گھڑی کی دعائیں

موجودہ گھنٹہ

چھٹی ساعت

ہم صلیب کو یاد کرتے ہیں اور مسیح سے مانگتے ہیں کہ وہ ہمارے ذہنوں کو گناہ سے آزاد کرے اور ہمیں دنیا کے لیے نور بنائے۔

ہر ساعت کی تمہید

باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام پر

ایک خدا، آمین۔

اے رب رحم فرما۔ اے رب رحم فرما۔ اے رب برکت دے۔ آمین۔

باپ اور بیٹے اور روح القدس کو جلال، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین۔

خداوند کی دعا

بلکہ یوں دعا کیا کرو، اے ہمارے آسمانی باپ، تیرا نام مُقدّس مانا جائے۔

¶ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جس طرح آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔

¶ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔

¶ ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم نے اُنہیں معاف کیا جنہوں نے ہمارا گناہ کیا ہے۔

¶ اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں ابلیس سے بچائے رکھ۔ [کیونکہ بادشاہی، قدرت اور جلال ابد تک تیرے ہی ہیں۔]

دعائے شکرگزاری

آئیے نیکیوں کے صانع، رحیم خدا کا شکر کریں، جو ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے باپ ہیں، کیونکہ اُس نے ہمیں ڈھانپا اور مدد دی، اور محفوظ رکھا، اور اپنی طرف قبول کیا، اور ہم پر ترس کھایا، اور ہمیں سہارا دیا، اور ہمیں اس ساعت تک پہنچایا۔ ہم یہ بھی اُس سے مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اس مقدس دن میں اور ہماری ساری عمر کے تمام ایام میں کامل سلامتی کے ساتھ محفوظ رکھے۔ ہمارا ربّ خدا، قادرِ مطلق۔

اَے آقا خدا، قادرِ مطلق، جو ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے باپ ہے، ہم تیرا شکر کرتے ہیں ہر حال میں، ہر امر کے لیے، اور ہر حالت میں؛ کیونکہ تُو نے ہمیں ڈھانپا، اور ہماری مدد کی، اور ہمیں محفوظ رکھا، اور ہمیں اپنی طرف قبول کیا، اور ہم پر ترس کھایا، اور ہمیں سہارا دیا، اور ہمیں اس ساعت تک پہنچایا۔

پس ہم تیری بھلائی سے درخواست اور التجا کرتے ہیں، اَے محبِّ بشر، ہمیں بخش کہ ہم اس مقدس دن اور اپنی عمر کے سارے ایام کو تیری خوفداری کے ساتھ پورے سکون سے تمام کریں۔ ہر حسد، ہر آزمائش، اور ابلیس کے ہر فعل کو، اور شریر لوگوں کی سازش کو، اور پوشیدہ و ظاہر دشمنوں کے قیام کو ہم سے، تیری ساری قوم سے، اور اس تیرے مقدس مقام سے دور کر دے۔ اور جو چیزیں اچھی اور نفع بخش ہیں وہ ہمیں عطا فرما؛ کیونکہ تُو ہی نے ہمیں یہ اختیار دیا ہے کہ ہم سانپوں اور بچھوؤں اور دشمن کی ساری قوت پر پاؤں رکھیں۔ اور ہمیں آزمائش میں نہ لا، بلکہ شریر سے بچا۔

تیرے اکلوتے بیٹے، ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی نعمت، شفقتوں اور انسان سے محبت کے سبب؛ جس کے وسیلہ سے تجھ کو جلال، عزت، طاقت اور سجدہ زیبا ہے، اُس کے ساتھ اور تیرے جان بخش روح القدس کے ساتھ جو تیرے برابر ہے، اب بھی اور ہر زمانہ میں اور اَبدُالآباد تک، آمین۔

زبور 50

¶ آسف کا زبور۔ رب قادرِ مطلق خدا بول اُٹھا ہے، اُس نے طلوعِ صبح سے لے کر غروبِ آفتاب تک پوری دنیا کو بُلایا ہے۔

¶ اللہ کا نور صیون سے چمک اُٹھا ہے، اُس پہاڑ سے جو کامل حُسن کا اظہار ہے۔

¶ ہمارا خدا آ رہا ہے، وہ خاموش نہیں رہے گا۔ اُس کے آگے آگے سب کچھ بھسم ہو رہا ہے، اُس کے ارد گرد تیز آندھی چل رہی ہے۔

