گھڑی کی دعائیں

موجودہ گھنٹہ

نویں ساعت

ہم صلیب پر مسیح کے نجات بخش موت اور اس چور کی توبہ کو یاد کرتے ہیں جس نے اس کی بادشاہی میں یاد کیے جانے کی دعا کی۔

ہر ساعت کی تمہید

باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام پر

ایک خدا، آمین۔

اے رب رحم فرما۔ اے رب رحم فرما۔ اے رب برکت دے۔ آمین۔

باپ اور بیٹے اور روح القدس کو جلال، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین۔

خداوند کی دعا

بلکہ یوں دعا کیا کرو، اے ہمارے آسمانی باپ، تیرا نام مُقدّس مانا جائے۔

¶ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جس طرح آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔

¶ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔

¶ ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم نے اُنہیں معاف کیا جنہوں نے ہمارا گناہ کیا ہے۔

¶ اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں ابلیس سے بچائے رکھ۔ [کیونکہ بادشاہی، قدرت اور جلال ابد تک تیرے ہی ہیں۔]

دعائے شکرگزاری

آئیے نیکیوں کے صانع، رحیم خدا کا شکر کریں، جو ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے باپ ہیں، کیونکہ اُس نے ہمیں ڈھانپا اور مدد دی، اور محفوظ رکھا، اور اپنی طرف قبول کیا، اور ہم پر ترس کھایا، اور ہمیں سہارا دیا، اور ہمیں اس ساعت تک پہنچایا۔ ہم یہ بھی اُس سے مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اس مقدس دن میں اور ہماری ساری عمر کے تمام ایام میں کامل سلامتی کے ساتھ محفوظ رکھے۔ ہمارا ربّ خدا، قادرِ مطلق۔

اَے آقا خدا، قادرِ مطلق، جو ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے باپ ہے، ہم تیرا شکر کرتے ہیں ہر حال میں، ہر امر کے لیے، اور ہر حالت میں؛ کیونکہ تُو نے ہمیں ڈھانپا، اور ہماری مدد کی، اور ہمیں محفوظ رکھا، اور ہمیں اپنی طرف قبول کیا، اور ہم پر ترس کھایا، اور ہمیں سہارا دیا، اور ہمیں اس ساعت تک پہنچایا۔

پس ہم تیری بھلائی سے درخواست اور التجا کرتے ہیں، اَے محبِّ بشر، ہمیں بخش کہ ہم اس مقدس دن اور اپنی عمر کے سارے ایام کو تیری خوفداری کے ساتھ پورے سکون سے تمام کریں۔ ہر حسد، ہر آزمائش، اور ابلیس کے ہر فعل کو، اور شریر لوگوں کی سازش کو، اور پوشیدہ و ظاہر دشمنوں کے قیام کو ہم سے، تیری ساری قوم سے، اور اس تیرے مقدس مقام سے دور کر دے۔ اور جو چیزیں اچھی اور نفع بخش ہیں وہ ہمیں عطا فرما؛ کیونکہ تُو ہی نے ہمیں یہ اختیار دیا ہے کہ ہم سانپوں اور بچھوؤں اور دشمن کی ساری قوت پر پاؤں رکھیں۔ اور ہمیں آزمائش میں نہ لا، بلکہ شریر سے بچا۔

تیرے اکلوتے بیٹے، ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی نعمت، شفقتوں اور انسان سے محبت کے سبب؛ جس کے وسیلہ سے تجھ کو جلال، عزت، طاقت اور سجدہ زیبا ہے، اُس کے ساتھ اور تیرے جان بخش روح القدس کے ساتھ جو تیرے برابر ہے، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین۔

زبور 50

¶ آسف کا زبور۔ رب قادرِ مطلق خدا بول اُٹھا ہے، اُس نے طلوعِ صبح سے لے کر غروبِ آفتاب تک پوری دنیا کو بُلایا ہے۔

¶ اللہ کا نور صیون سے چمک اُٹھا ہے، اُس پہاڑ سے جو کامل حُسن کا اظہار ہے۔

¶ ہمارا خدا آ رہا ہے، وہ خاموش نہیں رہے گا۔ اُس کے آگے آگے سب کچھ بھسم ہو رہا ہے، اُس کے ارد گرد تیز آندھی چل رہی ہے۔

¶ وہ آسمان و زمین کو آواز دیتا ہے، ”اب مَیں اپنی قوم کی عدالت کروں گا۔

¶ میرے ایمان داروں کو میرے حضور جمع کرو، اُنہیں جنہوں نے قربانیاں پیش کر کے میرے ساتھ عہد باندھا ہے۔“

¶ آسمان اُس کی راستی کا اعلان کریں گے، کیونکہ اللہ خود انصاف کرنے والا ہے۔ (سِلاہ)

¶ ”اے میری قوم، سن! مجھے بات کرنے دے۔ اے اسرائیل، مَیں تیرے خلاف گواہی دوں گا۔ مَیں اللہ تیرا خدا ہوں۔

¶ مَیں تجھے تیری ذبح کی قربانیوں کے باعث ملامت نہیں کر رہا۔ تیری بھسم ہونے والی قربانیاں تو مسلسل میرے سامنے ہیں۔

¶ نہ مَیں تیرے گھر سے بَیل لوں گا، نہ تیرے باڑوں سے بکرے۔

¶ کیونکہ جنگل کے تمام جاندار میرے ہی ہیں، ہزاروں پہاڑیوں پر بسنے والے جانور میرے ہی ہیں۔

