گھڑی کی دعائیں

موجودہ گھنٹہ

پردہ کی دعا

سونے سے پہلے اور آدھی رات کی دعا کے درمیان پڑھی جانے والی یہ پردے کی دعا بالخصوص راہبوں، کاہنوں اور اساقفہ کی طرف سے دل کے محاسبے کے لیے پڑھی جاتی ہے۔

شام کی وہ ساعت جسے ظلمت کے حجاب یا سِتّارِ ظلمت (سین زیر کے ساتھ) کہا جاتا ہے اور اس کا وقت رات کی تاریکی کا پہلا داخل ہے، اور یہ آبائے رُہبان کے لیے خاص ہے۔

خداوند کی دعا

بلکہ یوں دعا کیا کرو، اے ہمارے آسمانی باپ، تیرا نام مُقدّس مانا جائے۔

¶ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جس طرح آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔

¶ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔

¶ ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم نے اُنہیں معاف کیا جنہوں نے ہمارا گناہ کیا ہے۔

¶ اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں ابلیس سے بچائے رکھ۔ [کیونکہ بادشاہی، قدرت اور جلال ابد تک تیرے ہی ہیں۔]

شکرگزاری کی دعا

بلکہ یوں دعا کیا کرو، اے ہمارے آسمانی باپ، تیرا نام مُقدّس مانا جائے۔

¶ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جس طرح آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔

¶ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔

¶ ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم نے اُنہیں معاف کیا جنہوں نے ہمارا گناہ کیا ہے۔

¶ اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں ابلیس سے بچائے رکھ۔ [کیونکہ بادشاہی، قدرت اور جلال ابد تک تیرے ہی ہیں۔]

زبور 50

¶ آسف کا زبور۔ رب قادرِ مطلق خدا بول اُٹھا ہے، اُس نے طلوعِ صبح سے لے کر غروبِ آفتاب تک پوری دنیا کو بُلایا ہے۔

¶ اللہ کا نور صیون سے چمک اُٹھا ہے، اُس پہاڑ سے جو کامل حُسن کا اظہار ہے۔

¶ ہمارا خدا آ رہا ہے، وہ خاموش نہیں رہے گا۔ اُس کے آگے آگے سب کچھ بھسم ہو رہا ہے، اُس کے ارد گرد تیز آندھی چل رہی ہے۔

¶ وہ آسمان و زمین کو آواز دیتا ہے، ”اب مَیں اپنی قوم کی عدالت کروں گا۔

¶ میرے ایمان داروں کو میرے حضور جمع کرو، اُنہیں جنہوں نے قربانیاں پیش کر کے میرے ساتھ عہد باندھا ہے۔“

¶ آسمان اُس کی راستی کا اعلان کریں گے، کیونکہ اللہ خود انصاف کرنے والا ہے۔ (سِلاہ)

¶ ”اے میری قوم، سن! مجھے بات کرنے دے۔ اے اسرائیل، مَیں تیرے خلاف گواہی دوں گا۔ مَیں اللہ تیرا خدا ہوں۔

¶ مَیں تجھے تیری ذبح کی قربانیوں کے باعث ملامت نہیں کر رہا۔ تیری بھسم ہونے والی قربانیاں تو مسلسل میرے سامنے ہیں۔

¶ نہ مَیں تیرے گھر سے بَیل لوں گا، نہ تیرے باڑوں سے بکرے۔

¶ کیونکہ جنگل کے تمام جاندار میرے ہی ہیں، ہزاروں پہاڑیوں پر بسنے والے جانور میرے ہی ہیں۔

¶ مَیں پہاڑوں کے ہر پرندے کو جانتا ہوں، اور جو بھی میدانوں میں حرکت کرتا ہے وہ میرا ہے۔

¶ اگر مجھے بھوک لگتی تو مَیں تجھے نہ بتاتا، کیونکہ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے میرا ہے۔

¶ کیا تُو سمجھتا ہے کہ مَیں سانڈوں کا گوشت کھانا یا بکروں کا خون پینا چاہتا ہوں؟

¶ اللہ کو شکرگزاری کی قربانی پیش کر، اور وہ مَنت پوری کر جو تُو نے اللہ تعالیٰ کے حضور مانی ہے۔

¶ مصیبت کے دن مجھے پکار۔ تب مَیں تجھے نجات دوں گا اور تُو میری تمجید کرے گا۔“

¶ لیکن بےدین سے اللہ فرماتا ہے، ”میرے احکام سنانے اور میرے عہد کا ذکر کرنے کا تیرا کیا حق ہے؟

¶ تُو تو تربیت سے نفرت کرتا اور میرے فرمان کچرے کی طرح اپنے پیچھے پھینک دیتا ہے۔

¶ کسی چور کو دیکھتے ہی تُو اُس کا ساتھ دیتا ہے، تُو زناکاروں سے رفاقت رکھتا ہے۔

¶ تُو اپنے منہ کو بُرے کام کے لئے استعمال کرتا، اپنی زبان کو دھوکا دینے کے لئے تیار رکھتا ہے۔

¶ تُو دوسروں کے پاس بیٹھ کر اپنے بھائی کے خلاف بولتا ہے، اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔

¶ یہ کچھ تُو نے کیا ہے، اور مَیں خاموش رہا۔ تب تُو سمجھا کہ مَیں بالکل تجھ جیسا ہوں۔ لیکن مَیں تجھے ملامت کروں گا، تیرے سامنے ہی معاملہ ترتیب سے سناؤں گا۔

¶ تم جو اللہ کو بھولے ہوئے ہو، بات سمجھ لو، ورنہ مَیں تمہیں پھاڑ ڈالوں گا۔ اُس وقت کوئی نہیں ہو گا جو تمہیں بچائے۔

¶ جو شکرگزاری کی قربانی پیش کرے وہ میری تعظیم کرتا ہے۔ جو مصمم ارادے سے ایسی راہ پر چلے اُسے مَیں اللہ کی نجات دکھاؤں گا۔“

پردے کی مبارک دعا،

¶ آسف کا زبور۔ رب قادرِ مطلق خدا بول اُٹھا ہے، اُس نے طلوعِ صبح سے لے کر غروبِ آفتاب تک پوری دنیا کو بُلایا ہے۔

¶ اللہ کا نور صیون سے چمک اُٹھا ہے، اُس پہاڑ سے جو کامل حُسن کا اظہار ہے۔

¶ ہمارا خدا آ رہا ہے، وہ خاموش نہیں رہے گا۔ اُس کے آگے آگے سب کچھ بھسم ہو رہا ہے، اُس کے ارد گرد تیز آندھی چل رہی ہے۔

¶ وہ آسمان و زمین کو آواز دیتا ہے، ”اب مَیں اپنی قوم کی عدالت کروں گا۔

¶ میرے ایمان داروں کو میرے حضور جمع کرو، اُنہیں جنہوں نے قربانیاں پیش کر کے میرے ساتھ عہد باندھا ہے۔“

¶ آسمان اُس کی راستی کا اعلان کریں گے، کیونکہ اللہ خود انصاف کرنے والا ہے۔ (سِلاہ)

¶ ”اے میری قوم، سن! مجھے بات کرنے دے۔ اے اسرائیل، مَیں تیرے خلاف گواہی دوں گا۔ مَیں اللہ تیرا خدا ہوں۔

¶ مَیں تجھے تیری ذبح کی قربانیوں کے باعث ملامت نہیں کر رہا۔ تیری بھسم ہونے والی قربانیاں تو مسلسل میرے سامنے ہیں۔

¶ نہ مَیں تیرے گھر سے بَیل لوں گا، نہ تیرے باڑوں سے بکرے۔

¶ کیونکہ جنگل کے تمام جاندار میرے ہی ہیں، ہزاروں پہاڑیوں پر بسنے والے جانور میرے ہی ہیں۔

¶ مَیں پہاڑوں کے ہر پرندے کو جانتا ہوں، اور جو بھی میدانوں میں حرکت کرتا ہے وہ میرا ہے۔

¶ اگر مجھے بھوک لگتی تو مَیں تجھے نہ بتاتا، کیونکہ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے میرا ہے۔

¶ کیا تُو سمجھتا ہے کہ مَیں سانڈوں کا گوشت کھانا یا بکروں کا خون پینا چاہتا ہوں؟

¶ اللہ کو شکرگزاری کی قربانی پیش کر، اور وہ مَنت پوری کر جو تُو نے اللہ تعالیٰ کے حضور مانی ہے۔

¶ مصیبت کے دن مجھے پکار۔ تب مَیں تجھے نجات دوں گا اور تُو میری تمجید کرے گا۔“

¶ لیکن بےدین سے اللہ فرماتا ہے، ”میرے احکام سنانے اور میرے عہد کا ذکر کرنے کا تیرا کیا حق ہے؟

¶ تُو تو تربیت سے نفرت کرتا اور میرے فرمان کچرے کی طرح اپنے پیچھے پھینک دیتا ہے۔

¶ کسی چور کو دیکھتے ہی تُو اُس کا ساتھ دیتا ہے، تُو زناکاروں سے رفاقت رکھتا ہے۔

¶ تُو اپنے منہ کو بُرے کام کے لئے استعمال کرتا، اپنی زبان کو دھوکا دینے کے لئے تیار رکھتا ہے۔

¶ تُو دوسروں کے پاس بیٹھ کر اپنے بھائی کے خلاف بولتا ہے، اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔

¶ یہ کچھ تُو نے کیا ہے، اور مَیں خاموش رہا۔ تب تُو سمجھا کہ مَیں بالکل تجھ جیسا ہوں۔ لیکن مَیں تجھے ملامت کروں گا، تیرے سامنے ہی معاملہ ترتیب سے سناؤں گا۔

¶ تم جو اللہ کو بھولے ہوئے ہو، بات سمجھ لو، ورنہ مَیں تمہیں پھاڑ ڈالوں گا۔ اُس وقت کوئی نہیں ہو گا جو تمہیں بچائے۔

¶ جو شکرگزاری کی قربانی پیش کرے وہ میری تعظیم کرتا ہے۔ جو مصمم ارادے سے ایسی راہ پر چلے اُسے مَیں اللہ کی نجات دکھاؤں گا۔“

زبور 4

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ اے میری راستی کے خدا، میری سن جب مَیں تجھے پکارتا ہوں۔ اے تُو جو مصیبت میں میری مخلصی رہا ہے مجھ پر مہربانی کر کے میری التجا سن!

¶ اے آدم زادو، میری عزت کب تک خاک میں ملائی جاتی رہے گی؟ تم کب تک باطل چیزوں سے لپٹے رہو گے، کب تک جھوٹ کی تلاش میں رہو گے؟ (سِلاہ)

¶ جان لو کہ رب نے ایمان دار کو اپنے لئے الگ کر رکھا ہے۔ رب میری سنے گا جب مَیں اُسے پکاروں گا۔

¶ غصے میں آتے وقت گناہ مت کرنا۔ اپنے بستر پر لیٹ کر معاملے پر سوچ بچار کرو، لیکن دل میں، خاموشی سے۔ (سِلاہ)

¶ راستی کی قربانیاں پیش کرو، اور رب پر بھروسا رکھو۔

¶ بہتیرے شک کر رہے ہیں، ”کون ہمارے حالات ٹھیک کرے گا؟“ اے رب، اپنے چہرے کا نور ہم پر چمکا!