¶ وہ آسمان و زمین کو آواز دیتا ہے، ”اب مَیں اپنی قوم کی عدالت کروں گا۔

¶ میرے ایمان داروں کو میرے حضور جمع کرو، اُنہیں جنہوں نے قربانیاں پیش کر کے میرے ساتھ عہد باندھا ہے۔“

¶ آسمان اُس کی راستی کا اعلان کریں گے، کیونکہ اللہ خود انصاف کرنے والا ہے۔ (سِلاہ)

¶ ”اے میری قوم، سن! مجھے بات کرنے دے۔ اے اسرائیل، مَیں تیرے خلاف گواہی دوں گا۔ مَیں اللہ تیرا خدا ہوں۔

¶ مَیں تجھے تیری ذبح کی قربانیوں کے باعث ملامت نہیں کر رہا۔ تیری بھسم ہونے والی قربانیاں تو مسلسل میرے سامنے ہیں۔

¶ نہ مَیں تیرے گھر سے بَیل لوں گا، نہ تیرے باڑوں سے بکرے۔

¶ کیونکہ جنگل کے تمام جاندار میرے ہی ہیں، ہزاروں پہاڑیوں پر بسنے والے جانور میرے ہی ہیں۔

¶ مَیں پہاڑوں کے ہر پرندے کو جانتا ہوں، اور جو بھی میدانوں میں حرکت کرتا ہے وہ میرا ہے۔

¶ اگر مجھے بھوک لگتی تو مَیں تجھے نہ بتاتا، کیونکہ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے میرا ہے۔

¶ کیا تُو سمجھتا ہے کہ مَیں سانڈوں کا گوشت کھانا یا بکروں کا خون پینا چاہتا ہوں؟

¶ اللہ کو شکرگزاری کی قربانی پیش کر، اور وہ مَنت پوری کر جو تُو نے اللہ تعالیٰ کے حضور مانی ہے۔

¶ مصیبت کے دن مجھے پکار۔ تب مَیں تجھے نجات دوں گا اور تُو میری تمجید کرے گا۔“

¶ لیکن بےدین سے اللہ فرماتا ہے، ”میرے احکام سنانے اور میرے عہد کا ذکر کرنے کا تیرا کیا حق ہے؟

¶ تُو تو تربیت سے نفرت کرتا اور میرے فرمان کچرے کی طرح اپنے پیچھے پھینک دیتا ہے۔

¶ کسی چور کو دیکھتے ہی تُو اُس کا ساتھ دیتا ہے، تُو زناکاروں سے رفاقت رکھتا ہے۔

¶ تُو اپنے منہ کو بُرے کام کے لئے استعمال کرتا، اپنی زبان کو دھوکا دینے کے لئے تیار رکھتا ہے۔

¶ تُو دوسروں کے پاس بیٹھ کر اپنے بھائی کے خلاف بولتا ہے، اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔

¶ یہ کچھ تُو نے کیا ہے، اور مَیں خاموش رہا۔ تب تُو سمجھا کہ مَیں بالکل تجھ جیسا ہوں۔ لیکن مَیں تجھے ملامت کروں گا، تیرے سامنے ہی معاملہ ترتیب سے سناؤں گا۔

¶ تم جو اللہ کو بھولے ہوئے ہو، بات سمجھ لو، ورنہ مَیں تمہیں پھاڑ ڈالوں گا۔ اُس وقت کوئی نہیں ہو گا جو تمہیں بچائے۔

¶ جو شکرگزاری کی قربانی پیش کرے وہ میری تعظیم کرتا ہے۔ جو مصمم ارادے سے ایسی راہ پر چلے اُسے مَیں اللہ کی نجات دکھاؤں گا۔“

ابتدایۂ دعا

بابرکت دن کی چھٹی ساعت کی تسبیح، میں اسے مسیح اپنے بادشاہ اور اپنے خدا کو پیش کرتا ہوں، اور اُس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے گناہ بخش دے۔

زبور 53

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ حکمت کا گیت۔ طرز: محلت۔ احمق دل میں کہتا ہے، ”اللہ ہے ہی نہیں!“ ایسے لوگ بدچلن ہیں، اُن کی حرکتیں قابلِ گھن ہیں۔ ایک بھی نہیں ہے جو اچھا کام کرے۔