¶ مَیں پہاڑوں کے ہر پرندے کو جانتا ہوں، اور جو بھی میدانوں میں حرکت کرتا ہے وہ میرا ہے۔

¶ اگر مجھے بھوک لگتی تو مَیں تجھے نہ بتاتا، کیونکہ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے میرا ہے۔

¶ کیا تُو سمجھتا ہے کہ مَیں سانڈوں کا گوشت کھانا یا بکروں کا خون پینا چاہتا ہوں؟

¶ اللہ کو شکرگزاری کی قربانی پیش کر، اور وہ مَنت پوری کر جو تُو نے اللہ تعالیٰ کے حضور مانی ہے۔

¶ مصیبت کے دن مجھے پکار۔ تب مَیں تجھے نجات دوں گا اور تُو میری تمجید کرے گا۔“

¶ لیکن بےدین سے اللہ فرماتا ہے، ”میرے احکام سنانے اور میرے عہد کا ذکر کرنے کا تیرا کیا حق ہے؟

¶ تُو تو تربیت سے نفرت کرتا اور میرے فرمان کچرے کی طرح اپنے پیچھے پھینک دیتا ہے۔

¶ کسی چور کو دیکھتے ہی تُو اُس کا ساتھ دیتا ہے، تُو زناکاروں سے رفاقت رکھتا ہے۔

¶ تُو اپنے منہ کو بُرے کام کے لئے استعمال کرتا، اپنی زبان کو دھوکا دینے کے لئے تیار رکھتا ہے۔

¶ تُو دوسروں کے پاس بیٹھ کر اپنے بھائی کے خلاف بولتا ہے، اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔

¶ یہ کچھ تُو نے کیا ہے، اور مَیں خاموش رہا۔ تب تُو سمجھا کہ مَیں بالکل تجھ جیسا ہوں۔ لیکن مَیں تجھے ملامت کروں گا، تیرے سامنے ہی معاملہ ترتیب سے سناؤں گا۔

¶ تم جو اللہ کو بھولے ہوئے ہو، بات سمجھ لو، ورنہ مَیں تمہیں پھاڑ ڈالوں گا۔ اُس وقت کوئی نہیں ہو گا جو تمہیں بچائے۔

¶ جو شکرگزاری کی قربانی پیش کرے وہ میری تعظیم کرتا ہے۔ جو مصمم ارادے سے ایسی راہ پر چلے اُسے مَیں اللہ کی نجات دکھاؤں گا۔“

ابتدایۂ دعا

بابرکت دن کی نَویں ساعت کی تسبیح، میں اسے مسیح اپنے بادشاہ اور اپنے خدا کو پیش کرتا ہوں، اور اُس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے گناہ بخش دے۔

زبور 95

¶ آؤ، ہم شادیانہ بجا کر رب کی مدح سرائی کریں، خوشی کے نعرے لگا کر اپنی نجات کی چٹان کی تمجید کریں!

¶ آؤ، ہم شکرگزاری کے ساتھ اُس کے حضور آئیں، گیت گا کر اُس کی ستائش کریں۔

¶ کیونکہ رب عظیم خدا اور تمام معبودوں پر عظیم بادشاہ ہے۔

¶ اُس کے ہاتھ میں زمین کی گہرائیاں ہیں، اور پہاڑ کی بلندیاں بھی اُسی کی ہیں۔

¶ سمندر اُس کا ہے، کیونکہ اُس نے اُسے خلق کیا۔ خشکی اُس کی ہے، کیونکہ اُس کے ہاتھوں نے اُسے تشکیل دیا۔

¶ آؤ ہم سجدہ کریں اور رب اپنے خالق کے سامنے جھک کر گھٹنے ٹیکیں۔

¶ کیونکہ وہ ہمارا خدا ہے اور ہم اُس کی چراگاہ کی قوم اور اُس کے ہاتھ کی بھیڑیں ہیں۔ اگر تم آج اُس کی آواز سنو

¶ ”تو اپنے دلوں کو سخت نہ کرو جس طرح مریبہ میں ہوا، جس طرح ریگستان میں مسّہ میں ہوا۔

¶ وہاں تمہارے باپ دادا نے مجھے آزمایا اور جانچا، حالانکہ اُنہوں نے میرے کام دیکھ لئے تھے۔

¶ چالیس سال مَیں اُس نسل سے گھن کھاتا رہا۔ مَیں بولا، ’اُن کے دل ہمیشہ صحیح راہ سے ہٹ جاتے ہیں، اور وہ میری راہیں نہیں جانتے۔‘

¶ اپنے غضب میں مَیں نے قَسم کھائی، ’یہ کبھی اُس ملک میں داخل نہیں ہوں گے جہاں مَیں اُنہیں سکون دیتا‘۔“

زبور 96

¶ رب کی تمجید میں نیا گیت گاؤ، اے پوری دنیا، رب کی مدح سرائی کرو۔

¶ رب کی تمجید میں گیت گاؤ، اُس کے نام کی ستائش کرو، روز بہ روز اُس کی نجات کی خوش خبری سناؤ۔