¶ تُو نے میرے دل کو خوشی سے بھر دیا ہے، ایسی خوشی سے جو اُن کے پاس بھی نہیں ہوتی جن کے پاس کثرت کا اناج اور انگور ہے۔

¶ مَیں آرام سے لیٹ کر سو جاتا ہوں، کیونکہ تُو ہی اے رب مجھے حفاظت سے بسنے دیتا ہے۔

زبور 6

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ اے رب، غصے میں مجھے سزا نہ دے، طیش میں مجھے تنبیہ نہ کر۔

¶ اے رب، مجھ پر رحم کر، کیونکہ مَیں نڈھال ہوں۔ اے رب، مجھے شفا دے، کیونکہ میرے اعضا دہشت زدہ ہیں۔

¶ میری جان نہایت خوف زدہ ہے۔ اے رب، تُو کب تک دیر کرے گا؟

¶ اے رب، واپس آ کر میری جان کو بچا۔ اپنی شفقت کی خاطر مجھے چھٹکارا دے۔

¶ کیونکہ مُردہ تجھے یاد نہیں کرتا۔ پاتال میں کون تیری ستائش کرے گا؟

¶ مَیں کراہتے کراہتے تھک گیا ہوں۔ پوری رات رونے سے بستر بھیگ گیا ہے، میرے آنسوؤں سے پلنگ گل گیا ہے۔

¶ غم کے مارے میری آنکھیں سوج گئی ہیں، میرے مخالفوں کے حملوں سے وہ ضائع ہوتی جا رہی ہیں۔

¶ اے بدکارو، مجھ سے دُور ہو جاؤ، کیونکہ رب نے میری آہ و بکا سنی ہے۔

¶ رب نے میری التجاؤں کو سن لیا ہے، میری دعا رب کو قبول ہے۔

¶ میرے تمام دشمنوں کی رُسوائی ہو جائے گی، اور وہ سخت گھبرا جائیں گے۔ وہ مُڑ کر اچانک ہی شرمندہ ہو جائیں گے۔

زبور 8

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: گتّیت۔ اے رب ہمارے آقا، تیرا نام پوری دنیا میں کتنا شاندار ہے! تُو نے آسمان پر ہی اپنا جلال ظاہر کر دیا ہے۔

¶ اپنے مخالفوں کے جواب میں تُو نے چھوٹے بچوں اور شیرخواروں کی زبان کو تیار کیا ہے تاکہ وہ تیری قوت سے دشمن اور کینہ پرور کو ختم کریں۔

¶ جب مَیں تیرے آسمان کا ملاحظہ کرتا ہوں جو تیری اُنگلیوں کا کام ہے، چاند اور ستاروں پر غور کرتا ہوں جن کو تُو نے اپنی اپنی جگہ پر قائم کیا

¶ تو انسان کون ہے کہ تُو اُسے یاد کرے یا آدم زاد کہ تُو اُس کا خیال رکھے؟

¶ تُو نے اُسے فرشتوں سے کچھ ہی کم بنایا، تُو نے اُسے جلال اور عزت کا تاج پہنایا۔

¶ تُو نے اُسے اپنے ہاتھوں کے کاموں پر مقرر کیا، سب کچھ اُس کے پاؤں کے نیچے کر دیا،

¶ خواہ بھیڑبکریاں ہوں خواہ گائےبَیل، جنگلی جانور،

¶ پرندے، مچھلیاں یا سمندری راہوں پر چلنے والے باقی تمام جانور۔

¶ اے رب ہمارے آقا، پوری دنیا میں تیرا نام کتنا شاندار ہے!

زبور 12

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: شمینیت۔ اے رب، مدد فرما! کیونکہ ایمان دار ختم ہو گئے ہیں۔ دیانت دار انسانوں میں سے مٹ گئے ہیں۔

¶ آپس میں سب جھوٹ بولتے ہیں۔ اُن کی زبان پر چِکنی چپڑی باتیں ہوتی ہیں جبکہ دل میں کچھ اَور ہی ہوتا ہے۔

¶ رب تمام چِکنی چپڑی اور شیخی باز زبانوں کو کاٹ ڈالے!

¶ وہ اُن سب کو مٹا دے جو کہتے ہیں، ”ہم اپنی لائق زبان کے باعث طاقت ور ہیں۔ ہمارے ہونٹ ہمیں سہارا دیتے ہیں تو کون ہمارا مالک ہو گا؟ کوئی نہیں!“

¶ لیکن رب فرماتا ہے، ”ناچاروں پر تمہارے ظلم کی خبر اور ضرورت مندوں کی کراہتی آوازیں میرے سامنے آئی ہیں۔ اب مَیں اُٹھ کر اُنہیں اُن سے چھٹکارا دوں گا جو اُن کے خلاف پھنکارتے ہیں۔“

¶ رب کے فرمان پاک ہیں، وہ بھٹی میں سات بار صاف کی گئی چاندی کی مانند خالص ہیں۔

¶ اے رب، تُو ہی اُنہیں محفوظ رکھے گا، تُو ہی اُنہیں ابد تک اِس نسل سے بچائے رکھے گا،

¶ گو بےدین آزادی سے اِدھر اُدھر پھرتے ہیں، اور انسانوں کے درمیان کمینہ پن کا راج ہے۔

زبور 15

¶ داؤد کا زبور۔ اے رب، کون تیرے خیمے میں ٹھہر سکتا ہے؟ کس کو تیرے مُقدّس پہاڑ پر رہنے کی اجازت ہے؟

¶ وہ جس کا چال چلن بےگناہ ہے، جو راست باز زندگی گزار کر دل سے سچ بولتا ہے۔

¶ ایسا شخص اپنی زبان سے کسی پر تہمت نہیں لگاتا۔ نہ وہ اپنے پڑوسی پر زیادتی کرتا، نہ اُس کی بےعزتی کرتا ہے۔

¶ وہ مردود کو حقیر جانتا لیکن خدا ترس کی عزت کرتا ہے۔ جو وعدہ اُس نے قَسم کھا کر کیا اُسے پورا کرتا ہے، خواہ اُسے کتنا ہی نقصان کیوں نہ پہنچے۔

¶ وہ سود لئے بغیر اُدھار دیتا ہے اور اُس کی رشوت قبول نہیں کرتا جو بےگناہ کا حق مارنا چاہتا ہے۔ ایسا شخص کبھی ڈانواں ڈول نہیں ہو گا۔

زبور 24

¶ داؤد کا زبور۔ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے رب کا ہے، دنیا اور اُس کے باشندے اُسی کے ہیں۔

¶ کیونکہ اُس نے زمین کی بنیاد سمندروں پر رکھی اور اُسے دریاؤں پر قائم کیا۔

¶ کس کو رب کے پہاڑ پر چڑھنے کی اجازت ہے؟ کون اُس کے مُقدّس مقام میں کھڑا ہو سکتا ہے؟

¶ وہ جس کے ہاتھ پاک اور دل صاف ہیں، جو نہ فریب کا ارادہ رکھتا، نہ قَسم کھا کر جھوٹ بولتا ہے۔

¶ وہ رب سے برکت پائے گا، اُسے اپنی نجات کے خدا سے راستی ملے گی۔

¶ یہ ہو گا اُن لوگوں کا حال جو اللہ کی مرضی دریافت کرتے، جو تیرے چہرے کے طالب ہوتے ہیں، اے یعقوب کے خدا۔ (سِلاہ)

¶ اے پھاٹکو، کھل جاؤ! اے قدیم دروازو، پورے طور پر کھل جاؤ تاکہ جلال کا بادشاہ داخل ہو جائے۔

¶ جلال کا بادشاہ کون ہے؟ رب جو قوی اور قادر ہے، رب جو جنگ میں زورآور ہے۔

¶ اے پھاٹکو، کھل جاؤ! اے قدیم دروازو، پورے طور پر کھل جاؤ تاکہ جلال کا بادشاہ داخل ہو جائے۔

¶ جلال کا بادشاہ کون ہے؟ رب الافواج، وہی جلال کا بادشاہ ہے۔ (سِلاہ)

زبور 26

¶ داؤد کا زبور۔ اے رب، میرا انصاف کر، کیونکہ میرا چال چلن بےقصور ہے۔ مَیں نے رب پر بھروسا رکھا ہے، اور مَیں ڈانواں ڈول نہیں ہو جاؤں گا۔

¶ اے رب، مجھے جانچ لے، مجھے آزما کر دل کی تہہ تک میرا معائنہ کر۔

¶ کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سامنے رہی ہے، مَیں تیری سچی راہ پر چلتا رہا ہوں۔

¶ نہ مَیں دھوکے بازوں کی مجلس میں بیٹھتا، نہ چالاک لوگوں سے رفاقت رکھتا ہوں۔

¶ مجھے شریروں کے اجتماعوں سے نفرت ہے، بےدینوں کے ساتھ مَیں بیٹھتا بھی نہیں۔

¶ اے رب، مَیں اپنے ہاتھ دھو کر اپنی بےگناہی کا اظہار کرتا ہوں۔ مَیں تیری قربان گاہ کے گرد پھر کر

¶ بلند آواز سے تیری حمد و ثنا کرتا، تیرے تمام معجزات کا اعلان کرتا ہوں۔

¶ اے رب، تیری سکونت گاہ مجھے پیاری ہے، جس جگہ تیرا جلال ٹھہرتا ہے وہ مجھے عزیز ہے۔

¶ میری جان کو مجھ سے چھین کر مجھے گناہ گاروں میں شامل نہ کر! میری زندگی کو مٹا کر مجھے خوں خواروں میں شمار نہ کر،

¶ ایسے لوگوں میں جن کے ہاتھ شرم ناک حرکتوں سے آلودہ ہیں، جو ہر وقت رشوت کھاتے ہیں۔

¶ کیونکہ مَیں بےگناہ زندگی گزارتا ہوں۔ فدیہ دے کر مجھے چھٹکارا دے! مجھ پر مہربانی کر!

¶ میرے پاؤں ہموار زمین پر قائم ہو گئے ہیں، اور مَیں اجتماعوں میں رب کی ستائش کروں گا۔

زبور 66

¶ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ زبور۔ گیت۔ اے ساری زمین، خوشی کے نعرے لگا کر اللہ کی مدح سرائی کر!

¶ اُس کے نام کے جلال کی تمجید کرو، اُس کی ستائش عروج تک لے جاؤ!

¶ اللہ سے کہو، ”تیرے کام کتنے پُرجلال ہیں۔ تیری بڑی قدرت کے سامنے تیرے دشمن دبک کر تیری خوشامد کرنے لگتے ہیں۔

¶ تمام دنیا تجھے سجدہ کرے! وہ تیری تعریف میں گیت گائے، تیرے نام کی ستائش کرے۔“ (سِلاہ)

¶ آؤ، اللہ کے کام دیکھو! آدم زاد کی خاطر اُس نے کتنے پُرجلال معجزے کئے ہیں!

¶ اُس نے سمندر کو خشک زمین میں بدل دیا۔ جہاں پہلے پانی کا تیز بہاؤ تھا وہاں سے لوگ پیدل ہی گزرے۔ چنانچہ آؤ، ہم اُس کی خوشی منائیں۔

¶ اپنی قدرت سے وہ ابد تک حکومت کرتا ہے۔ اُس کی آنکھیں قوموں پر لگی رہتی ہیں تاکہ سرکش اُس کے خلاف نہ اُٹھیں۔ (سِلاہ)

¶ اے اُمّتو، ہمارے خدا کی حمد کرو۔ اُس کی ستائش دُور تک سنائی دے۔

¶ کیونکہ وہ ہماری زندگی قائم رکھتا، ہمارے پاؤں کو ڈگمگانے نہیں دیتا۔

¶ کیونکہ اے اللہ، تُو نے ہمیں آزمایا۔ جس طرح چاندی کو پگھلا کر صاف کیا جاتا ہے اُسی طرح تُو نے ہمیں پاک صاف کر دیا ہے۔

¶ تُو نے ہمیں جال میں پھنسا دیا، ہماری کمر پر اذیت ناک بوجھ ڈال دیا۔

¶ تُو نے لوگوں کے رتھوں کو ہمارے سروں پر سے گزرنے دیا، اور ہم آگ اور پانی کی زد میں آ گئے۔ لیکن پھر تُو نے ہمیں مصیبت سے نکال کر فراوانی کی جگہ پہنچایا۔

¶ مَیں بھسم ہونے والی قربانیاں لے کر تیرے گھر میں آؤں گا اور تیرے حضور اپنی مَنتیں پوری کروں گا،

¶ وہ مَنتیں جو میرے منہ نے مصیبت کے وقت مانی تھیں۔

¶ بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر مَیں تجھے موٹی تازی بھیڑیں اور مینڈھوں کا دھواں پیش کروں گا، ساتھ ساتھ بَیل اور بکرے بھی چڑھاؤں گا۔ (سِلاہ)

¶ اے اللہ کا خوف ماننے والو، آؤ اور سنو! جو کچھ اللہ نے میری جان کے لئے کیا وہ تمہیں سناؤں گا۔

¶ مَیں نے اپنے منہ سے اُسے پکارا، لیکن میری زبان اُس کی تعریف کرنے کے لئے تیار تھی۔

¶ اگر مَیں دل میں گناہ کی پرورش کرتا تو رب میری نہ سنتا۔

¶ لیکن یقیناً رب نے میری سنی، اُس نے میری التجا پر توجہ دی۔

¶ اللہ کی حمد ہو، جس نے نہ میری دعا رد کی، نہ اپنی شفقت مجھ سے باز رکھی۔

زبور 69

¶ داؤد کا زبور۔ طرز: سوسن کے پھول۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ، مجھے بچا! کیونکہ پانی میرے گلے تک پہنچ گیا ہے۔

¶ مَیں گہری دلدل میں دھنس گیا ہوں، کہیں پاؤں جمانے کی جگہ نہیں ملتی۔ مَیں پانی کی گہرائیوں میں آ گیا ہوں، سیلاب مجھ پر غالب آ گیا ہے۔

¶ مَیں چلّاتے چلّاتے تھک گیا ہوں۔ میرا گلا بیٹھ گیا ہے۔ اپنے خدا کا انتظار کرتے کرتے میری آنکھیں دُھندلا گئیں۔