¶ اللہ نے آسمان سے انسان پر نظر ڈالی تاکہ دیکھے کہ کیا کوئی سمجھ دار ہے؟ کیا کوئی اللہ کا طالب ہے؟

¶ افسوس، سب صحیح راہ سے بھٹک گئے، سب کے سب بگڑ گئے ہیں۔ کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں۔

¶ کیا جو بدی کر کے میری قوم کو روٹی کی طرح کھا لیتے ہیں اُنہیں سمجھ نہیں آتی؟ وہ تو اللہ کو پکارتے ہی نہیں۔

¶ تب اُن پر سخت دہشت وہاں چھا گئی جہاں پہلے دہشت کا سبب نہیں تھا۔ جنہوں نے تجھے گھیر رکھا تھا اللہ نے اُن کی ہڈیاں بکھیر دیں۔ تُو نے اُن کو رُسوا کیا، کیونکہ اللہ نے اُنہیں رد کیا ہے۔

¶ کاش کوہِ صیون سے اسرائیل کی نجات نکلے! جب رب اپنی قوم کو بحال کرے گا تو یعقوب خوشی کے نعرے لگائے گا، اسرائیل باغ باغ ہو گا۔

زبور 56

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: دُوردراز جزیروں کا کبوتر۔ یہ سنہرا گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب فلستیوں نے اُسے جات میں پکڑ لیا۔ اے اللہ، مجھ پر مہربانی کر! کیونکہ لوگ مجھے تنگ کر رہے ہیں، لڑنے والا دن بھر مجھے ستا رہا ہے۔

¶ دن بھر میرے دشمن میرے پیچھے لگے ہیں، کیونکہ وہ بہت ہیں اور غرور سے مجھ سے لڑ رہے ہیں۔

¶ لیکن جب خوف مجھے اپنی گرفت میں لے لے تو مَیں تجھ پر ہی بھروسا رکھتا ہوں۔

¶ اللہ کے کلام پر میرا فخر ہے، اللہ پر میرا بھروسا ہے۔ مَیں ڈروں گا نہیں، کیونکہ فانی انسان مجھے کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

¶ دن بھر وہ میرے الفاظ کو توڑ مروڑ کر غلط معنی نکالتے، اپنے تمام منصوبوں سے مجھے ضرر پہنچانا چاہتے ہیں۔

¶ وہ حملہ آور ہو کر تاک میں بیٹھ جاتے اور میرے ہر قدم پر غور کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ مجھے مار ڈالنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

¶ جو ایسی شریر حرکتیں کرتے ہیں، کیا اُنہیں بچنا چاہئے؟ ہرگز نہیں! اے اللہ، اقوام کو غصے میں خاک میں ملا دے۔

¶ جتنے بھی دن مَیں بےگھر پھرا ہوں اُن کا تُو نے پورا حساب رکھا ہے۔ اے اللہ، میرے آنسو اپنے مشکیزے میں ڈال لے! کیا وہ پہلے سے تیری کتاب میں قلم بند نہیں ہیں؟ ضرور!

¶ پھر جب مَیں تجھے پکاروں گا تو میرے دشمن مجھ سے باز آئیں گے۔ یہ مَیں نے جان لیا ہے کہ اللہ میرے ساتھ ہے!

¶ اللہ کے کلام پر میرا فخر ہے، رب کے کلام پر میرا فخر ہے۔

¶ اللہ پر میرا بھروسا ہے۔ مَیں ڈروں گا نہیں، کیونکہ فانی انسان مجھے کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

¶ اے اللہ، تیرے حضور مَیں نے مَنتیں مانی ہیں، اور اب مَیں تجھے شکرگزاری کی قربانیاں پیش کروں گا۔

¶ کیونکہ تُو نے میری جان کو موت سے بچایا اور میرے پاؤں کو ٹھوکر کھانے سے محفوظ رکھا تاکہ زندگی کی روشنی میں اللہ کے حضور چلوں۔