¶ قوموں میں اُس کا جلال اور تمام اُمّتوں میں اُس کے عجائب بیان کرو۔

¶ کیونکہ رب عظیم اور ستائش کے بہت لائق ہے۔ وہ تمام معبودوں سے مہیب ہے۔

¶ کیونکہ دیگر قوموں کے تمام معبود بُت ہی ہیں جبکہ رب نے آسمان کو بنایا۔

¶ اُس کے حضور شان و شوکت، اُس کے مقدِس میں قدرت اور جلال ہے۔

¶ اے قوموں کے قبیلو، رب کی تمجید کرو، رب کے جلال اور قدرت کی ستائش کرو۔

¶ رب کے نام کو جلال دو۔ قربانی لے کر اُس کی بارگاہوں میں داخل ہو جاؤ۔

¶ مُقدّس لباس سے آراستہ ہو کر رب کو سجدہ کرو۔ پوری دنیا اُس کے سامنے لرز اُٹھے۔

¶ قوموں میں اعلان کرو، ”رب ہی بادشاہ ہے! یقیناً دنیا مضبوطی سے قائم ہے اور نہیں ڈگمگائے گی۔ وہ انصاف سے قوموں کی عدالت کرے گا۔“

¶ آسمان خوش ہو، زمین جشن منائے! سمندر اور جو کچھ اُس میں ہے خوشی سے گرج اُٹھے۔

¶ میدان اور جو کچھ اُس میں ہے باغ باغ ہو۔ پھر جنگل کے درخت شادیانہ بجائیں گے۔

¶ وہ رب کے سامنے شادیانہ بجائیں گے، کیونکہ وہ آ رہا ہے، وہ دنیا کی عدالت کرنے آ رہا ہے۔ وہ انصاف سے دنیا کی عدالت کرے گا اور اپنی صداقت سے اقوام کا فیصلہ کرے گا۔

زبور 97

¶ رب بادشاہ ہے! زمین جشن منائے، ساحلی علاقے دُور دُور تک خوش ہوں۔

¶ وہ بادلوں اور گہرے اندھیرے سے گھرا رہتا ہے، راستی اور انصاف اُس کے تخت کی بنیاد ہیں۔

¶ آگ اُس کے آگے آگے بھڑک کر چاروں طرف اُس کے دشمنوں کو بھسم کر دیتی ہے۔

¶ اُس کی کڑکتی بجلیوں نے دنیا کو روشن کر دیا تو زمین یہ دیکھ کر پیچ و تاب کھانے لگی۔

¶ رب کے آگے آگے، ہاں پوری دنیا کے مالک کے آگے آگے پہاڑ موم کی طرح پگھل گئے۔

¶ آسمانوں نے اُس کی راستی کا اعلان کیا، اور تمام قوموں نے اُس کا جلال دیکھا۔

¶ تمام بُت پرست، ہاں سب جو بُتوں پر فخر کرتے ہیں شرمندہ ہوں۔ اے تمام معبودو، اُسے سجدہ کرو!

¶ کوہِ صیون سن کر خوش ہوا۔ اے رب، تیرے فیصلوں کے باعث یہوداہ کی بیٹیاں باغ باغ ہوئیں۔

¶ کیونکہ تُو اے رب، پوری دنیا پر سب سے اعلیٰ ہے، تُو تمام معبودوں سے سربلند ہے۔

¶ تم جو رب سے محبت رکھتے ہو، بُرائی سے نفرت کرو! رب اپنے ایمان داروں کی جان کو محفوظ رکھتا ہے، وہ اُنہیں بےدینوں کے قبضے سے چھڑاتا ہے۔

¶ راست باز کے لئے نور کا اور دل کے دیانت داروں کے لئے شادمانی کا بیج بویا گیا ہے۔

¶ اے راست بازو، رب سے خوش ہو، اُس کے مُقدّس نام کی ستائش کرو۔

زبور 98

¶ رب کی تمجید میں نیا گیت گاؤ، کیونکہ اُس نے معجزے کئے ہیں۔ اپنے دہنے ہاتھ اور مُقدّس بازو سے اُس نے نجات دی ہے۔

¶ رب نے اپنی نجات کا اعلان کیا اور اپنی راستی قوموں کے رُوبرُو ظاہر کی ہے۔

¶ اُس نے اسرائیل کے لئے اپنی شفقت اور وفا یاد کی ہے۔ دنیا کی انتہاؤں نے سب ہمارے خدا کی نجات دیکھی ہے۔

¶ اے پوری دنیا، نعرے لگا کر رب کی مدح سرائی کرو! آپے میں نہ سماؤ اور جشن منا کر حمد کے گیت گاؤ!

¶ سرود بجا کر رب کی مدح سرائی کرو، سرود اور گیت سے اُس کی ستائش کرو۔

¶ تُرم اور نرسنگا پھونک کر رب بادشاہ کے حضور خوشی کے نعرے لگاؤ!

¶ سمندر اور جو کچھ اُس میں ہے، دنیا اور اُس کے باشندے خوشی سے گرج اُٹھیں۔

¶ دریا تالیاں بجائیں، پہاڑ مل کر خوشی منائیں،

¶ وہ رب کے سامنے خوشی منائیں۔ کیونکہ وہ زمین کی عدالت کرنے آ رہا ہے۔ وہ انصاف سے دنیا کی عدالت کرے گا، راستی سے قوموں کا فیصلہ کرے گا۔

زبور 99

¶ رب بادشاہ ہے، اقوام لرز اُٹھیں! وہ کروبی فرشتوں کے درمیان تخت نشین ہے، دنیا ڈگمگائے!