¶ جو بلاوجہ مجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں، جو بےسبب میرے دشمن ہیں اور مجھے تباہ کرنا چاہتے ہیں وہ طاقت ور ہیں۔ جو کچھ مَیں نے نہیں لُوٹا اُسے مجھ سے طلب کیا جاتا ہے۔

¶ اے اللہ، تُو میری حماقت سے واقف ہے، میرا قصور تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔

¶ اے قادرِ مطلق رب الافواج، جو تیرے انتظار میں رہتے ہیں وہ میرے باعث شرمندہ نہ ہوں۔ اے اسرائیل کے خدا، میرے باعث تیرے طالب کی رُسوائی نہ ہو۔

¶ کیونکہ تیری خاطر مَیں شرمندگی برداشت کر رہا ہوں، تیری خاطر میرا چہرہ شرم سار ہی رہتا ہے۔

¶ مَیں اپنے سگے بھائیوں کے نزدیک اجنبی اور اپنی ماں کے بیٹوں کے نزدیک پردیسی بن گیا ہوں۔

¶ کیونکہ تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا گئی ہے، جو تجھے گالیاں دیتے ہیں اُن کی گالیاں مجھ پر آ گئی ہیں۔

¶ جب مَیں روزہ رکھ کر روتا تھا تو لوگ میرا مذاق اُڑاتے تھے۔

¶ جب ماتمی لباس پہنے پھرتا تھا تو اُن کے لئے عبرت انگیز مثال بن گیا۔

¶ جو بزرگ شہر کے دروازے پر بیٹھے ہیں وہ میرے بارے میں گپیں ہانکتے ہیں۔ شرابی مجھے اپنے طنز بھرے گیتوں کا نشانہ بناتے ہیں۔

¶ لیکن اے رب، میری تجھ سے دعا ہے کہ مَیں تجھے دوبارہ منظور ہو جاؤں۔ اے اللہ، اپنی عظیم شفقت کے مطابق میری سن، اپنی یقینی نجات کے مطابق مجھے بچا۔

¶ مجھے دلدل سے نکال تاکہ غرق نہ ہو جاؤں۔ مجھے اُن سے چھٹکارا دے جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ پانی کی گہرائیوں سے مجھے بچا۔

¶ سیلاب مجھ پر غالب نہ آئے، سمندر کی گہرائی مجھے ہڑپ نہ کر لے، گڑھا میرے اوپر اپنا منہ بند نہ کر لے۔

¶ اے رب، میری سن، کیونکہ تیری شفقت بھلی ہے۔ اپنے عظیم رحم کے مطابق میری طرف رجوع کر۔

¶ اپنا چہرہ اپنے خادم سے چھپائے نہ رکھ، کیونکہ مَیں مصیبت میں ہوں۔ جلدی سے میری سن!

¶ قریب آ کر میری جان کا فدیہ دے، میرے دشمنوں کے سبب سے عوضانہ دے کر مجھے چھڑا۔

¶ تُو میری رُسوائی، میری شرمندگی اور تذلیل سے واقف ہے۔ تیری آنکھیں میرے تمام دشمنوں پر لگی رہتی ہیں۔

¶ اُن کے طعنوں سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے، مَیں بیمار پڑ گیا ہوں۔ مَیں ہم دردی کے انتظار میں رہا، لیکن بےفائدہ۔ مَیں نے توقع کی کہ کوئی مجھے دلاسا دے، لیکن ایک بھی نہ ملا۔

¶ اُنہوں نے میری خوراک میں کڑوا زہر ملایا، مجھے سرکہ پلایا جب پیاسا تھا۔

¶ اُن کی میز اُن کے لئے پھندا اور اُن کے ساتھیوں کے لئے جال بن جائے۔

¶ اُن کی آنکھیں تاریک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں۔ اُن کی کمر ہمیشہ تک ڈگمگاتی رہے۔

¶ اپنا پورا غصہ اُن پر اُتار، تیرا سخت غضب اُن پر آ پڑے۔

¶ اُن کی رہائش گاہ سنسان ہو جائے اور کوئی اُن کے خیموں میں آباد نہ ہو،

¶ کیونکہ جسے تُو ہی نے سزا دی اُسے وہ ستاتے ہیں، جسے تُو ہی نے زخمی کیا اُس کا دُکھ دوسروں کو سنا کر خوش ہوتے ہیں۔

¶ اُن کے قصور کا سختی سے حساب کتاب کر، وہ تیرے سامنے راست باز نہ ٹھہریں۔

¶ اُنہیں کتابِ حیات سے مٹایا جائے، اُن کا نام راست بازوں کی فہرست میں درج نہ ہو۔

¶ ہائے، مَیں مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں، مجھے بہت درد ہے۔ اے اللہ، تیری نجات مجھے محفوظ رکھے۔

¶ مَیں اللہ کے نام کی مدح سرائی کروں گا، شکرگزاری سے اُس کی تعظیم کروں گا۔

¶ یہ رب کو بَیل یا سینگ اور کُھر رکھنے والے سانڈ سے کہیں زیادہ پسند آئے گا۔

¶ حلیم اللہ کا کام دیکھ کر خوش ہو جائیں گے۔ اے اللہ کے طالبو، تسلی پاؤ!

¶ کیونکہ رب محتاجوں کی سنتا اور اپنے قیدیوں کو حقیر نہیں جانتا۔

¶ آسمان و زمین اُس کی تمجید کریں، سمندر اور جو کچھ اُس میں حرکت کرتا ہے اُس کی ستائش کرے۔

¶ کیونکہ اللہ صیون کو نجات دے کر یہوداہ کے شہروں کو تعمیر کرے گا، اور اُس کے خادم اُن پر قبضہ کر کے اُن میں آباد ہو جائیں گے۔

¶ اُن کی اولاد ملک کو میراث میں پائے گی، اور اُس کے نام سے محبت رکھنے والے اُس میں بسے رہیں گے۔

درجِ ذیل زبور تیسری ساعت سے منتخب ہیں:

¶ داؤد کا زبور۔ طرز: سوسن کے پھول۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ، مجھے بچا! کیونکہ پانی میرے گلے تک پہنچ گیا ہے۔

¶ مَیں گہری دلدل میں دھنس گیا ہوں، کہیں پاؤں جمانے کی جگہ نہیں ملتی۔ مَیں پانی کی گہرائیوں میں آ گیا ہوں، سیلاب مجھ پر غالب آ گیا ہے۔

¶ مَیں چلّاتے چلّاتے تھک گیا ہوں۔ میرا گلا بیٹھ گیا ہے۔ اپنے خدا کا انتظار کرتے کرتے میری آنکھیں دُھندلا گئیں۔

¶ جو بلاوجہ مجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں، جو بےسبب میرے دشمن ہیں اور مجھے تباہ کرنا چاہتے ہیں وہ طاقت ور ہیں۔ جو کچھ مَیں نے نہیں لُوٹا اُسے مجھ سے طلب کیا جاتا ہے۔

¶ اے اللہ، تُو میری حماقت سے واقف ہے، میرا قصور تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔

¶ اے قادرِ مطلق رب الافواج، جو تیرے انتظار میں رہتے ہیں وہ میرے باعث شرمندہ نہ ہوں۔ اے اسرائیل کے خدا، میرے باعث تیرے طالب کی رُسوائی نہ ہو۔

¶ کیونکہ تیری خاطر مَیں شرمندگی برداشت کر رہا ہوں، تیری خاطر میرا چہرہ شرم سار ہی رہتا ہے۔

¶ مَیں اپنے سگے بھائیوں کے نزدیک اجنبی اور اپنی ماں کے بیٹوں کے نزدیک پردیسی بن گیا ہوں۔

¶ کیونکہ تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا گئی ہے، جو تجھے گالیاں دیتے ہیں اُن کی گالیاں مجھ پر آ گئی ہیں۔

¶ جب مَیں روزہ رکھ کر روتا تھا تو لوگ میرا مذاق اُڑاتے تھے۔

¶ جب ماتمی لباس پہنے پھرتا تھا تو اُن کے لئے عبرت انگیز مثال بن گیا۔

¶ جو بزرگ شہر کے دروازے پر بیٹھے ہیں وہ میرے بارے میں گپیں ہانکتے ہیں۔ شرابی مجھے اپنے طنز بھرے گیتوں کا نشانہ بناتے ہیں۔

¶ لیکن اے رب، میری تجھ سے دعا ہے کہ مَیں تجھے دوبارہ منظور ہو جاؤں۔ اے اللہ، اپنی عظیم شفقت کے مطابق میری سن، اپنی یقینی نجات کے مطابق مجھے بچا۔

¶ مجھے دلدل سے نکال تاکہ غرق نہ ہو جاؤں۔ مجھے اُن سے چھٹکارا دے جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ پانی کی گہرائیوں سے مجھے بچا۔

¶ سیلاب مجھ پر غالب نہ آئے، سمندر کی گہرائی مجھے ہڑپ نہ کر لے، گڑھا میرے اوپر اپنا منہ بند نہ کر لے۔

¶ اے رب، میری سن، کیونکہ تیری شفقت بھلی ہے۔ اپنے عظیم رحم کے مطابق میری طرف رجوع کر۔

¶ اپنا چہرہ اپنے خادم سے چھپائے نہ رکھ، کیونکہ مَیں مصیبت میں ہوں۔ جلدی سے میری سن!

¶ قریب آ کر میری جان کا فدیہ دے، میرے دشمنوں کے سبب سے عوضانہ دے کر مجھے چھڑا۔

¶ تُو میری رُسوائی، میری شرمندگی اور تذلیل سے واقف ہے۔ تیری آنکھیں میرے تمام دشمنوں پر لگی رہتی ہیں۔

¶ اُن کے طعنوں سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے، مَیں بیمار پڑ گیا ہوں۔ مَیں ہم دردی کے انتظار میں رہا، لیکن بےفائدہ۔ مَیں نے توقع کی کہ کوئی مجھے دلاسا دے، لیکن ایک بھی نہ ملا۔

¶ اُنہوں نے میری خوراک میں کڑوا زہر ملایا، مجھے سرکہ پلایا جب پیاسا تھا۔

¶ اُن کی میز اُن کے لئے پھندا اور اُن کے ساتھیوں کے لئے جال بن جائے۔

¶ اُن کی آنکھیں تاریک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں۔ اُن کی کمر ہمیشہ تک ڈگمگاتی رہے۔

¶ اپنا پورا غصہ اُن پر اُتار، تیرا سخت غضب اُن پر آ پڑے۔

¶ اُن کی رہائش گاہ سنسان ہو جائے اور کوئی اُن کے خیموں میں آباد نہ ہو،

¶ کیونکہ جسے تُو ہی نے سزا دی اُسے وہ ستاتے ہیں، جسے تُو ہی نے زخمی کیا اُس کا دُکھ دوسروں کو سنا کر خوش ہوتے ہیں۔

¶ اُن کے قصور کا سختی سے حساب کتاب کر، وہ تیرے سامنے راست باز نہ ٹھہریں۔

¶ اُنہیں کتابِ حیات سے مٹایا جائے، اُن کا نام راست بازوں کی فہرست میں درج نہ ہو۔

¶ ہائے، مَیں مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں، مجھے بہت درد ہے۔ اے اللہ، تیری نجات مجھے محفوظ رکھے۔

¶ مَیں اللہ کے نام کی مدح سرائی کروں گا، شکرگزاری سے اُس کی تعظیم کروں گا۔

¶ یہ رب کو بَیل یا سینگ اور کُھر رکھنے والے سانڈ سے کہیں زیادہ پسند آئے گا۔

¶ حلیم اللہ کا کام دیکھ کر خوش ہو جائیں گے۔ اے اللہ کے طالبو، تسلی پاؤ!