زبور 60

¶ داؤد کا زبور۔ طرز: عہد کا سوسن۔ تعلیم کے لئے یہ سنہرا گیت اُس وقت سے متعلق ہے جب داؤد نے مسوپتامیہ کے اَرامیوں اور ضوباہ کے اَرامیوں سے جنگ کی۔ واپسی پر یوآب نے نمک کی وادی میں 12,000 ادومیوں کو مار ڈالا۔ اے اللہ، تُو نے ہمیں رد کیا، ہماری قلعہ بندی میں رخنہ ڈال دیا ہے۔ لیکن اب اپنے غضب سے باز آ کر ہمیں بحال کر۔

¶ تُو نے زمین کو ایسے جھٹکے دیئے کہ اُس میں دراڑیں پڑ گئیں۔ اب اُس کے شگافوں کو شفا دے، کیونکہ وہ ابھی تک تھرتھرا رہی ہے۔

¶ تُو نے اپنی قوم کو تلخ تجربوں سے دوچار ہونے دیا، ہمیں ایسی تیز مَے پلا دی کہ ہم ڈگمگانے لگے ہیں۔

¶ لیکن جو تیرا خوف مانتے ہیں اُن کے لئے تُو نے جھنڈا گاڑ دیا جس کے ارد گرد وہ جمع ہو کر تیروں سے پناہ لے سکتے ہیں۔ (سِلاہ)

¶ اپنے دہنے ہاتھ سے مدد کر کے میری سن تاکہ جو تجھے پیارے ہیں وہ نجات پائیں۔

¶ اللہ نے اپنے مقدِس میں فرمایا ہے، ”مَیں فتح مناتے ہوئے سِکم کو تقسیم کروں گا اور وادیٔ سُکات کو ناپ کر بانٹ دوں گا۔

¶ جِلعاد میرا ہے اور منسّی میرا ہے۔ افرائیم میرا خود اور یہوداہ میرا شاہی عصا ہے۔

¶ موآب میرا غسل کا برتن ہے، اور ادوم پر مَیں اپنا جوتا پھینک دوں گا۔ اے فلستی ملک، مجھے دیکھ کر زوردار نعرے لگا!“

¶ کون مجھے قلعہ بند شہر میں لائے گا؟ کون میری راہنمائی کر کے مجھے ادوم تک پہنچائے گا؟

¶ اے اللہ، تُو ہی یہ کر سکتا ہے، گو تُو نے ہمیں رد کیا ہے۔ اے اللہ، تُو ہماری فوجوں کا ساتھ نہیں دیتا جب وہ لڑنے کے لئے نکلتی ہیں۔

¶ مصیبت میں ہمیں سہارا دے، کیونکہ اِس وقت انسانی مدد بےکار ہے۔

¶ اللہ کے ساتھ ہم زبردست کام کریں گے، کیونکہ وہی ہمارے دشمنوں کو کچل دے گا۔

زبور 62

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ یدوتون کے لئے۔ میری جان خاموشی سے اللہ ہی کے انتظار میں ہے۔ اُسی سے مجھے مدد ملتی ہے۔

¶ وہی میری چٹان، میری نجات اور میرا قلعہ ہے، اِس لئے مَیں زیادہ نہیں ڈگمگاؤں گا۔

¶ تم کب تک اُس پر حملہ کرو گے جو پہلے ہی جھکی ہوئی دیوار کی مانند ہے؟ تم سب کب تک اُسے قتل کرنے پر تُلے رہو گے جو پہلے ہی گرنے والی چاردیواری جیسا ہے؟

¶ اُن کے منصوبوں کا ایک ہی مقصد ہے، کہ اُسے اُس کے اونچے عُہدے سے اُتاریں۔ اُنہیں جھوٹ سے مزہ آتا ہے۔ منہ سے وہ برکت دیتے، لیکن اندر ہی اندر لعنت کرتے ہیں۔ (سِلاہ)

¶ لیکن تُو اے میری جان، خاموشی سے اللہ ہی کے انتظار میں رہ۔ کیونکہ اُسی سے مجھے اُمید ہے۔

¶ صرف وہی میری جان کی چٹان، میری نجات اور میرا قلعہ ہے، اِس لئے مَیں نہیں ڈگمگاؤں گا۔

¶ میری نجات اور عزت اللہ پر مبنی ہے، وہی میری محفوظ چٹان ہے۔ اللہ میں مَیں پناہ لیتا ہوں۔

¶ اے اُمّت، ہر وقت اُس پر بھروسا رکھ! اُس کے حضور اپنے دل کا رنج و الم پانی کی طرح اُنڈیل دے۔ اللہ ہی ہماری پناہ گاہ ہے۔ (سِلاہ)