¶ کوہِ صیون پر رب عظیم ہے، تمام اقوام پر سربلند ہے۔

¶ وہ تیرے عظیم اور پُرجلال نام کی ستائش کریں، کیونکہ وہ قدوس ہے۔

¶ وہ بادشاہ کی قدرت کی تمجید کریں جو انصاف سے پیار کرتا ہے۔ اے اللہ، تُو ہی نے عدل قائم کیا، تُو ہی نے یعقوب میں انصاف اور راستی پیدا کی ہے۔

¶ رب ہمارے خدا کی تعظیم کرو، اُس کے پاؤں کی چوکی کے سامنے سجدہ کرو، کیونکہ وہ قدوس ہے۔

¶ موسیٰ اور ہارون اُس کے اماموں میں سے تھے۔ سموایل بھی اُن میں سے تھا جو اُس کا نام پکارتے تھے۔ اُنہوں نے رب کو پکارا، اور اُس نے اُن کی سنی۔

¶ وہ بادل کے ستون میں سے اُن سے ہم کلام ہوا، اور وہ اُن احکام اور فرمانوں کے تابع رہے جو اُس نے اُنہیں دیئے تھے۔

¶ اے رب ہمارے خدا، تُو نے اُن کی سنی۔ تُو جو اللہ ہے اُنہیں معاف کرتا رہا، البتہ اُنہیں اُن کی بُری حرکتوں کی سزا بھی دیتا رہا۔

¶ رب ہمارے خدا کی تعظیم کرو اور اُس کے مُقدّس پہاڑ پر سجدہ کرو، کیونکہ رب ہمارا خدا قدوس ہے۔

زبور 100

¶ شکرگزاری کی قربانی کے لئے زبور۔ اے پوری دنیا، خوشی کے نعرے لگا کر رب کی مدح سرائی کرو!

¶ خوشی سے رب کی عبادت کرو، جشن مناتے ہوئے اُس کے حضور آؤ!

¶ جان لو کہ رب ہی خدا ہے۔ اُسی نے ہمیں خلق کیا، اور ہم اُس کے ہیں، اُس کی قوم اور اُس کی چراگاہ کی بھیڑیں۔

¶ شکر کرتے ہوئے اُس کے دروازوں میں داخل ہو، ستائش کرتے ہوئے اُس کی بارگاہوں میں حاضر ہو۔ اُس کا شکر کرو، اُس کے نام کی تمجید کرو!

¶ کیونکہ رب بھلا ہے۔ اُس کی شفقت ابدی ہے، اور اُس کی وفاداری پشت در پشت قائم ہے۔

زبور 109

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ میرے فخر، خاموش نہ رہ!

¶ کیونکہ اُنہوں نے اپنا بےدین اور فریب دہ منہ میرے خلاف کھول کر جھوٹی زبان سے میرے ساتھ بات کی ہے۔

¶ وہ مجھے نفرت کے الفاظ سے گھیر کر بلاوجہ مجھ سے لڑے ہیں۔

¶ میری محبت کے جواب میں وہ مجھ پر اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن دعا ہی میرا سہارا ہے۔

¶ میری نیکی کے عوض وہ مجھے نقصان پہنچاتے اور میرے پیار کے بدلے مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔

¶ اے اللہ، کسی بےدین کو مقرر کر جو میرے دشمن کے خلاف گواہی دے، کوئی مخالف اُس کے دہنے ہاتھ کھڑا ہو جائے جو اُس پر الزام لگائے۔

¶ مقدمے میں اُسے مجرم ٹھہرایا جائے۔ اُس کی دعائیں بھی اُس کے گناہوں میں شمار کی جائیں۔

¶ اُس کی زندگی مختصر ہو، کوئی اَور اُس کی ذمہ داری اُٹھائے۔

¶ اُس کی اولاد یتیم اور اُس کی بیوی بیوہ بن جائے۔

¶ اُس کے بچے آوارہ پھریں اور بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں۔ اُنہیں اُن کے تباہ شدہ گھروں سے نکل کر اِدھر اُدھر روٹی ڈھونڈنی پڑے۔

¶ جس سے اُس نے قرضہ لیا تھا وہ اُس کے تمام مال پر قبضہ کرے، اور اجنبی اُس کی محنت کا پھل لُوٹ لیں۔

¶ کوئی نہ ہو جو اُس پر مہربانی کرے یا اُس کے یتیموں پر رحم کرے۔

¶ اُس کی اولاد کو مٹایا جائے، اگلی پشت میں اُن کا نام و نشان تک نہ رہے۔

¶ رب اُس کے باپ دادا کی ناانصافی کا لحاظ کرے، اور وہ اُس کی ماں کی خطا بھی درگزر نہ کرے۔

¶ اُن کا بُرا کردار رب کے سامنے رہے، اور وہ اُن کی یاد رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالے۔

¶ کیونکہ اُس کو کبھی مہربانی کرنے کا خیال نہ آیا بلکہ وہ مصیبت زدہ، محتاج اور شکستہ دل کا تعاقب کرتا رہا تاکہ اُسے مار ڈالے۔

¶ اُسے لعنت کرنے کا شوق تھا، چنانچہ لعنت اُسی پر آئے! اُسے برکت دینا پسند نہیں تھا، چنانچہ برکت اُس سے دُور رہے۔

¶ اُس نے لعنت چادر کی طرح اوڑھ لی، چنانچہ لعنت پانی کی طرح اُس کے جسم میں اور تیل کی طرح اُس کی ہڈیوں میں سرایت کر جائے۔

¶ وہ کپڑے کی طرح اُس سے لپٹی رہے، پٹکے کی طرح ہمیشہ اُس سے کمربستہ رہے۔

¶ رب میرے مخالفوں کو اور اُنہیں جو میرے خلاف بُری باتیں کرتے ہیں یہی سزا دے۔

¶ لیکن تُو اے رب قادرِ مطلق، اپنے نام کی خاطر میرے ساتھ مہربانی کا سلوک کر۔ مجھے بچا، کیونکہ تیری ہی شفقت تسلی بخش ہے۔