¶ کیونکہ رب محتاجوں کی سنتا اور اپنے قیدیوں کو حقیر نہیں جانتا۔

¶ آسمان و زمین اُس کی تمجید کریں، سمندر اور جو کچھ اُس میں حرکت کرتا ہے اُس کی ستائش کرے۔

¶ کیونکہ اللہ صیون کو نجات دے کر یہوداہ کے شہروں کو تعمیر کرے گا، اور اُس کے خادم اُن پر قبضہ کر کے اُن میں آباد ہو جائیں گے۔

¶ اُن کی اولاد ملک کو میراث میں پائے گی، اور اُس کے نام سے محبت رکھنے والے اُس میں بسے رہیں گے۔

زبور 22

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: طلوعِ صبح کی ہرنی۔ اے میرے خدا، اے میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں ترک کر دیا ہے؟ مَیں چیخ رہا ہوں، لیکن میری نجات نظر نہیں آتی۔

¶ اے میرے خدا، دن کو مَیں چلّاتا ہوں، لیکن تُو جواب نہیں دیتا۔ رات کو پکارتا ہوں، لیکن آرام نہیں پاتا۔

¶ لیکن تُو قدوس ہے، تُو جو اسرائیل کی مدح سرائی پر تخت نشین ہوتا ہے۔

¶ تجھ پر ہمارے باپ دادا نے بھروسا رکھا، اور جب بھروسا رکھا تو تُو نے اُنہیں رِہائی دی۔

¶ جب اُنہوں نے مدد کے لئے تجھے پکارا تو بچنے کا راستہ کھل گیا۔ جب اُنہوں نے تجھ پر اعتماد کیا تو شرمندہ نہ ہوئے۔

¶ لیکن مَیں کیڑا ہوں، مجھے انسان نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ میری بےعزتی کرتے، مجھے حقیر جانتے ہیں۔

¶ سب مجھے دیکھ کر میرا مذاق اُڑاتے ہیں۔ وہ منہ بنا کر توبہ توبہ کرتے اور کہتے ہیں،

¶ ”اُس نے اپنا معاملہ رب کے سپرد کیا ہے۔ اب رب ہی اُسے بچائے۔ وہی اُسے چھٹکارا دے، کیونکہ وہی اُس سے خوش ہے۔“

¶ یقیناً تُو مجھے ماں کے پیٹ سے نکال لایا۔ مَیں ابھی ماں کا دودھ پیتا تھا کہ تُو نے میرے دل میں بھروسا پیدا کیا۔

¶ جوں ہی مَیں پیدا ہوا مجھے تجھ پر چھوڑ دیا گیا۔ ماں کے پیٹ سے ہی تُو میرا خدا رہا ہے۔

¶ مجھ سے دُور نہ رہ۔ کیونکہ مصیبت نے میرا دامن پکڑ لیا ہے، اور کوئی نہیں جو میری مدد کرے۔

¶ متعدد بَیلوں نے مجھے گھیر لیا، بسن کے طاقت ور سانڈ چاروں طرف جمع ہو گئے ہیں۔

¶ میرے خلاف اُنہوں نے اپنے منہ کھول دیئے ہیں، اُس دہاڑتے ہوئے شیرببر کی طرح جو شکار کو پھاڑنے کے جوش میں آ گیا ہے۔

¶ مجھے پانی کی طرح زمین پر اُنڈیلا گیا ہے، میری تمام ہڈیاں الگ الگ ہو گئی ہیں، جسم کے اندر میرا دل موم کی طرح پگھل گیا ہے۔

¶ میری طاقت ٹھیکرے کی طرح خشک ہو گئی، میری زبان تالو سے چپک گئی ہے۔ ہاں، تُو نے مجھے موت کی خاک میں لٹا دیا ہے۔

¶ کُتوں نے مجھے گھیر رکھا، شریروں کے جتھے نے میرا احاطہ کیا ہے۔ اُنہوں نے میرے ہاتھوں اور پاؤں کو چھید ڈالا ہے۔

¶ مَیں اپنی ہڈیوں کو گن سکتا ہوں۔ لوگ گھور گھور کر میری مصیبت سے خوش ہوتے ہیں۔

¶ وہ آپس میں میرے کپڑے بانٹ لیتے اور میرے لباس پر قرعہ ڈالتے ہیں۔

¶ لیکن تُو اے رب، دُور نہ رہ! اے میری قوت، میری مدد کرنے کے لئے جلدی کر!

¶ میری جان کو تلوار سے بچا، میری زندگی کو کُتے کے پنجے سے چھڑا۔

¶ شیر کے منہ سے مجھے مخلصی دے، جنگلی بَیلوں کے سینگوں سے رِہائی عطا کر۔ اے رب، تُو نے میری سنی ہے!

¶ مَیں اپنے بھائیوں کے سامنے تیرے نام کا اعلان کروں گا، جماعت کے درمیان تیری مدح سرائی کروں گا۔

¶ تم جو رب کا خوف مانتے ہو، اُس کی تمجید کرو! اے یعقوب کی تمام اولاد، اُس کا احترام کرو! اے اسرائیل کے تمام فرزندو، اُس سے خوف کھاؤ!

¶ کیونکہ نہ اُس نے مصیبت زدہ کا دُکھ حقیر جانا، نہ اُس کی تکلیف سے گھن کھائی۔ اُس نے اپنا منہ اُس سے نہ چھپایا بلکہ اُس کی سنی جب وہ مدد کے لئے چیخنے چلّانے لگا۔

¶ اے خدا، بڑے اجتماع میں مَیں تیری ستائش کروں گا، خدا ترسوں کے سامنے اپنی مَنت پوری کروں گا۔

¶ ناچار جی بھر کر کھائیں گے، رب کے طالب اُس کی حمد و ثنا کریں گے۔ تمہارے دل ابد تک زندہ رہیں!

¶ لوگ دنیا کی انتہا تک رب کو یاد کر کے اُس کی طرف رجوع کریں گے۔ غیراقوام کے تمام خاندان اُسے سجدہ کریں گے۔

¶ کیونکہ رب کو ہی بادشاہی کا اختیار حاصل ہے، وہی اقوام پر حکومت کرتا ہے۔

¶ دنیا کے تمام بڑے لوگ اُس کے حضور کھائیں گے اور سجدہ کریں گے۔ خاک میں اُترنے والے سب اُس کے سامنے جھک جائیں گے، وہ سب جو اپنی زندگی کو خود قائم نہیں رکھ سکتے۔

¶ اُس کے فرزند اُس کی خدمت کریں گے۔ ایک آنے والی نسل کو رب کے بارے میں سنایا جائے گا۔

¶ ہاں، وہ آ کر اُس کی راستی ایک قوم کو سنائیں گے جو ابھی پیدا نہیں ہوئی، کیونکہ اُس نے یہ کچھ کیا ہے۔

زبور 29

¶ داؤد کا زبور۔ اے اللہ کے فرزندو، رب کی تمجید کرو! رب کے جلال اور قدرت کی ستائش کرو!

¶ رب کے نام کو جلال دو۔ مُقدّس لباس سے آراستہ ہو کر رب کو سجدہ کرو۔

¶ رب کی آواز سمندر کے اوپر گونجتی ہے۔ جلال کا خدا گرجتا ہے، رب گہرے پانی کے اوپر گرجتا ہے۔

¶ رب کی آواز زوردار ہے، رب کی آواز پُرجلال ہے۔

¶ رب کی آواز دیودار کے درختوں کو توڑ ڈالتی ہے، رب لبنان کے دیودار کے درختوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔

¶ وہ لبنان کو بچھڑے اور کوہِ سِریون کو جنگلی بَیل کے بچے کی طرح کودنے پھاندنے دیتا ہے۔

¶ رب کی آواز آگ کے شعلے بھڑکا دیتی ہے۔

¶ رب کی آواز ریگستان کو ہلا دیتی ہے، رب دشتِ قادس کو کانپنے دیتا ہے۔

¶ رب کی آواز سن کر ہرنی دردِ زہ میں مبتلا ہو جاتی اور جنگلوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ لیکن اُس کی سکونت گاہ میں سب پکارتے ہیں، ”جلال!“

¶ رب سیلاب کے اوپر تخت نشین ہے، رب بادشاہ کی حیثیت سے ابد تک تخت نشین ہے۔

¶ رب اپنی قوم کو تقویت دے گا، رب اپنے لوگوں کو سلامتی کی برکت دے گا۔

زبور 42

¶ قورح کی اولاد کا زبور۔ حکمت کا گیت۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ، جس طرح ہرنی ندیوں کے تازہ پانی کے لئے تڑپتی ہے اُسی طرح میری جان تیرے لئے تڑپتی ہے۔

¶ میری جان خدا، ہاں زندہ خدا کی پیاسی ہے۔ مَیں کب جا کر اللہ کا چہرہ دیکھوں گا؟

¶ دن رات میرے آنسو میری غذا رہے ہیں۔ کیونکہ پورا دن مجھ سے کہا جاتا ہے، ”تیرا خدا کہاں ہے؟“

¶ پہلے حالات یاد کر کے مَیں اپنے سامنے اپنے دل کی آہ و زاری اُنڈیل دیتا ہوں۔ کتنا مزہ آتا تھا جب ہمارا جلوس نکلتا تھا، جب مَیں ہجوم کے بیچ میں خوشی اور شکرگزاری کے نعرے لگاتے ہوئے اللہ کی سکونت گاہ کی جانب بڑھتا جاتا تھا۔ کتنا شور مچ جاتا تھا جب ہم جشن مناتے ہوئے گھومتے پھرتے تھے۔

¶ اے میری جان، تُو غم کیوں کھا رہی ہے، بےچینی سے کیوں تڑپ رہی ہے؟ اللہ کے انتظار میں رہ، کیونکہ مَیں دوبارہ اُس کی ستائش کروں گا جو میرا خدا ہے اور میرے دیکھتے دیکھتے مجھے نجات دیتا ہے۔

¶ میری جان غم کے مارے پگھل رہی ہے۔ اِس لئے مَیں تجھے یردن کے ملک، حرمون کے پہاڑی سلسلے اور کوہِ مِصعار سے یاد کرتا ہوں۔

¶ جب سے تیرے آبشاروں کی آواز بلند ہوئی تو ایک سیلاب دوسرے کو پکارنے لگا ہے۔ تیری تمام موجیں اور لہریں مجھ پر سے گزر گئی ہیں۔

¶ دن کے وقت رب اپنی شفقت بھیجے گا، اور رات کے وقت اُس کا گیت میرے ساتھ ہو گا، مَیں اپنی حیات کے خدا سے دعا کروں گا۔

¶ مَیں اللہ اپنی چٹان سے کہوں گا، ”تُو مجھے کیوں بھول گیا ہے؟ مَیں اپنے دشمن کے ظلم کے باعث کیوں ماتمی لباس پہنے پھروں؟“

¶ میرے دشمنوں کی لعن طعن سے میری ہڈیاں ٹوٹ رہی ہیں، کیونکہ پورا دن وہ کہتے ہیں، ”تیرا خدا کہاں ہے؟“

¶ اے میری جان، تُو غم کیوں کھا رہی ہے، بےچینی سے کیوں تڑپ رہی ہے؟ اللہ کے انتظار میں رہ، کیونکہ مَیں دوبارہ اُس کی ستائش کروں گا جو میرا خدا ہے اور میرے دیکھتے دیکھتے مجھے نجات دیتا ہے۔

درجِ ذیل زبور چھٹی ساعت سے منتخب ہیں:

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: دُوردراز جزیروں کا کبوتر۔ یہ سنہرا گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب فلستیوں نے اُسے جات میں پکڑ لیا۔ اے اللہ، مجھ پر مہربانی کر! کیونکہ لوگ مجھے تنگ کر رہے ہیں، لڑنے والا دن بھر مجھے ستا رہا ہے۔

¶ دن بھر میرے دشمن میرے پیچھے لگے ہیں، کیونکہ وہ بہت ہیں اور غرور سے مجھ سے لڑ رہے ہیں۔

¶ لیکن جب خوف مجھے اپنی گرفت میں لے لے تو مَیں تجھ پر ہی بھروسا رکھتا ہوں۔

¶ اللہ کے کلام پر میرا فخر ہے، اللہ پر میرا بھروسا ہے۔ مَیں ڈروں گا نہیں، کیونکہ فانی انسان مجھے کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

¶ دن بھر وہ میرے الفاظ کو توڑ مروڑ کر غلط معنی نکالتے، اپنے تمام منصوبوں سے مجھے ضرر پہنچانا چاہتے ہیں۔

¶ وہ حملہ آور ہو کر تاک میں بیٹھ جاتے اور میرے ہر قدم پر غور کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ مجھے مار ڈالنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

¶ جو ایسی شریر حرکتیں کرتے ہیں، کیا اُنہیں بچنا چاہئے؟ ہرگز نہیں! اے اللہ، اقوام کو غصے میں خاک میں ملا دے۔

¶ جتنے بھی دن مَیں بےگھر پھرا ہوں اُن کا تُو نے پورا حساب رکھا ہے۔ اے اللہ، میرے آنسو اپنے مشکیزے میں ڈال لے! کیا وہ پہلے سے تیری کتاب میں قلم بند نہیں ہیں؟ ضرور!

¶ پھر جب مَیں تجھے پکاروں گا تو میرے دشمن مجھ سے باز آئیں گے۔ یہ مَیں نے جان لیا ہے کہ اللہ میرے ساتھ ہے!