¶ انسان دم بھر کا ہی ہے، اور بڑے لوگ فریب ہی ہیں۔ اگر اُنہیں ترازو میں تولا جائے تو مل کر اُن کا وزن ایک پھونک سے بھی کم ہے۔

¶ ظلم پر اعتماد نہ کرو، چوری کرنے پر فضول اُمید نہ رکھو۔ اور اگر دولت بڑھ جائے تو تمہارا دل اُس سے لپٹ نہ جائے۔

¶ اللہ نے ایک بات فرمائی بلکہ دو بار مَیں نے سنی ہے کہ اللہ ہی قادر ہے۔

¶ اے رب، یقیناً تُو مہربان ہے، کیونکہ تُو ہر ایک کو اُس کے اعمال کا بدلہ دیتا ہے۔

زبور 66

¶ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ زبور۔ گیت۔ اے ساری زمین، خوشی کے نعرے لگا کر اللہ کی مدح سرائی کر!

¶ اُس کے نام کے جلال کی تمجید کرو، اُس کی ستائش عروج تک لے جاؤ!

¶ اللہ سے کہو، ”تیرے کام کتنے پُرجلال ہیں۔ تیری بڑی قدرت کے سامنے تیرے دشمن دبک کر تیری خوشامد کرنے لگتے ہیں۔

¶ تمام دنیا تجھے سجدہ کرے! وہ تیری تعریف میں گیت گائے، تیرے نام کی ستائش کرے۔“ (سِلاہ)

¶ آؤ، اللہ کے کام دیکھو! آدم زاد کی خاطر اُس نے کتنے پُرجلال معجزے کئے ہیں!

¶ اُس نے سمندر کو خشک زمین میں بدل دیا۔ جہاں پہلے پانی کا تیز بہاؤ تھا وہاں سے لوگ پیدل ہی گزرے۔ چنانچہ آؤ، ہم اُس کی خوشی منائیں۔

¶ اپنی قدرت سے وہ ابد تک حکومت کرتا ہے۔ اُس کی آنکھیں قوموں پر لگی رہتی ہیں تاکہ سرکش اُس کے خلاف نہ اُٹھیں۔ (سِلاہ)

¶ اے اُمّتو، ہمارے خدا کی حمد کرو۔ اُس کی ستائش دُور تک سنائی دے۔

¶ کیونکہ وہ ہماری زندگی قائم رکھتا، ہمارے پاؤں کو ڈگمگانے نہیں دیتا۔

¶ کیونکہ اے اللہ، تُو نے ہمیں آزمایا۔ جس طرح چاندی کو پگھلا کر صاف کیا جاتا ہے اُسی طرح تُو نے ہمیں پاک صاف کر دیا ہے۔

¶ تُو نے ہمیں جال میں پھنسا دیا، ہماری کمر پر اذیت ناک بوجھ ڈال دیا۔

¶ تُو نے لوگوں کے رتھوں کو ہمارے سروں پر سے گزرنے دیا، اور ہم آگ اور پانی کی زد میں آ گئے۔ لیکن پھر تُو نے ہمیں مصیبت سے نکال کر فراوانی کی جگہ پہنچایا۔

¶ مَیں بھسم ہونے والی قربانیاں لے کر تیرے گھر میں آؤں گا اور تیرے حضور اپنی مَنتیں پوری کروں گا،

¶ وہ مَنتیں جو میرے منہ نے مصیبت کے وقت مانی تھیں۔

¶ بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر مَیں تجھے موٹی تازی بھیڑیں اور مینڈھوں کا دھواں پیش کروں گا، ساتھ ساتھ بَیل اور بکرے بھی چڑھاؤں گا۔ (سِلاہ)

¶ اے اللہ کا خوف ماننے والو، آؤ اور سنو! جو کچھ اللہ نے میری جان کے لئے کیا وہ تمہیں سناؤں گا۔

¶ مَیں نے اپنے منہ سے اُسے پکارا، لیکن میری زبان اُس کی تعریف کرنے کے لئے تیار تھی۔