¶ کیونکہ مَیں مصیبت زدہ اور ضرورت مند ہوں۔ میرا دل میرے اندر مجروح ہے۔

¶ شام کے ڈھلتے سائے کی طرح مَیں ختم ہونے والا ہوں۔ مجھے ٹڈی کی طرح جھاڑ کر دُور کر دیا گیا ہے۔

¶ روزہ رکھتے رکھتے میرے گھٹنے ڈگمگانے لگے اور میرا جسم سوکھ گیا ہے۔

¶ مَیں اپنے دشمنوں کے لئے مذاق کا نشانہ بن گیا ہوں۔ مجھے دیکھ کر وہ سر ہلا کر ”توبہ توبہ“ کہتے ہیں۔

¶ اے رب میرے خدا، میری مدد کر! اپنی شفقت کا اظہار کر کے مجھے چھڑا!

¶ اُنہیں پتا چلے کہ یہ تیرے ہاتھ سے پیش آیا ہے، کہ تُو رب ہی نے یہ سب کچھ کیا ہے۔

¶ جب وہ لعنت کریں تو مجھے برکت دے! جب وہ میرے خلاف اُٹھیں تو بخش دے کہ شرمندہ ہو جائیں جبکہ تیرا خادم خوش ہو۔

¶ میرے مخالف رُسوائی سے ملبّس ہو جائیں، اُنہیں شرمندگی کی چادر اوڑھنی پڑے۔

¶ مَیں زور سے رب کی ستائش کروں گا، بہتوں کے درمیان اُس کی حمد کروں گا۔

¶ کیونکہ وہ محتاج کے دہنے ہاتھ کھڑا رہتا ہے تاکہ اُسے اُن سے بچائے جو اُسے مجرم ٹھہراتے ہیں۔

زبور 110

¶ داؤد کا زبور۔ رب نے میرے رب سے کہا، ”میرے دہنے ہاتھ بیٹھ، جب تک مَیں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ بنا دوں۔“

¶ رب صیون سے تیری سلطنت کی سرحدیں بڑھا کر کہے گا، ”آس پاس کے دشمنوں پر حکومت کر!“

¶ جس دن تُو اپنی فوج کو کھڑا کرے گا تیری قوم خوشی سے تیرے پیچھے ہو لے گی۔ تُو مُقدّس شان و شوکت سے آراستہ ہو کر طلوعِ صبح کے باطن سے اپنی جوانی کی اوس پائے گا۔

¶ رب نے قَسم کھائی ہے اور اِس سے پچھتائے گا نہیں، ”تُو ابد تک امام ہے، ایسا امام جیسا مَلِک صدق تھا۔“

¶ رب تیرے دہنے ہاتھ پر رہے گا اور اپنے غضب کے دن دیگر بادشاہوں کو چُور چُور کرے گا۔

¶ وہ قوموں میں عدالت کر کے میدان کو لاشوں سے بھر دے گا اور دُور تک سروں کو پاش پاش کرے گا۔

¶ راستے میں وہ ندی سے پانی پی لے گا، اِس لئے اپنا سر اُٹھائے پھرے گا۔

زبور 111

¶ رب کی حمد ہو! مَیں پورے دل سے دیانت داروں کی مجلس اور جماعت میں رب کا شکر کروں گا۔

¶ رب کے کام عظیم ہیں۔ جو اُن سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہ اُن کا خوب مطالعہ کرتے ہیں۔

¶ اُس کا کام شاندار اور جلالی ہے، اُس کی راستی ابد تک قائم رہتی ہے۔

¶ وہ اپنے معجزے یاد کراتا ہے۔ رب مہربان اور رحیم ہے۔

¶ جو اُس کا خوف مانتے ہیں اُنہیں اُس نے خوراک مہیا کی ہے۔ وہ ہمیشہ تک اپنے عہد کا خیال رکھے گا۔

¶ اُس نے اپنی قوم کو اپنے زبردست کاموں کا اعلان کر کے کہا، ”مَیں تمہیں غیرقوموں کی میراث عطا کروں گا۔“

¶ جو بھی کام اُس کے ہاتھ کریں وہ سچے اور راست ہیں۔ اُس کے تمام احکام قابلِ اعتماد ہیں۔

¶ وہ ازل سے ابد تک قائم ہیں، اور اُن پر سچائی اور دیانت داری سے عمل کرنا ہے۔

¶ اُس نے اپنی قوم کا فدیہ بھیج کر اُسے چھڑایا ہے۔ اُس نے فرمایا، ”میرا قوم کے ساتھ عہد ابد تک قائم رہے۔“ اُس کا نام قدوس اور پُرجلال ہے۔

¶ حکمت اِس سے شروع ہوتی ہے کہ ہم رب کا خوف مانیں۔ جو بھی اُس کے احکام پر عمل کرے اُسے اچھی سمجھ حاصل ہو گی۔ اُس کی حمد ہمیشہ تک قائم رہے گی۔

زبور 112

¶ رب کی حمد ہو! مبارک ہے وہ جو اللہ کا خوف مانتا اور اُس کے احکام سے بہت لطف اندوز ہوتا ہے۔

¶ اُس کے فرزند ملک میں طاقت ور ہوں گے، اور دیانت دار کی نسل کو برکت ملے گی۔

¶ دولت اور خوش حالی اُس کے گھر میں رہے گی، اور اُس کی راست بازی ابد تک قائم رہے گی۔