¶ اللہ کے کلام پر میرا فخر ہے، رب کے کلام پر میرا فخر ہے۔

¶ اللہ پر میرا بھروسا ہے۔ مَیں ڈروں گا نہیں، کیونکہ فانی انسان مجھے کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

¶ اے اللہ، تیرے حضور مَیں نے مَنتیں مانی ہیں، اور اب مَیں تجھے شکرگزاری کی قربانیاں پیش کروں گا۔

¶ کیونکہ تُو نے میری جان کو موت سے بچایا اور میرے پاؤں کو ٹھوکر کھانے سے محفوظ رکھا تاکہ زندگی کی روشنی میں اللہ کے حضور چلوں۔

زبور 56

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: دُوردراز جزیروں کا کبوتر۔ یہ سنہرا گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب فلستیوں نے اُسے جات میں پکڑ لیا۔ اے اللہ، مجھ پر مہربانی کر! کیونکہ لوگ مجھے تنگ کر رہے ہیں، لڑنے والا دن بھر مجھے ستا رہا ہے۔

¶ دن بھر میرے دشمن میرے پیچھے لگے ہیں، کیونکہ وہ بہت ہیں اور غرور سے مجھ سے لڑ رہے ہیں۔

¶ لیکن جب خوف مجھے اپنی گرفت میں لے لے تو مَیں تجھ پر ہی بھروسا رکھتا ہوں۔

¶ اللہ کے کلام پر میرا فخر ہے، اللہ پر میرا بھروسا ہے۔ مَیں ڈروں گا نہیں، کیونکہ فانی انسان مجھے کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

¶ دن بھر وہ میرے الفاظ کو توڑ مروڑ کر غلط معنی نکالتے، اپنے تمام منصوبوں سے مجھے ضرر پہنچانا چاہتے ہیں۔

¶ وہ حملہ آور ہو کر تاک میں بیٹھ جاتے اور میرے ہر قدم پر غور کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ مجھے مار ڈالنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

¶ جو ایسی شریر حرکتیں کرتے ہیں، کیا اُنہیں بچنا چاہئے؟ ہرگز نہیں! اے اللہ، اقوام کو غصے میں خاک میں ملا دے۔

¶ جتنے بھی دن مَیں بےگھر پھرا ہوں اُن کا تُو نے پورا حساب رکھا ہے۔ اے اللہ، میرے آنسو اپنے مشکیزے میں ڈال لے! کیا وہ پہلے سے تیری کتاب میں قلم بند نہیں ہیں؟ ضرور!

¶ پھر جب مَیں تجھے پکاروں گا تو میرے دشمن مجھ سے باز آئیں گے۔ یہ مَیں نے جان لیا ہے کہ اللہ میرے ساتھ ہے!

¶ اللہ کے کلام پر میرا فخر ہے، رب کے کلام پر میرا فخر ہے۔

¶ اللہ پر میرا بھروسا ہے۔ مَیں ڈروں گا نہیں، کیونکہ فانی انسان مجھے کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

¶ اے اللہ، تیرے حضور مَیں نے مَنتیں مانی ہیں، اور اب مَیں تجھے شکرگزاری کی قربانیاں پیش کروں گا۔

¶ کیونکہ تُو نے میری جان کو موت سے بچایا اور میرے پاؤں کو ٹھوکر کھانے سے محفوظ رکھا تاکہ زندگی کی روشنی میں اللہ کے حضور چلوں۔

زبور 85

¶ قورح کی اولاد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، پہلے تُو نے اپنے ملک کو پسند کیا، پہلے یعقوب کو بحال کیا۔

¶ پہلے تُو نے اپنی قوم کا قصور معاف کیا، اُس کا تمام گناہ ڈھانپ دیا۔ (سِلاہ)

¶ جو غضب ہم پر نازل ہو رہا تھا اُس کا سلسلہ تُو نے روک دیا، جو قہر ہمارے خلاف بھڑک رہا تھا اُسے چھوڑ دیا۔

¶ اے ہماری نجات کے خدا، ہمیں دوبارہ بحال کر۔ ہم سے ناراض ہونے سے باز آ۔

¶ کیا تُو ہمیشہ تک ہم سے غصے رہے گا؟ کیا تُو اپنا قہر پشت در پشت قائم رکھے گا؟

¶ کیا تُو دوبارہ ہماری جان کو تازہ دم نہیں کرے گا تاکہ تیری قوم تجھ سے خوش ہو جائے؟

¶ اے رب، اپنی شفقت ہم پر ظاہر کر، اپنی نجات ہمیں عطا فرما۔

¶ مَیں وہ کچھ سنوں گا جو خدا رب فرمائے گا۔ کیونکہ وہ اپنی قوم اور اپنے ایمان داروں سے سلامتی کا وعدہ کرے گا، البتہ لازم ہے کہ وہ دوبارہ حماقت میں اُلجھ نہ جائیں۔

¶ یقیناً اُس کی نجات اُن کے قریب ہے جو اُس کا خوف مانتے ہیں تاکہ جلال ہمارے ملک میں سکونت کرے۔

¶ شفقت اور وفاداری ایک دوسرے کے گلے لگ گئے ہیں، راستی اور سلامتی نے ایک دوسرے کو بوسہ دیا ہے۔

¶ سچائی زمین سے پھوٹ نکلے گی اور راستی آسمان سے زمین پر نظر ڈالے گی۔

¶ اللہ ضرور وہ کچھ دے گا جو اچھا ہے، ہماری زمین ضرور اپنی فصلیں پیدا کرے گی۔

¶ راستی اُس کے آگے آگے چل کر اُس کے قدموں کے لئے راستہ تیار کرے گی۔

زبور 90

¶ مردِ خدا موسیٰ کی دعا۔ اے رب، پشت در پشت تُو ہماری پناہ گاہ رہا ہے۔

¶ اِس سے پہلے کہ پہاڑ پیدا ہوئے اور تُو زمین اور دنیا کو وجود میں لایا تُو ہی تھا۔ اے اللہ، تُو ازل سے ابد تک ہے۔

¶ تُو انسان کو دوبارہ خاک ہونے دیتا ہے۔ تُو فرماتا ہے، ’اے آدم زادو، دوبارہ خاک میں مل جاؤ!‘

¶ کیونکہ تیری نظر میں ہزار سال کل کے گزرے ہوئے دن کے برابر یا رات کے ایک پہر کی مانند ہیں۔

¶ تُو لوگوں کو سیلاب کی طرح بہا لے جاتا ہے، وہ نیند اور اُس گھاس کی مانند ہیں جو صبح کو پھوٹ نکلتی ہے۔

¶ وہ صبح کو پھوٹ نکلتی اور اُگتی ہے، لیکن شام کو مُرجھا کر سوکھ جاتی ہے۔

¶ کیونکہ ہم تیرے غضب سے فنا ہو جاتے اور تیرے قہر سے حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔

¶ تُو نے ہماری خطاؤں کو اپنے سامنے رکھا، ہمارے پوشیدہ گناہوں کو اپنے چہرے کے نور میں لایا ہے۔

¶ چنانچہ ہمارے تمام دن تیرے قہر کے تحت گھٹتے گھٹتے ختم ہو جاتے ہیں۔ جب ہم اپنے سالوں کے اختتام پر پہنچتے ہیں تو زندگی سرد آہ کے برابر ہی ہوتی ہے۔

¶ ہماری عمر 70 سال یا اگر زیادہ طاقت ہو تو 80 سال تک پہنچتی ہے، اور جو دن فخر کا باعث تھے وہ بھی تکلیف دہ اور بےکار ہیں۔ جلد ہی وہ گزر جاتے ہیں، اور ہم پرندوں کی طرح اُڑ کر چلے جاتے ہیں۔

¶ کون تیرے غضب کی پوری شدت جانتا ہے؟ کون سمجھتا ہے کہ تیرا قہر ہماری خدا ترسی کی کمی کے مطابق ہی ہے؟

¶ چنانچہ ہمیں ہمارے دنوں کا صحیح حساب کرنا سکھا تاکہ ہمارے دل دانش مند ہو جائیں۔

¶ اے رب، دوبارہ ہماری طرف رجوع فرما! تُو کب تک دُور رہے گا؟ اپنے خادموں پر ترس کھا!

¶ صبح کو ہمیں اپنی شفقت سے سیر کر! تب ہم زندگی بھر باغ باغ ہوں گے اور خوشی منائیں گے۔

¶ ہمیں اُتنے ہی دن خوشی دلا جتنے تُو نے ہمیں پست کیا ہے، اُتنے ہی سال جتنے ہمیں دُکھ سہنا پڑا ہے۔

¶ اپنے خادموں پر اپنے کام اور اُن کی اولاد پر اپنی عظمت ظاہر کر۔

¶ رب ہمارا خدا ہمیں اپنی مہربانی دکھائے۔ ہمارے ہاتھوں کا کام مضبوط کر، ہاں ہمارے ہاتھوں کا کام مضبوط کر!

زبوُر ایک سو دسواں

خداوند نے میرے خداوند سے کہا: میرے دہنے بیٹھ جب تک میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ بنا دوں۔ تیرے زور کی چھڑی خداوند تیری طرف سے صیّون سے نکالے گا؛ تُو اپنے دشمنوں کے بیچ سلطنت کرے گا۔ تیرے قدرت کے دن تیرے لوگ مقدس جلال میں راغب ہوں گے؛ صُبح کے رحم کی طرح تیری جوانی تیرے لیے ہوگی۔

خداوند نے قسم کھائی ہے اور وہ پچھتائے گا نہیں: تُو ملکِیصدق کے طور پر ابد تک کا کہن ہے۔ خداوند تیرے دہنے ہے؛ وہ اپنے قہر کے دن بادشاہوں کو روندے گا۔ وہ قوموں کے درمیان انصاف کرے گا؛ وہ لاشوں سے بھر دے گا؛ وہ سارے ملک کے اوپر کے سرداروں کے سر کچلے گا۔ وہ راستہ میں نالے کا پانی پیے گا؛ اسی لیے وہ اپنا سر اونچا کرے گا۔ ہللویا۔

زبور 96

¶ رب کی تمجید میں نیا گیت گاؤ، اے پوری دنیا، رب کی مدح سرائی کرو۔

¶ رب کی تمجید میں گیت گاؤ، اُس کے نام کی ستائش کرو، روز بہ روز اُس کی نجات کی خوش خبری سناؤ۔

¶ قوموں میں اُس کا جلال اور تمام اُمّتوں میں اُس کے عجائب بیان کرو۔

¶ کیونکہ رب عظیم اور ستائش کے بہت لائق ہے۔ وہ تمام معبودوں سے مہیب ہے۔

¶ کیونکہ دیگر قوموں کے تمام معبود بُت ہی ہیں جبکہ رب نے آسمان کو بنایا۔

¶ اُس کے حضور شان و شوکت، اُس کے مقدِس میں قدرت اور جلال ہے۔

¶ اے قوموں کے قبیلو، رب کی تمجید کرو، رب کے جلال اور قدرت کی ستائش کرو۔

¶ رب کے نام کو جلال دو۔ قربانی لے کر اُس کی بارگاہوں میں داخل ہو جاؤ۔

¶ مُقدّس لباس سے آراستہ ہو کر رب کو سجدہ کرو۔ پوری دنیا اُس کے سامنے لرز اُٹھے۔

¶ قوموں میں اعلان کرو، ”رب ہی بادشاہ ہے! یقیناً دنیا مضبوطی سے قائم ہے اور نہیں ڈگمگائے گی۔ وہ انصاف سے قوموں کی عدالت کرے گا۔“

¶ آسمان خوش ہو، زمین جشن منائے! سمندر اور جو کچھ اُس میں ہے خوشی سے گرج اُٹھے۔

¶ میدان اور جو کچھ اُس میں ہے باغ باغ ہو۔ پھر جنگل کے درخت شادیانہ بجائیں گے۔

¶ وہ رب کے سامنے شادیانہ بجائیں گے، کیونکہ وہ آ رہا ہے، وہ دنیا کی عدالت کرنے آ رہا ہے۔ وہ انصاف سے دنیا کی عدالت کرے گا اور اپنی صداقت سے اقوام کا فیصلہ کرے گا۔

زبور 109

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ میرے فخر، خاموش نہ رہ!