¶ اگر مَیں دل میں گناہ کی پرورش کرتا تو رب میری نہ سنتا۔

¶ لیکن یقیناً رب نے میری سنی، اُس نے میری التجا پر توجہ دی۔

¶ اللہ کی حمد ہو، جس نے نہ میری دعا رد کی، نہ اپنی شفقت مجھ سے باز رکھی۔

زبور 69

¶ داؤد کا زبور۔ طرز: سوسن کے پھول۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے اللہ، مجھے بچا! کیونکہ پانی میرے گلے تک پہنچ گیا ہے۔

¶ مَیں گہری دلدل میں دھنس گیا ہوں، کہیں پاؤں جمانے کی جگہ نہیں ملتی۔ مَیں پانی کی گہرائیوں میں آ گیا ہوں، سیلاب مجھ پر غالب آ گیا ہے۔

¶ مَیں چلّاتے چلّاتے تھک گیا ہوں۔ میرا گلا بیٹھ گیا ہے۔ اپنے خدا کا انتظار کرتے کرتے میری آنکھیں دُھندلا گئیں۔

¶ جو بلاوجہ مجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں، جو بےسبب میرے دشمن ہیں اور مجھے تباہ کرنا چاہتے ہیں وہ طاقت ور ہیں۔ جو کچھ مَیں نے نہیں لُوٹا اُسے مجھ سے طلب کیا جاتا ہے۔

¶ اے اللہ، تُو میری حماقت سے واقف ہے، میرا قصور تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔

¶ اے قادرِ مطلق رب الافواج، جو تیرے انتظار میں رہتے ہیں وہ میرے باعث شرمندہ نہ ہوں۔ اے اسرائیل کے خدا، میرے باعث تیرے طالب کی رُسوائی نہ ہو۔

¶ کیونکہ تیری خاطر مَیں شرمندگی برداشت کر رہا ہوں، تیری خاطر میرا چہرہ شرم سار ہی رہتا ہے۔

¶ مَیں اپنے سگے بھائیوں کے نزدیک اجنبی اور اپنی ماں کے بیٹوں کے نزدیک پردیسی بن گیا ہوں۔

¶ کیونکہ تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا گئی ہے، جو تجھے گالیاں دیتے ہیں اُن کی گالیاں مجھ پر آ گئی ہیں۔

¶ جب مَیں روزہ رکھ کر روتا تھا تو لوگ میرا مذاق اُڑاتے تھے۔

¶ جب ماتمی لباس پہنے پھرتا تھا تو اُن کے لئے عبرت انگیز مثال بن گیا۔

¶ جو بزرگ شہر کے دروازے پر بیٹھے ہیں وہ میرے بارے میں گپیں ہانکتے ہیں۔ شرابی مجھے اپنے طنز بھرے گیتوں کا نشانہ بناتے ہیں۔

¶ لیکن اے رب، میری تجھ سے دعا ہے کہ مَیں تجھے دوبارہ منظور ہو جاؤں۔ اے اللہ، اپنی عظیم شفقت کے مطابق میری سن، اپنی یقینی نجات کے مطابق مجھے بچا۔

¶ مجھے دلدل سے نکال تاکہ غرق نہ ہو جاؤں۔ مجھے اُن سے چھٹکارا دے جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ پانی کی گہرائیوں سے مجھے بچا۔

¶ سیلاب مجھ پر غالب نہ آئے، سمندر کی گہرائی مجھے ہڑپ نہ کر لے، گڑھا میرے اوپر اپنا منہ بند نہ کر لے۔

¶ اے رب، میری سن، کیونکہ تیری شفقت بھلی ہے۔ اپنے عظیم رحم کے مطابق میری طرف رجوع کر۔

¶ اپنا چہرہ اپنے خادم سے چھپائے نہ رکھ، کیونکہ مَیں مصیبت میں ہوں۔ جلدی سے میری سن!