¶ اندھیرے میں چلتے وقت دیانت داروں پر روشنی چمکتی ہے۔ وہ راست باز، مہربان اور رحیم ہے۔

¶ مہربانی کرنا اور قرض دینا بابرکت ہے۔ جو اپنے معاملوں کو انصاف سے حل کرے وہ اچھا کرے گا،

¶ کیونکہ وہ ابد تک نہیں ڈگمگائے گا۔ راست باز ہمیشہ ہی یاد رہے گا۔

¶ وہ بُری خبر ملنے سے نہیں ڈرتا۔ اُس کا دل مضبوط ہے، اور وہ رب پر بھروسا رکھتا ہے۔

¶ اُس کا دل مستحکم ہے۔ وہ سہما ہوا نہیں رہتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک دن مَیں اپنے دشمنوں کی شکست دیکھ کر خوش ہوں گا۔

¶ وہ فیاضی سے ضرورت مندوں میں خیرات بکھیر دیتا ہے۔ اُس کی راست بازی ہمیشہ قائم رہے گی، اور اُسے عزت کے ساتھ سرفراز کیا جائے گا۔

¶ بےدین یہ دیکھ کر ناراض ہو جائے گا، وہ دانت پیس پیس کر نیست ہو جائے گا۔ جو کچھ بےدین چاہتے ہیں وہ جاتا رہے گا۔

زبور 114

¶ جب اسرائیل مصر سے روانہ ہوا اور یعقوب کا گھرانا اجنبی زبان بولنے والی قوم سے نکل آیا

¶ تو یہوداہ اللہ کا مقدِس بن گیا اور اسرائیل اُس کی بادشاہی۔

¶ یہ دیکھ کر سمندر بھاگ گیا اور دریائے یردن پیچھے ہٹ گیا۔

¶ پہاڑ مینڈھوں کی طرح کودنے اور پہاڑیاں جوان بھیڑبکریوں کی طرح پھاندنے لگیں۔

¶ اے سمندر، کیا ہوا کہ تُو بھاگ گیا ہے؟ اے یردن، کیا ہوا کہ تُو پیچھے ہٹ گیا ہے؟

¶ اے پہاڑو، کیا ہوا کہ تم مینڈھوں کی طرح کودنے لگے ہو؟ اے پہاڑیو، کیا ہوا کہ تم جوان بھیڑبکریوں کی طرح پھاندنے لگی ہو؟

¶ اے زمین، رب کے حضور، یعقوب کے خدا کے حضور لرز اُٹھ،

¶ اُس کے سامنے تھرتھرا جس نے چٹان کو جوہڑ میں اور سخت پتھر کو چشمے میں بدل دیا۔

زبور 115

¶ اے رب، ہماری ہی عزت کی خاطر کام نہ کر بلکہ اِس لئے کہ تیرے نام کو جلال ملے، اِس لئے کہ تُو مہربان اور وفادار خدا ہے۔

¶ دیگر اقوام کیوں کہیں، ”اُن کا خدا کہاں ہے؟“

¶ ہمارا خدا تو آسمان پر ہے، اور جو جی چاہے کرتا ہے۔

¶ اُن کے بُت سونے چاندی کے ہیں، انسان کے ہاتھ نے اُنہیں بنایا ہے۔

¶ اُن کے منہ ہیں لیکن وہ بول نہیں سکتے۔ اُن کی آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے۔

¶ اُن کے کان ہیں لیکن وہ سن نہیں سکتے، اُن کی ناک ہے لیکن وہ سونگھ نہیں سکتے۔

¶ اُن کے ہاتھ ہیں، لیکن وہ چھو نہیں سکتے۔ اُن کے پاؤں ہیں، لیکن وہ چل نہیں سکتے۔ اُن کے گلے سے آواز نہیں نکلتی۔

¶ جو بُت بناتے ہیں وہ اُن کی مانند ہو جائیں، جو اُن پر بھروسا رکھتے ہیں وہ اُن جیسے بےحس و حرکت ہو جائیں۔

¶ اے اسرائیل، رب پر بھروسا رکھ! وہی تیرا سہارا اور تیری ڈھال ہے۔

¶ اے ہارون کے گھرانے، رب پر بھروسا رکھ! وہی تیرا سہارا اور تیری ڈھال ہے۔

¶ اے رب کا خوف ماننے والو، رب پر بھروسا رکھو! وہی تمہارا سہارا اور تمہاری ڈھال ہے۔

¶ رب نے ہمارا خیال کیا ہے، اور وہ ہمیں برکت دے گا۔ وہ اسرائیل کے گھرانے کو برکت دے گا، وہ ہارون کے گھرانے کو برکت دے گا۔

¶ وہ رب کا خوف ماننے والوں کو برکت دے گا، خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے۔

¶ رب تمہاری تعداد میں اضافہ کرے، تمہاری بھی اور تمہاری اولاد کی بھی۔

¶ رب جو آسمان و زمین کا خالق ہے تمہیں برکت سے مالا مال کرے۔

¶ آسمان تو رب کا ہے، لیکن زمین کو اُس نے آدم زادوں کو بخش دیا ہے۔

¶ اے رب، مُردے تیری ستائش نہیں کرتے، خاموشی کے ملک میں اُترنے والوں میں سے کوئی بھی تیری تمجید نہیں کرتا۔

¶ لیکن ہم رب کی ستائش اب سے ابد تک کریں گے۔ رب کی حمد ہو!