¶ کیونکہ اُنہوں نے اپنا بےدین اور فریب دہ منہ میرے خلاف کھول کر جھوٹی زبان سے میرے ساتھ بات کی ہے۔

¶ وہ مجھے نفرت کے الفاظ سے گھیر کر بلاوجہ مجھ سے لڑے ہیں۔

¶ میری محبت کے جواب میں وہ مجھ پر اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن دعا ہی میرا سہارا ہے۔

¶ میری نیکی کے عوض وہ مجھے نقصان پہنچاتے اور میرے پیار کے بدلے مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔

¶ اے اللہ، کسی بےدین کو مقرر کر جو میرے دشمن کے خلاف گواہی دے، کوئی مخالف اُس کے دہنے ہاتھ کھڑا ہو جائے جو اُس پر الزام لگائے۔

¶ مقدمے میں اُسے مجرم ٹھہرایا جائے۔ اُس کی دعائیں بھی اُس کے گناہوں میں شمار کی جائیں۔

¶ اُس کی زندگی مختصر ہو، کوئی اَور اُس کی ذمہ داری اُٹھائے۔

¶ اُس کی اولاد یتیم اور اُس کی بیوی بیوہ بن جائے۔

¶ اُس کے بچے آوارہ پھریں اور بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں۔ اُنہیں اُن کے تباہ شدہ گھروں سے نکل کر اِدھر اُدھر روٹی ڈھونڈنی پڑے۔

¶ جس سے اُس نے قرضہ لیا تھا وہ اُس کے تمام مال پر قبضہ کرے، اور اجنبی اُس کی محنت کا پھل لُوٹ لیں۔

¶ کوئی نہ ہو جو اُس پر مہربانی کرے یا اُس کے یتیموں پر رحم کرے۔

¶ اُس کی اولاد کو مٹایا جائے، اگلی پشت میں اُن کا نام و نشان تک نہ رہے۔

¶ رب اُس کے باپ دادا کی ناانصافی کا لحاظ کرے، اور وہ اُس کی ماں کی خطا بھی درگزر نہ کرے۔

¶ اُن کا بُرا کردار رب کے سامنے رہے، اور وہ اُن کی یاد رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالے۔

¶ کیونکہ اُس کو کبھی مہربانی کرنے کا خیال نہ آیا بلکہ وہ مصیبت زدہ، محتاج اور شکستہ دل کا تعاقب کرتا رہا تاکہ اُسے مار ڈالے۔

¶ اُسے لعنت کرنے کا شوق تھا، چنانچہ لعنت اُسی پر آئے! اُسے برکت دینا پسند نہیں تھا، چنانچہ برکت اُس سے دُور رہے۔

¶ اُس نے لعنت چادر کی طرح اوڑھ لی، چنانچہ لعنت پانی کی طرح اُس کے جسم میں اور تیل کی طرح اُس کی ہڈیوں میں سرایت کر جائے۔

¶ وہ کپڑے کی طرح اُس سے لپٹی رہے، پٹکے کی طرح ہمیشہ اُس سے کمربستہ رہے۔

¶ رب میرے مخالفوں کو اور اُنہیں جو میرے خلاف بُری باتیں کرتے ہیں یہی سزا دے۔

¶ لیکن تُو اے رب قادرِ مطلق، اپنے نام کی خاطر میرے ساتھ مہربانی کا سلوک کر۔ مجھے بچا، کیونکہ تیری ہی شفقت تسلی بخش ہے۔

¶ کیونکہ مَیں مصیبت زدہ اور ضرورت مند ہوں۔ میرا دل میرے اندر مجروح ہے۔

¶ شام کے ڈھلتے سائے کی طرح مَیں ختم ہونے والا ہوں۔ مجھے ٹڈی کی طرح جھاڑ کر دُور کر دیا گیا ہے۔

¶ روزہ رکھتے رکھتے میرے گھٹنے ڈگمگانے لگے اور میرا جسم سوکھ گیا ہے۔

¶ مَیں اپنے دشمنوں کے لئے مذاق کا نشانہ بن گیا ہوں۔ مجھے دیکھ کر وہ سر ہلا کر ”توبہ توبہ“ کہتے ہیں۔

¶ اے رب میرے خدا، میری مدد کر! اپنی شفقت کا اظہار کر کے مجھے چھڑا!

¶ اُنہیں پتا چلے کہ یہ تیرے ہاتھ سے پیش آیا ہے، کہ تُو رب ہی نے یہ سب کچھ کیا ہے۔

¶ جب وہ لعنت کریں تو مجھے برکت دے! جب وہ میرے خلاف اُٹھیں تو بخش دے کہ شرمندہ ہو جائیں جبکہ تیرا خادم خوش ہو۔

¶ میرے مخالف رُسوائی سے ملبّس ہو جائیں، اُنہیں شرمندگی کی چادر اوڑھنی پڑے۔

¶ مَیں زور سے رب کی ستائش کروں گا، بہتوں کے درمیان اُس کی حمد کروں گا۔

¶ کیونکہ وہ محتاج کے دہنے ہاتھ کھڑا رہتا ہے تاکہ اُسے اُن سے بچائے جو اُسے مجرم ٹھہراتے ہیں۔

زبور 114

¶ جب اسرائیل مصر سے روانہ ہوا اور یعقوب کا گھرانا اجنبی زبان بولنے والی قوم سے نکل آیا

¶ تو یہوداہ اللہ کا مقدِس بن گیا اور اسرائیل اُس کی بادشاہی۔

¶ یہ دیکھ کر سمندر بھاگ گیا اور دریائے یردن پیچھے ہٹ گیا۔

¶ پہاڑ مینڈھوں کی طرح کودنے اور پہاڑیاں جوان بھیڑبکریوں کی طرح پھاندنے لگیں۔

¶ اے سمندر، کیا ہوا کہ تُو بھاگ گیا ہے؟ اے یردن، کیا ہوا کہ تُو پیچھے ہٹ گیا ہے؟

¶ اے پہاڑو، کیا ہوا کہ تم مینڈھوں کی طرح کودنے لگے ہو؟ اے پہاڑیو، کیا ہوا کہ تم جوان بھیڑبکریوں کی طرح پھاندنے لگی ہو؟

¶ اے زمین، رب کے حضور، یعقوب کے خدا کے حضور لرز اُٹھ،

¶ اُس کے سامنے تھرتھرا جس نے چٹان کو جوہڑ میں اور سخت پتھر کو چشمے میں بدل دیا۔

زبور 115

¶ اے رب، ہماری ہی عزت کی خاطر کام نہ کر بلکہ اِس لئے کہ تیرے نام کو جلال ملے، اِس لئے کہ تُو مہربان اور وفادار خدا ہے۔

¶ دیگر اقوام کیوں کہیں، ”اُن کا خدا کہاں ہے؟“

¶ ہمارا خدا تو آسمان پر ہے، اور جو جی چاہے کرتا ہے۔

¶ اُن کے بُت سونے چاندی کے ہیں، انسان کے ہاتھ نے اُنہیں بنایا ہے۔

¶ اُن کے منہ ہیں لیکن وہ بول نہیں سکتے۔ اُن کی آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے۔

¶ اُن کے کان ہیں لیکن وہ سن نہیں سکتے، اُن کی ناک ہے لیکن وہ سونگھ نہیں سکتے۔

¶ اُن کے ہاتھ ہیں، لیکن وہ چھو نہیں سکتے۔ اُن کے پاؤں ہیں، لیکن وہ چل نہیں سکتے۔ اُن کے گلے سے آواز نہیں نکلتی۔

¶ جو بُت بناتے ہیں وہ اُن کی مانند ہو جائیں، جو اُن پر بھروسا رکھتے ہیں وہ اُن جیسے بےحس و حرکت ہو جائیں۔

¶ اے اسرائیل، رب پر بھروسا رکھ! وہی تیرا سہارا اور تیری ڈھال ہے۔

¶ اے ہارون کے گھرانے، رب پر بھروسا رکھ! وہی تیرا سہارا اور تیری ڈھال ہے۔

¶ اے رب کا خوف ماننے والو، رب پر بھروسا رکھو! وہی تمہارا سہارا اور تمہاری ڈھال ہے۔

¶ رب نے ہمارا خیال کیا ہے، اور وہ ہمیں برکت دے گا۔ وہ اسرائیل کے گھرانے کو برکت دے گا، وہ ہارون کے گھرانے کو برکت دے گا۔

¶ وہ رب کا خوف ماننے والوں کو برکت دے گا، خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے۔

¶ رب تمہاری تعداد میں اضافہ کرے، تمہاری بھی اور تمہاری اولاد کی بھی۔

¶ رب جو آسمان و زمین کا خالق ہے تمہیں برکت سے مالا مال کرے۔

¶ آسمان تو رب کا ہے، لیکن زمین کو اُس نے آدم زادوں کو بخش دیا ہے۔

¶ اے رب، مُردے تیری ستائش نہیں کرتے، خاموشی کے ملک میں اُترنے والوں میں سے کوئی بھی تیری تمجید نہیں کرتا۔

¶ لیکن ہم رب کی ستائش اب سے ابد تک کریں گے۔ رب کی حمد ہو!

زبوُر ایک سو انتیسواں

گہراؤں سے میں نے تجھ کو پکارا، اَے خداوند! اَے خداوند، میری آواز کو سن؛ تیری کان میری عاجزانہ فریاد کی آواز کی طرف متوجہ ہوں۔ اگر تُو بدکاریوں کا حساب رکھے، اَے خداوند، تو اَے خداوند، کون قائم رہ سکے گا؟ لیکن تیرے ہاں بخشش ہے تاکہ لوگ تجھ سے ڈریں۔ میں نے تیرے لیے اُمِّید رکھی، اَے خداوند؛ میری جان نے تیرے کلام کے لیے اُمِّید رکھی۔ میری جان خداوند کے انتظار میں ہے نگہبان کے صبح تک انتظار سے بھی زیادہ—نگہبان کے صبح تک انتظار سے بھی زیادہ۔ اسرائیل خداوند کی اُمّید رکھے؛ کیونکہ خداوند کے پاس رحمت ہے، اور اُس کے پاس بہت سا فدیہ ہے۔ اور وہ اسرائیل کو اُس کی سب بدکاریوں سے چھڑائے گا۔ ہللویا۔

زبور 120

¶ زیارت کا گیت۔ مصیبت میں مَیں نے رب کو پکارا، اور اُس نے میری سنی۔

¶ اے رب، میری جان کو جھوٹے ہونٹوں اور فریب دہ زبان سے بچا۔

¶ اے فریب دہ زبان، وہ تیرے ساتھ کیا کرے، مزید تجھے کیا دے؟

¶ وہ تجھ پر جنگجو کے تیز تیر اور دہکتے کوئلے برسائے!

¶ مجھ پر افسوس! مجھے اجنبی ملک مسک میں، قیدار کے خیموں کے پاس رہنا پڑتا ہے۔

¶ اِتنی دیر سے امن کے دشمنوں کے پاس رہنے سے میری جان تنگ آ گئی ہے۔

¶ مَیں تو امن چاہتا ہوں، لیکن جب کبھی بولوں تو وہ جنگ کرنے پر تُلے ہوتے ہیں۔

زبوُر ایک سو اکتیسواں

یاد کر، اَے خداوند، داؤد کو اور اُس کی ساری عاجزی کو؛ کیسے اُس نے خداوند سے قسم کھائی اور یعقوب کے خدا سے نذر مانی: میں اپنے گھر کے مسکن میں داخل نہ ہوں گا، نہ اپنے بستر کے تخت پر چڑھوں گا، نہ اپنی آنکھوں کو نیند دوں گا، نہ اپنی پلکوں کو اُونگھ، نہ اپنے کنپٹوں کو آرام—جب تک کہ میں خداوند کے لیے جگہ اور یعقوب کے خدا کے لیے مسکن نہ ڈھونڈ لوں۔ دیکھو، ہم نے اِفراتہ میں اُس کے بارے میں سنا اور میدانِ جنگل میں اُسے پایا۔ آؤ ہم اُس کے مساکن میں داخل ہوں؛ اُس کے پاؤں کی چوکی کے پاس سجدہ کریں۔

اُٹھ، اَے خداوند، اپنی آرام گاہ کی طرف—تُو اور تیرے قدرت کے صندوق کی طرف۔ تیرے کاہن صداقت پہنیں اور تیرے رفیق خوشیوں میں للکاریں۔ داؤد اپنے بندہ کی خاطر اپنے ممسوح کا چہرہ رد نہ کر۔ خداوند نے داؤد سے سچّائی کی قسم کھائی ہے جس سے وہ باز نہ آئے گا: میں تیرے بطن کے پھل میں سے تیرے تخت پر بٹھاؤں گا۔ اگر تیرے بیٹے میرا عہد اور میری شہادتیں جن کی میں انہیں تعلیم دوں گا محفوظ رکھیں، تو اُن کے بیٹے بھی ابد تک تیرے تخت پر بیٹھیں گے۔ کیونکہ خداوند نے صیّون کو چُنا ہے؛ اُس نے اُسے اپنی سکونت کے لیے پسند کیا ہے: یہ میری آرام گاہ ابد تک ہے؛ میں یہاں بسوں گا، کیونکہ میں نے اسی کو چاہا ہے۔ اُس کے آہار کو میں بڑی برکت سے برکت دوں گا؛ اُس کے مسکینوں کو روٹی سے سیر کروں گا۔ اُس کے کاہنوں کو نجات پہنا دوں گا، اور اُس کے رفیق نہایت خوشی کریں گے۔ وہاں میں داؤد کے لیے سینگ نکالوں گا؛ میں نے اپنے ممسوح کے لیے چراغ تیار کیا ہے۔ میں اُس کے دشمنوں کو شرمندگی پہنا دوں گا؛ لیکن اُس پر اُس کی تقدیس کھِلے گی۔ ہللویا۔

