہیں، ایک الوہیت؛ ہم اُسے سجدہ کرتے اور جلال دیتے ہیں۔ اے رب رحم فرما۔ اے رب رحم فرما۔ اے رب برکت دے۔ آمین۔
پھر عبادت گزار دعا کرتا ہے:
خداوندا، ہماری سُن لے، ہم پر رحم کر، اور ہمارے گناہ معاف فرما۔ آمین۔
(خداوندا، رحم کر) 41 بار
Κύριε ἐλέησον کیریالیسون (خداوندا، رحم فرما) 41 بار
قدوس، قدوس، قدوس
قدوس، قدوس، قدوس، ربُّ الصباؤوت۔ آسمان اور زمین تیری جلال اور تیری کرامت سے معمور ہیں۔ اے خدا باپ قادرِ مطلق، ہم پر رحم فرما۔ اَے تثلیثِ اقدس، ہم پر رحم فرما۔ اَے رب، افواج کے خدا، ہمارے ساتھ رہ؛ کیونکہ مصیبتوں اور تنگیوں میں تیرے سوا ہمارا کوئی مددگار نہیں۔
اَے خدا، ہماری بدیوں کو حل کر، معاف کر اور درگزر فرما، جو ہم نے ارادے سے کیں اور جو بغیر ارادے کے کیں، جو دانستہ کیں اور جو نادانستہ؛ پوشیدہ اور ظاہر۔ اَے رب، اپنے اُس پاک نام کی خاطر جو ہم پر لیا گیا ہے، اُن سب کو ہمیں بخش دے۔ اَے رب، اپنی رحمت کے موافق، نہ کہ ہمارے گناہوں کے موافق۔
اور ہمیں اس لائق بنا کہ ہم شکرگزاری کے ساتھ کہیں: اے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔۔۔
تحلیل
اَے افواج کے خداوند رب، جو ازل سے ہے اور ابد تک قائم ہے، جس نے دن کے اُجالے کے لیے سورج بنایا، اور رات سب بنی آدم کے لیے آرام رکھی؛ ہم تیرا شکر کرتے ہیں، اَے بادشاہِ دہور، کہ تُو نے ہمیں اس رات کو سلامتی کے ساتھ گزارا اور ہمیں دن کے آغاز تک پہنچایا۔
پس ہم تجه سے درخواست کرتے ہیں، اَے ہمارے بادشاہِ دہور، کہ تیرے چہرے کا نور ہم پر چمکے اور تیرا الٰہی عرفان کا نور ہم پر منور ہو۔ اور اے ہمارے آقا، ہمیں نور کے فرزند اور دن کے فرزند بنا، تاکہ ہم اس دن کو راستبازی، پاکیزگی اور اچھے انتظام کے ساتھ گزاریں، اور اپنی زندگی کے بقیہ ایام بے لغزش پورے کریں؛ تیرے اکلوتے بیٹے یسوع مسیح کی نعمت، شفقت اور انسان سے محبت کے سبب، اور تیرے قدوس روح کی بخشش کے ساتھ؛ اب بھی اور ہر زمانہ میں اور ابدُالآباد تک۔ آمین۔
ایک اور تحلیل
اَے تو جو روشنی بھیجتا ہے کہ چل پڑتی ہے، جو اپنے سورج کو نیکوں اور بدوں پر چمکاتا ہے، جس نے وہ نور بنایا جو دنیا کو روشن کرتا ہے؛ اے سب کے آقا، ہمارے اَذہان، دِلوں اور سمجھ کو منور کر۔ ہمیں اس موجودہ دن میں یہ بخش کہ ہم تجھے پسند آئیں۔ اور ہمیں ہر شر، ہر خطا، اور ہر مخالف قوّت سے محفوظ رکھ؛ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے۔ وہی جس کے ساتھ تُو مبارک ہے، اور روح القدس کے ساتھ جو جان بخشتا اور تیرے برابر ہے، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور دہرُالدُّهور تک۔ آمین۔
ہر ساعت کے آخر میں پڑھی جانے والی درخواست
ہم پر رحم فرما، اے خدا، پھر ہم پر رحم فرما۔ تُو جو ہر وقت اور ہر ساعت، آسمان پر اور زمین پر، سجدہ اور تمجید پانے کے لائق ہے؛ مسیح، ہمارے نیک خدا؛ دیر غصہ، کثیرالرحم، اور نہایت ترس والا؛ جو صادقوں سے محبت رکھتا اور گنہگاروں پر رحم کرتا ہے—جن میں پہلا میں ہوں—جو نہ شریر کی موت چاہتا ہے بلکہ یہ کہ وہ رجوع لائے اور زندہ رہے؛ جو سب کو نجات کی طرف بُلانے والا ہے، آئندہ کی نیک باتوں کے وعدے کے سبب۔
اَے رب، اس ساعت اور ہر ساعت ہماری درخواستیں قبول فرما۔ ہماری زندگی آسان بنا۔ ہمیں اپنی وصیتوں پر عمل کرنے کی راہ دکھا۔ ہماری روحوں کو مقدس کر۔ ہمارے جسموں کو پاک کر۔ ہمارے خیالات کو سیدھا کر۔ ہماری نیتوں کو صاف کر۔ ہماری بیماریوں کو شفا دے اور ہمارے گناہ معاف کر۔ اور ہمیں ہر بُرے غم اور دِل کے درد سے نجات دے۔ اپنے مقدس فرشتوں سے ہمیں گھیر لے، تاکہ ہم اُن کے لشکر کے ساتھ محفوظ اور راہ یافتہ رہیں، اور ایمان کی یگانگت تک اور تیری اُس جلال کی پہچان تک پہنچیں جو حسّ و حد سے باہر ہے؛ کیونکہ تُو ابد تک مبارک ہے۔ آمین۔
اَے خدا، ہمیں اس لائق بنا کہ ہم شکر کے ساتھ یہ کہیں: اَے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔۔۔