پاک انجیل مقدّس لوقا کے مطابق (باب 9: 10-17)

¶ رسول واپس آئے تو اُنہوں نے عیسیٰ کو سب کچھ سنایا جو اُنہوں نے کیا تھا۔ پھر وہ اُنہیں الگ لے جا کر بیت صیدا نامی شہر میں آیا۔

لیکن جب لوگوں کو پتا چلا تو وہ اُن کے پیچھے وہاں پہنچ گئے۔ عیسیٰ نے اُنہیں آنے دیا اور اللہ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ ساتھ ساتھ اُس نے مریضوں کو شفا بھی دی۔

جب دن ڈھلنے لگا تو بارہ شاگردوں نے پاس آ کر اُس سے کہا، ”لوگوں کو رُخصت کر دیں تاکہ وہ ارد گرد کے دیہاتوں اور بستیوں میں جا کر رات ٹھہرنے اور کھانے کا بندوبست کر سکیں، کیونکہ اِس ویران جگہ میں کچھ نہیں ملے گا۔“

¶ لیکن عیسیٰ نے اُنہیں کہا، ”تم خود اِنہیں کچھ کھانے کو دو۔“ اُنہوں نے جواب دیا، ”ہمارے پاس صرف پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں ہیں۔ یا کیا ہم جا کر اِن تمام لوگوں کے لئے کھانا خرید لائیں؟“

¶ (وہاں تقریباً 5,000 مرد تھے۔) عیسیٰ نے اپنے شاگردوں سے کہا، ”تمام لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کر کے بٹھا دو۔ ہر گروہ پچاس افراد پر مشتمل ہو۔“

¶ شاگردوں نے ایسا ہی کیا اور سب کو بٹھا دیا۔

اِس پر عیسیٰ نے اُن پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں کو لے کر آسمان کی طرف نظر اُٹھائی اور اُن کے لئے شکرگزاری کی دعا کی۔ پھر اُس نے اُنہیں توڑ توڑ کر شاگردوں کو دیا تاکہ وہ لوگوں میں تقسیم کریں۔

اور سب نے جی بھر کر کھایا۔ اِس کے بعد جب بچے ہوئے ٹکڑے جمع کئے گئے تو بارہ ٹوکرے بھر گئے۔

Tenoo oasht emmok o piekhristos nem pekyot en aghathos nem pi epnevma ethowab je akee ak soati emmon nai nan

ہم تیری عبادت کرتے ہیں، اے مسیح، تیرے نیک باپ اور روح القدس کے ساتھ، کیونکہ تو آیا اور تو نے ہمیں نجات دی۔

1. اے وہ جس نے ہماری خاطر نویں ساعت میں جسمانی طور پر موت کا مزا چکھا، ہم گناہگاروں کے جسمانی خواہشات کو مار دے، اے مسیح ہمارے خدا، اور ہمیں رہائی بخش۔ میری مناجات تیرے حضور نزدیک ہو؛ اے خداوند، اپنے کلام کے مطابق مجھے سمجھ بخش۔ میری درخواست تیری حضوری میں آئے؛ اپنے کلام کے مطابق مجھے زندہ کر۔

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو۔

2. اے تو جس نے نویں ساعت میں جب تو صلیب پر معلق تھا اپنی روح باپ کے ہاتھوں میں سونپی، اور اپنے ساتھ مصلوب چور کو فردوس میں داخل ہونے کی راہ دکھائی؛ مجھے، اے نیکوکار، نظرانداز نہ کر اور نہ مجھے، گم شدہ کو رد کر؛ بلکہ میری جان کو مقدس کر، میری سمجھ کو منور کر، اور مجھے تیری حیات بخش اسرار کی فیض میں شریک ہونے کے لائق بنا؛ تاکہ جب میں تیری مہربانیوں کا ذائقہ چکھوں تو سرد مہری کے بغیر تیری حمد کروں، اور سب چیزوں سے بڑھ کر تیری جلال کے مشتاق رہوں، اے مسیح ہمارے خداوند، اور ہمیں رہائی دے۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔

3. اے تو جو ہماری خاطر کنواری سے پیدا ہوا اور اے نیکوکار، مصلوبیت برداشت کی، اور اپنی موت سے موت کو موقوف کیا، اور اپنی قیامت سے قیامت کو ظاہر کیا؛ اے خدا، اُن سے منہ نہ موڑ جنہیں تو نے اپنے ہی ہاتھوں سے پیدا کیا؛ بلکہ، اے نیکوکار، اپنی انسان دوستی کو ظاہر کر۔ اپنی والدہ کی ہماری خاطر شفاعت قبول کر۔ اے نجات دہندہ، فروتن قوم کو چھڑا۔ ہمیں آخرت تک نہ چھوڑ اور نہ ہمیں ہمیشہ کے لیے ترک کر۔ اپنے عہد کو نہ توڑ، اور نہ ہم سے اپنی رحمت اٹھا، ابراہیم اپنے محبوب کے واسطے، اور اسحاق اپنے خادم کے واسطے، اور اسرائیل اپنے مقدس کے واسطے۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔

4. جب چور نے رئیسُ الحیات کو صلیب پر معلق دیکھا تو بولا: “اگر وہ جسے ہمارے ساتھ مصلوب کیا گیا ہے مجسم خدا نہ ہوتا تو آفتاب اپنی کرنیں نہ چھپاتا اور نہ زمین لرزتی۔ مگر اے قادرِ مطلق جو سب کچھ برداشت کرتا ہے، جب تو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد کرنا۔”