زبوُر ایک سو بتیسواں

دیکھو، کیا ہی اچھا اور کیا ہی خوشنما ہے کہ بھائی یکجا رہیں! سر پر ڈالی ہوئی اُس نفیس گئیے کی مانند جو ہارون کی داڑھی پر بہتی ہوئی اُس کے لباس کے دامن تک اُترتی ہے؛ اور حرمون کے اوس کی مانند جو صیّون کے پہاڑوں پر اترتی ہے؛ کیونکہ وہاں خداوند نے برکت مقرر کی—یعنی ہمیشہ کی زندگی۔ ہللویا۔

زبور 129

¶ زیارت کا گیت۔ اسرائیل کہے، ”میری جوانی سے ہی میرے دشمن بار بار مجھ پر حملہ آور ہوئے ہیں۔

¶ میری جوانی سے ہی وہ بار بار مجھ پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ توبھی وہ مجھ پر غالب نہ آئے۔“

¶ ہل چلانے والوں نے میری پیٹھ پر ہل چلا کر اُس پر اپنی لمبی لمبی ریگھاریاں بنائی ہیں۔

¶ رب راست ہے۔ اُس نے بےدینوں کے رسّے کاٹ کر مجھے آزاد کر دیا ہے۔

¶ اللہ کرے کہ جتنے بھی صیون سے نفرت رکھیں وہ شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ جائیں۔

¶ وہ چھتوں پر کی گھاس کی مانند ہوں جو صحیح طور پر بڑھنے سے پہلے ہی مُرجھا جاتی ہے

¶ اور جس سے نہ فصل کاٹنے والا اپنا ہاتھ، نہ پُولے باندھنے والا اپنا بازو بھر سکے۔

¶ جو بھی اُن سے گزرے وہ نہ کہے، ”رب تمہیں برکت دے۔“ ہم رب کا نام لے کر تمہیں برکت دیتے ہیں!

زبور 130

¶ زیارت کا گیت۔ اے رب، مَیں تجھے گہرائیوں سے پکارتا ہوں۔

¶ اے رب، میری آواز سن! کان لگا کر میری التجاؤں پر دھیان دے!

¶ اے رب، اگر تُو ہمارے گناہوں کا حساب کرے تو کون قائم رہے گا؟ کوئی بھی نہیں!

¶ لیکن تجھ سے معافی حاصل ہوتی ہے تاکہ تیرا خوف مانا جائے۔

¶ مَیں رب کے انتظار میں ہوں، میری جان شدت سے انتظار کرتی ہے۔ مَیں اُس کے کلام سے اُمید رکھتا ہوں۔

¶ پہرے دار جس شدت سے پَو پھٹنے کے انتظار میں رہتے ہیں، میری جان اُس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ، ہاں زیادہ شدت کے ساتھ رب کی منتظر رہتی ہے۔

¶ اے اسرائیل، رب کی راہ دیکھتا رہ! کیونکہ رب کے پاس شفقت اور فدیہ کا ٹھوس بندوبست ہے۔

¶ وہ اسرائیل کے تمام گناہوں کا فدیہ دے کر اُسے نجات دے گا۔

زبور 131

¶ زیارت کا گیت۔ اے رب، نہ میرا دل گھمنڈی ہے، نہ میری آنکھیں مغرور ہیں۔ جو باتیں اِتنی عظیم اور حیران کن ہیں کہ مَیں اُن سے نپٹ نہیں سکتا اُنہیں مَیں نہیں چھیڑتا۔

¶ یقیناً مَیں نے اپنی جان کو راحت اور سکون دلایا ہے، اور اب وہ ماں کی گود میں بیٹھے چھوٹے بچے کی مانند ہے، ہاں میری جان چھوٹے بچے کی مانند ہے۔

¶ اے اسرائیل، اب سے ابد تک رب کے انتظار میں رہ!

زبور 132

¶ زیارت کا گیت۔ اے رب، داؤد کا خیال رکھ، اُس کی تمام مصیبتوں کو یاد کر۔

¶ اُس نے قَسم کھا کر رب سے وعدہ کیا اور یعقوب کے قوی خدا کے حضور مَنت مانی،

¶ ”نہ مَیں اپنے گھر میں داخل ہوں گا، نہ بستر پر لیٹوں گا،

¶ نہ مَیں اپنی آنکھوں کو سونے دوں گا، نہ اپنے پپوٹوں کو اونگھنے دوں گا

¶ جب تک رب کے لئے مقام اور یعقوب کے سورمے کے لئے سکونت گاہ نہ ملے۔“

¶ ہم نے اِفراتہ میں عہد کے صندوق کی خبر سنی اور یعر کے کھلے میدان میں اُسے پا لیا۔

¶ آؤ، ہم اُس کی سکونت گاہ میں داخل ہو کر اُس کے پاؤں کی چوکی کے سامنے سجدہ کریں۔

¶ اے رب، اُٹھ کر اپنی آرام گاہ کے پاس آ، تُو اور عہد کا صندوق جو تیری قدرت کا اظہار ہے۔

¶ تیرے امام راستی سے ملبّس ہو جائیں، اور تیرے ایمان دار خوشی کے نعرے لگائیں۔

¶ اے اللہ، اپنے خادم داؤد کی خاطر اپنے مسح کئے ہوئے بندے کے چہرے کو رد نہ کر۔

¶ رب نے قَسم کھا کر داؤد سے وعدہ کیا ہے، اور وہ اُس سے کبھی نہیں پھرے گا، ”مَیں تیری اولاد میں سے ایک کو تیرے تخت پر بٹھاؤں گا۔

¶ اگر تیرے بیٹے میرے عہد کے وفادار رہیں اور اُن احکام کی پیروی کریں جو مَیں اُنہیں سکھاؤں گا تو اُن کے بیٹے بھی ہمیشہ تک تیرے تخت پر بیٹھیں گے۔“

¶ کیونکہ رب نے کوہِ صیون کو چن لیا ہے، اور وہی وہاں سکونت کرنے کا آرزومند تھا۔

¶ اُس نے فرمایا، ”یہ ہمیشہ تک میری آرام گاہ ہے، اور یہاں مَیں سکونت کروں گا، کیونکہ مَیں اِس کا آرزومند ہوں۔

¶ مَیں صیون کی خوراک کو کثرت کی برکت دے کر اُس کے غریبوں کو روٹی سے سیر کروں گا۔

¶ مَیں اُس کے اماموں کو نجات سے ملبّس کروں گا، اور اُس کے ایمان دار خوشی سے زوردار نعرے لگائیں گے۔

¶ یہاں مَیں داؤد کی طاقت بڑھا دوں گا، اور یہاں مَیں نے اپنے مسح کئے ہوئے خادم کے لئے چراغ تیار کر رکھا ہے۔

¶ مَیں اُس کے دشمنوں کو شرمندگی سے ملبّس کروں گا جبکہ اُس کے سر کا تاج چمکتا رہے گا۔“

زبور 133

¶ داؤد کا زبور۔ زیارت کا گیت۔ جب بھائی مل کر اور یگانگت سے رہتے ہیں یہ کتنا اچھا اور پیارا ہے۔

¶ یہ اُس نفیس تیل کی مانند ہے جو ہارون امام کے سر پر اُنڈیلا جاتا ہے اور ٹپک ٹپک کر اُس کی داڑھی اور لباس کے گریبان پر آ جاتا ہے۔

¶ یہ اُس اوس کی مانند ہے جو کوہِ حرمون سے صیون کے پہاڑوں پر پڑتی ہے۔ کیونکہ رب نے فرمایا ہے، ”وہیں ہمیشہ تک برکت اور زندگی ملے گی۔“

زبور 136

¶ رب کا شکر کرو، کیونکہ وہ بھلا ہے، اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ خداؤں کے خدا کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ مالکوں کے مالک کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جو اکیلا ہی عظیم معجزے کرتا ہے اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے حکمت کے ساتھ آسمان بنایا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے زمین کو مضبوطی سے پانی کے اوپر لگا دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے آسمان کی روشنیوں کو خلق کیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے سورج کو دن کے وقت حکومت کرنے کے لئے بنایا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے چاند اور ستاروں کو رات کے وقت حکومت کرنے کے لئے بنایا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے مصر میں پہلوٹھوں کو مار ڈالا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جو اسرائیل کو مصریوں میں سے نکال لایا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے اُس وقت بڑی طاقت اور قدرت کا اظہار کیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے بحرِ قُلزم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے اسرائیل کو اُس کے بیچ میں سے گزرنے دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے فرعون اور اُس کی فوج کو بحرِ قُلزم میں بہا کر غرق کر دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے ریگستان میں اپنی قوم کی قیادت کی اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے بڑے بادشاہوں کو شکست دی اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے طاقت ور بادشاہوں کو مار ڈالا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کو موت کے گھاٹ اُتارا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے بسن کے بادشاہ عوج کو ہلاک کر دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے اُن کا ملک اسرائیل کو میراث میں دیا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے اُن کا ملک اپنے خادم اسرائیل کی موروثی ملکیت بنایا اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے ہمارا خیال کیا جب ہم خاک میں دب گئے تھے اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جس نے ہمیں اُن کے قبضے سے چھڑایا جو ہم پر ظلم کر رہے تھے اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ جو تمام جانداروں کو خوراک مہیا کرتا ہے اُس کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

¶ آسمان کے خدا کا شکر کرو، کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔

زبور 140

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، مجھے شریروں سے چھڑا اور ظالموں سے محفوظ رکھ۔

¶ دل میں وہ بُرے منصوبے باندھتے، روزانہ جنگ چھیڑتے ہیں۔

¶ اُن کی زبان سانپ کی زبان جیسی تیز ہے، اور اُن کے ہونٹوں میں سانپ کا زہر ہے۔ (سِلاہ)

¶ اے رب، مجھے بےدین کے ہاتھوں سے محفوظ رکھ، ظالم سے مجھے بچائے رکھ، اُن سے جو میرے پاؤں کو ٹھوکر کھلانے کے منصوبے باندھ رہے ہیں۔

¶ مغروروں نے میرے راستے میں پھندا اور رسّے چھپائے ہیں، اُنہوں نے جال بچھا کر راستے کے کنارے کنارے مجھے پکڑنے کے پھندے لگائے ہیں۔ (سِلاہ)

¶ مَیں رب سے کہتا ہوں، ”تُو ہی میرا خدا ہے، میری التجاؤں کی آواز سن!“

¶ اے رب قادرِ مطلق، اے میری قوی نجات! جنگ کے دن تُو اپنی ڈھال سے میرے سر کی حفاظت کرتا ہے۔

¶ اے رب، بےدین کا لالچ پورا نہ کر۔ اُس کا ارادہ کامیاب ہونے نہ دے، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ سرفراز ہو جائیں۔ (سِلاہ)

¶ اُنہوں نے مجھے گھیر لیا ہے، لیکن جو آفت اُن کے ہونٹ مجھ پر لانا چاہتے ہیں وہ اُن کے اپنے سروں پر آئے!

¶ دہکتے کوئلے اُن پر برسیں، اور اُنہیں آگ میں، اتھاہ گڑھوں میں پھینکا جائے تاکہ آئندہ کبھی نہ اُٹھیں۔

¶ تہمت لگانے والا ملک میں قائم نہ رہے، اور بُرائی ظالم کو مار مار کر اُس کا پیچھا کرے۔

¶ مَیں جانتا ہوں کہ رب عدالت میں مصیبت زدہ کا دفاع کرے گا۔ وہی ضرورت مند کا انصاف کرے گا۔

¶ یقیناً راست باز تیرے نام کی ستائش کریں گے، اور دیانت دار تیرے حضور بسیں گے۔

زبور 145

¶ داؤد کا زبور۔ حمد و ثنا کا گیت۔ اے میرے خدا، مَیں تیری تعظیم کروں گا۔ اے بادشاہ، مَیں ہمیشہ تک تیرے نام کی ستائش کروں گا۔

¶ روزانہ مَیں تیری تمجید کروں گا، ہمیشہ تک تیرے نام کی حمد کروں گا۔

¶ رب عظیم اور بڑی تعریف کے لائق ہے۔ اُس کی عظمت انسان کی سمجھ سے باہر ہے۔

¶ ایک پشت اگلی پشت کے سامنے وہ کچھ سراہے جو تُو نے کیا ہے، وہ دوسروں کو تیرے زبردست کام سنائیں۔

¶ مَیں تیرے شاندار جلال کی عظمت اور تیرے معجزوں میں محوِ خیال رہوں گا۔

¶ لوگ تیرے ہیبت ناک کاموں کی قدرت پیش کریں، اور مَیں بھی تیری عظمت بیان کروں گا۔

¶ وہ جوش سے تیری بڑی بھلائی کو سراہیں اور خوشی سے تیری راستی کی مدح سرائی کریں۔

¶ رب مہربان اور رحیم ہے۔ وہ تحمل اور شفقت سے بھرپور ہے۔

¶ رب سب کے ساتھ بھلائی کرتا ہے، وہ اپنی تمام مخلوقات پر رحم کرتا ہے۔

¶ اے رب، تیری تمام مخلوقات تیرا شکر کریں۔ تیرے ایمان دار تیری تمجید کریں۔

¶ وہ تیری بادشاہی کے جلال پر فخر کریں اور تیری قدرت بیان کریں

¶ تاکہ آدم زاد تیرے قوی کاموں اور تیری بادشاہی کی جلالی شان و شوکت سے آگاہ ہو جائیں۔

¶ تیری بادشاہی کی کوئی انتہا نہیں، اور تیری سلطنت پشت در پشت ہمیشہ تک قائم رہے گی۔

¶ رب تمام گرنے والوں کا سہارا ہے۔ جو بھی دب جائے اُسے وہ اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔

¶ سب کی آنکھیں تیرے انتظار میں رہتی ہیں، اور تُو ہر ایک کو وقت پر اُس کا کھانا مہیا کرتا ہے۔

¶ تُو اپنی مٹھی کھول کر ہر جاندار کی خواہش پوری کرتا ہے۔

¶ رب اپنی تمام راہوں میں راست اور اپنے تمام کاموں میں وفادار ہے۔

¶ رب اُن سب کے قریب ہے جو اُسے پکارتے ہیں، جو دیانت داری سے اُسے پکارتے ہیں۔

¶ جو اُس کا خوف مانیں اُن کی آرزو وہ پوری کرتا ہے۔ وہ اُن کی فریادیں سن کر اُن کی مدد کرتا ہے۔

¶ رب اُن سب کو محفوظ رکھتا ہے جو اُسے پیار کرتے ہیں، لیکن بےدینوں کو وہ ہلاک کرتا ہے۔

¶ میرا منہ رب کی تعریف بیان کرے، تمام مخلوقات ہمیشہ تک اُس کے مُقدّس نام کی ستائش کریں۔

سلام ہو تجھ پر

سلام ہو تجھ پر۔ ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں، اَے مقدسہ جلال سے معمور، سدا کنواری، والدۂ الٰہ، مسیح کی ماں؛ ہماری دعائیں اپنے پیارے بیٹے کے حضور چڑھا کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے۔

سلام ہو اُس پر جس نے ہمارے لیے سچا نور، مسیح ہمارے خدا کو جنم دیا؛ اے مقدسہ کنواری، ہمارے لیے خداوند سے درخواست کر، کہ وہ ہماری جانوں پر رحم کرے اور ہمارے گناہوں کو معاف کرے۔

اَے کنواری مریم، والدۂ الٰہ، اَے مقدسہ اور نوعِ انسانی کی امانت دار شفیعہ، اُس مسیح کے حضور ہمارے لیے شفاعت کر جس کو تُو نے جَنا، تاکہ وہ ہمیں ہمارے گناہوں کی معافی عنایت فرمائے۔

سلام ہو تجھ پر، اَے کنواری، حقیقی ملکہ؛ سلام ہو ہماری نسل کے فخر کو؛ تُو نے ہمارے لیے عِمّانوایل کو جَنا۔ ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں: ہمیں یاد رکھ، اَے امانت دار شفیعہ، ہمارے خداوند یسوع مسیح کے روبرو، کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے۔

پاک انجیل مقدّس یوحنا کے مطابق (باب 6: 15-23)

عیسیٰ کو معلوم ہوا کہ وہ آ کر اُسے زبردستی بادشاہ بنانا چاہتے ہیں، اِس لئے وہ دوبارہ اُن سے الگ ہو کر اکیلا ہی کسی پہاڑ پر چڑھ گیا۔

¶ شام کو شاگرد جھیل کے پاس گئے

اور کشتی پر سوار ہو کر جھیل کے پار شہر کفرنحوم کے لئے روانہ ہوئے۔ اندھیرا ہو چکا تھا اور عیسیٰ اب تک اُن کے پاس واپس نہیں آیا تھا۔

تیز ہَوا کے باعث جھیل میں لہریں اُٹھنے لگیں۔

کشتی کو کھیتے کھیتے شاگرد چار یا پانچ کلو میٹر کا سفر طے کر چکے تھے کہ اچانک عیسیٰ نظر آیا۔ وہ پانی پر چلتا ہوا کشتی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ شاگرد دہشت زدہ ہو گئے۔

لیکن اُس نے اُن سے کہا، ”مَیں ہی ہوں۔ خوف نہ کرو۔“

وہ اُسے کشتی میں بٹھانے پر آمادہ ہوئے۔ اور کشتی اُسی لمحے اُس جگہ پہنچ گئی جہاں وہ جانا چاہتے تھے۔

¶ ہجوم تو جھیل کے پار رہ گیا تھا۔ اگلے دن لوگوں کو پتا چلا کہ شاگرد ایک ہی کشتی لے کر چلے گئے ہیں اور کہ اُس وقت عیسیٰ کشتی میں نہیں تھا۔

پھر کچھ کشتیاں تبریاس سے اُس مقام کے قریب پہنچیں جہاں خداوند عیسیٰ نے روٹی کے لئے شکرگزاری کی دعا کر کے اُسے لوگوں کو کھلایا تھا۔

Tenoo oasht emmok o piekhristos

اور تیرے نیک باپ اور روح القدس کے ساتھ، کیونکہ تو آیا اور تو نے ہمیں نجات دی

ہم تیری عبادت کرتے ہیں، اے مسیح، تیرے نیک باپ اور روح القدس کے ساتھ، کیونکہ تو آیا اور تو نے ہمیں نجات دی۔

1. خداوندا، تو میرے دشمنوں کی چوکسی کو جانتا ہے، اور میری کمزوری سے بھی آگاہ ہے، اے میرے خالق۔ اس لیے میں اپنی جان تیرے ہاتھوں میں سپرد کرتا ہوں۔ اپنی نیکی کے پروں سے مجھے ڈھانپ لے تاکہ میں موت تک نہ سو جاؤں۔ اپنے اقوال کی عظمت سے میری آنکھیں روشن کر، اور مجھے ہر وقت تیری تمجید کے لیے اٹھا، کیونکہ تو ہی نیک اور انسان دوست ہے۔

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو۔

2. خداوندا، تیرا انصاف بھیانک ہے؛ جب لوگ دوڑائے جائیں گے، فرشتے کھڑے ہوں گے، کتابیں کھلیں گی، اعمال ظاہر ہوں گے، اور خیالات کی جانچ ہوگی۔ میرا انصاف کیا ہوگا، جو گناہ میں الجھا ہوا ہوں؟ میرے گرد آگ کے شعلے کون بجھائے گا؟ میری تاریکی کو کون روشن کرے گا، سوائے تیرے، اے خداوندا؟ مجھ پر رحم کر، کیونکہ تو انسانوں پر شفقت رکھنے والا ہے۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔

3. اے تھیؤتوکوس، چونکہ ہم نے تجھ پر بھروسہ رکھا ہے ہم شرمندہ نہ ہوں گے بلکہ بچ جائیں گے۔ اور چونکہ ہم نے تیری مدد اور شفاعت پائی ہے، اے پاک اور کامل، ہم نہ ڈریں گے بلکہ اپنے دشمنوں کو پسپا کریں گے اور انہیں پراگندہ کریں گے۔ اور ہر بات میں ہم تیری عظیم مدد کو ڈھال کی مانند اپنی حفاظت کے لیے لیتے ہیں۔ ہم سوال کرتے اور تجھ سے منت کرتے ہیں، پکارتے ہوئے، اے تھیؤتوکوس، اپنی شفاعت کے وسیلہ سے ہمیں بچا، اور ہمیں سیاہ نیند سے جگا تاکہ ہم قادر ہاتھوں سے اُس خدا کی تمجید کریں جس نے تجھ سے جسم اختیار کیا۔

Κύριε ἐλέησون کیریالیسون (خداوندا، رحم فرما) 41 بار

قدوس، قدوس، قدوس

قدوس، قدوس، قدوس، ربُّ الصباؤوت۔ آسمان اور زمین تیری جلال اور تیری کرامت سے معمور ہیں۔ اے خدا باپ قادرِ مطلق، ہم پر رحم فرما۔ اَے تثلیثِ اقدس، ہم پر رحم فرما۔ اَے رب، افواج کے خدا، ہمارے ساتھ رہ؛ کیونکہ مصیبتوں اور تنگیوں میں تیرے سوا ہمارا کوئی مددگار نہیں۔

اَے خدا، ہماری بدیوں کو حل کر، معاف کر اور درگزر فرما، جو ہم نے ارادے سے کیں اور جو بغیر ارادے کے کیں، جو دانستہ کیں اور جو نادانستہ؛ پوشیدہ اور ظاہر۔ اَے رب، اپنے اُس پاک نام کی خاطر جو ہم پر لیا گیا ہے، اُن سب کو ہمیں بخش دے۔ اَے رب، اپنی رحمت کے موافق، نہ کہ ہمارے گناہوں کے موافق۔

اور ہمیں اس لائق بنا کہ ہم شکرگزاری کے ساتھ کہیں: اے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔۔۔

تحلیل

اَے آقا خداوند یسوع مسیح، ہمارے خدا، ہمیں ہماری نیند میں آرام، ہمارے جسموں میں نیاح، اور ہماری جانوں میں پاکیزگی عطا فرما۔ اور ہمیں گناہ کی گہری تاریکی سے محفوظ رکھ۔ خواہشوں کی حرکات تھم جائیں اور جسم کی حرارت بجھ جائے۔ بدن کے ہنگامے کو باطل فرما۔ اور ہمیں بیدار عقل، فروتن خیال اور فضیلت سے معمور چال عطا کر؛ بےداغ بستر اور پاکیزہ مسکن۔

اور ہمیں تسبیحِ لیل و نہار اور باکر کے لیے اٹھا، تیری وصیتوں میں ثابت قدم، اور ہمیشہ اپنے احکام کی یاد کو اپنے باطن میں قائم رکھتے ہوئے۔ ہمیں ساری رات تمجید بخش کہ ہم تیرے اس پاک نام کو جو جلال اور بہا سے لبریز ہے مبارک کہیں؛ تیرے نیک باپ اور جان بخش روح القدس کے ساتھ؛ اب بھی اور ہر زمانہ میں اور دہرُالدُّهور تک۔ آمین۔

ہر ساعت کے آخر میں پڑھی جانے والی درخواست

ہم پر رحم فرما، اے خدا، پھر ہم پر رحم فرما۔ تُو جو ہر وقت اور ہر ساعت، آسمان پر اور زمین پر، سجدہ اور تمجید پانے کے لائق ہے؛ مسیح، ہمارے نیک خدا؛ دیر غصہ، کثیرالرحم، اور نہایت ترس والا؛ جو صادقوں سے محبت رکھتا اور گنہگاروں پر رحم کرتا ہے—جن میں پہلا میں ہوں—جو نہ شریر کی موت چاہتا ہے بلکہ یہ کہ وہ رجوع لائے اور زندہ رہے؛ جو سب کو نجات کی طرف بُلانے والا ہے، آئندہ کی نیک باتوں کے وعدے کے سبب۔

اَے رب، اس ساعت اور ہر ساعت ہماری درخواستیں قبول فرما۔ ہماری زندگی آسان بنا۔ ہمیں اپنی وصیتوں پر عمل کرنے کی راہ دکھا۔ ہماری روحوں کو مقدس کر۔ ہمارے جسموں کو پاک کر۔ ہمارے خیالات کو سیدھا کر۔ ہماری نیتوں کو صاف کر۔ ہماری بیماریوں کو شفا دے اور ہمارے گناہ معاف کر۔ اور ہمیں ہر بُرے غم اور دِل کے درد سے نجات دے۔ اپنے مقدس فرشتوں سے ہمیں گھیر لے، تاکہ ہم اُن کے لشکر کے ساتھ محفوظ اور راہ یافتہ رہیں، اور ایمان کی یگانگت تک اور تیری اُس جلال کی پہچان تک پہنچیں جو حسّ و حد سے باہر ہے؛ کیونکہ تُو ابد تک مبارک ہے۔ آمین۔

اَے خدا، ہمیں اس لائق بنا کہ ہم شکر کے ساتھ یہ کہیں: اَے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔۔۔

ہر ساعت کا اختتام