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو۔

5. اے تو جس نے صلیب پر چور کے اقرار کو قبول کیا، ہمیں بھی اپنے حضور قبول کر، اے نیکوکار؛ جو اپنے گناہوں کے سبب موت کے حکم کے لائق ہیں۔ ہم سب اس کے ساتھ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور تیری الوہیت کا اقرار کرتے ہوئے اس کے ساتھ پکار اٹھتے ہیں: “جب تو اپنی بادشاہی میں آئے تو ہمیں یاد کرنا، اے خداوند۔”

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔

6. جب ماں نے برّہ اور چرواہے، دنیا کے نجات دہندہ کو صلیب پر معلق دیکھا تو روتے ہوئے کہنے لگی: “دنیا نجات پانے میں خوشی مناتی ہے، مگر میرا دل جلتا ہے جب میں تیری مصلوبیت کو دیکھتی ہوں جو تو سب کی خاطر برداشت کر رہا ہے، اے میرے بیٹے اور میرے خدا۔”

پھر عبادت گزار دعا کرتا ہے:

خداوندا، ہماری سُن لے، ہم پر رحم کر، اور ہمارے گناہ معاف فرما۔ آمین۔

(خداوندا، رحم کر) 41 بار

تحلیل

اے خدا باپ، ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے باپ، جس نے اپنے ظہور سے ہمیں نجات دی اور دشمن کی غلامی سے چھڑایا؛ ہم تیرے اُس مبارک اور عظیم نام کے وسیلہ سے تیری منت کرتے ہیں: ہماری عقلوں کو دنیوی فکروں اور جسمانی خواہشوں سے اٹھا کر تیرے آسمانی احکام کی یاد کی طرف متوجہ کر؛ اَے نیکوکار، انسانوں کے ساتھ اپنی محبت کو ہمارے لیے کامل کر؛ اور ہماری دعائیں ہر وقت، اور خاص کر اس نَویں ساعت کی دعا، تیرے حضور مقبول ہو۔ اور ہمیں یہ بخش کہ ہم اس بُلاوے کے لائق چلیں جس کے لیے ہمیں بلایا گیا۔ تاکہ جب ہم اس بدن سے نکلیں تو تیرے اکلوتے بیٹے یسوع مسیح ہمارے خداوند کے دُکھوں کے شریک ہونے کے لائق شمار کیے جائیں، اور ہم پر رحمت ہو، ہمارے گناہ معاف ہوں اور ہم قدیسان کے مصاف میں نجات پائیں جنہوں نے ازل سے تا ابد حقیقت میں تجھے پسند کیا۔

اَے خدا، مخالف کی ہر قوت اور اُس کے سب شریر لشکروں کو ہم سے دور کر دے؛ جیسے تیرے اکلوتے بیٹے نے اپنے جان بخش صلیب کی قوت سے اُنہیں پامال کیا۔ اور ہمیں اپنے پاس قبول فرما، اَے ہمارے آقا یسوع مسیح، جیسے تُو نے دہنے والے ڈاکو کو قبول کیا تھا جب تُو صلیب کی لکڑی پر معلق تھا۔ اور ہم پر ایسا ہی نُور کر جیسا تُو نے اُن پر نُور کیا جو جہنم کی تاریکی میں تھے۔ ہم سب کو فردوسِ نعیم میں واپس لے آ، کیونکہ اَے ہمارے آقا، تُو مبارک خدا ہے، اور تیرے نیک باپ اور روح القدس کے ساتھ تجھے جلال، کرامت، عزت، قدرت اور سجدہ زیبا ہے اب بھی اور ہمیشہ اور ابد تک۔ آمین۔

ہر ساعت کے آخر میں پڑھی جانے والی درخواست

ہم پر رحم فرما، اے خدا، پھر ہم پر رحم فرما۔ تُو جو ہر وقت اور ہر ساعت، آسمان پر اور زمین پر، سجدہ اور تمجید پانے کے لائق ہے؛ مسیح، ہمارے نیک خدا؛ دیر غصہ، کثیرالرحم، اور نہایت ترس والا؛ جو صادقوں سے محبت رکھتا اور گنہگاروں پر رحم کرتا ہے—جن میں پہلا میں ہوں—جو نہ شریر کی موت چاہتا ہے بلکہ یہ کہ وہ رجوع لائے اور زندہ رہے؛ جو سب کو نجات کی طرف بُلانے والا ہے، آئندہ کی نیک باتوں کے وعدے کے سبب۔

اَے رب، اس ساعت اور ہر ساعت ہماری درخواستیں قبول فرما۔ ہماری زندگی آسان بنا۔ ہمیں اپنی وصیتوں پر عمل کرنے کی راہ دکھا۔ ہماری روحوں کو مقدس کر۔ ہمارے جسموں کو پاک کر۔ ہمارے خیالات کو سیدھا کر۔ ہماری نیتوں کو صاف کر۔ ہماری بیماریوں کو شفا دے اور ہمارے گناہ معاف کر۔ اور ہمیں ہر بُرے غم اور دِل کے درد سے نجات دے۔ اپنے مقدس فرشتوں سے ہمیں گھیر لے، تاکہ ہم اُن کے لشکر کے ساتھ محفوظ اور راہ یافتہ رہیں، اور ایمان کی یگانگت تک اور تیری اُس جلال کی پہچان تک پہنچیں جو حسّ و حد سے باہر ہے؛ کیونکہ تُو ابد تک مبارک ہے۔ آمین۔

اَے خدا، ہمیں اس لائق بنا کہ ہم شکر کے ساتھ یہ کہیں: اَے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔۔۔