¶ قریب آ کر میری جان کا فدیہ دے، میرے دشمنوں کے سبب سے عوضانہ دے کر مجھے چھڑا۔

¶ تُو میری رُسوائی، میری شرمندگی اور تذلیل سے واقف ہے۔ تیری آنکھیں میرے تمام دشمنوں پر لگی رہتی ہیں۔

¶ اُن کے طعنوں سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے، مَیں بیمار پڑ گیا ہوں۔ مَیں ہم دردی کے انتظار میں رہا، لیکن بےفائدہ۔ مَیں نے توقع کی کہ کوئی مجھے دلاسا دے، لیکن ایک بھی نہ ملا۔

¶ اُنہوں نے میری خوراک میں کڑوا زہر ملایا، مجھے سرکہ پلایا جب پیاسا تھا۔

¶ اُن کی میز اُن کے لئے پھندا اور اُن کے ساتھیوں کے لئے جال بن جائے۔

¶ اُن کی آنکھیں تاریک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں۔ اُن کی کمر ہمیشہ تک ڈگمگاتی رہے۔

¶ اپنا پورا غصہ اُن پر اُتار، تیرا سخت غضب اُن پر آ پڑے۔

¶ اُن کی رہائش گاہ سنسان ہو جائے اور کوئی اُن کے خیموں میں آباد نہ ہو،

¶ کیونکہ جسے تُو ہی نے سزا دی اُسے وہ ستاتے ہیں، جسے تُو ہی نے زخمی کیا اُس کا دُکھ دوسروں کو سنا کر خوش ہوتے ہیں۔

¶ اُن کے قصور کا سختی سے حساب کتاب کر، وہ تیرے سامنے راست باز نہ ٹھہریں۔

¶ اُنہیں کتابِ حیات سے مٹایا جائے، اُن کا نام راست بازوں کی فہرست میں درج نہ ہو۔

¶ ہائے، مَیں مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں، مجھے بہت درد ہے۔ اے اللہ، تیری نجات مجھے محفوظ رکھے۔

¶ مَیں اللہ کے نام کی مدح سرائی کروں گا، شکرگزاری سے اُس کی تعظیم کروں گا۔

¶ یہ رب کو بَیل یا سینگ اور کُھر رکھنے والے سانڈ سے کہیں زیادہ پسند آئے گا۔

¶ حلیم اللہ کا کام دیکھ کر خوش ہو جائیں گے۔ اے اللہ کے طالبو، تسلی پاؤ!

¶ کیونکہ رب محتاجوں کی سنتا اور اپنے قیدیوں کو حقیر نہیں جانتا۔

¶ آسمان و زمین اُس کی تمجید کریں، سمندر اور جو کچھ اُس میں حرکت کرتا ہے اُس کی ستائش کرے۔

¶ کیونکہ اللہ صیون کو نجات دے کر یہوداہ کے شہروں کو تعمیر کرے گا، اور اُس کے خادم اُن پر قبضہ کر کے اُن میں آباد ہو جائیں گے۔

¶ اُن کی اولاد ملک کو میراث میں پائے گی، اور اُس کے نام سے محبت رکھنے والے اُس میں بسے رہیں گے۔

زبور 83

¶ گیت۔ آسف کا زبور۔ اے اللہ، خاموش نہ رہ! اے اللہ، چپ نہ رہ!

¶ دیکھ، تیرے دشمن شور مچا رہے ہیں، تجھ سے نفرت کرنے والے اپنا سر تیرے خلاف اُٹھا رہے ہیں۔

¶ تیری قوم کے خلاف وہ چالاک منصوبے باندھ رہے ہیں، جو تیری آڑ میں چھپ گئے ہیں اُن کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔

¶ وہ کہتے ہیں، ”آؤ، ہم اُنہیں مٹا دیں تاکہ قوم نیست ہو جائے اور اسرائیل کا نام و نشان باقی نہ رہے۔“

¶ کیونکہ وہ آپس میں صلاح مشورہ کرنے کے بعد دلی طور پر متحد ہو گئے ہیں، اُنہوں نے تیرے ہی خلاف عہد باندھا ہے۔

¶ اُن میں ادوم کے خیمے، اسماعیلی، موآب، ہاجری،

¶ جبال، عمون، عمالیق، فلستیہ اور صور کے باشندے شامل ہو گئے ہیں۔

¶ اسور بھی اُن میں شریک ہو کر لوط کی اولاد کو سہارا دے رہا ہے۔ (سِلاہ)

¶ اُن کے ساتھ وہی سلوک کر جو تُو نے مِدیانیوں سے یعنی قیسون ندی پر سیسرا اور یابین سے کیا۔

¶ کیونکہ وہ عین دور کے پاس ہلاک ہو کر کھیت میں گوبر بن گئے۔

¶ اُن کے شرفا کے ساتھ وہی برتاؤ کر جو تُو نے عوریب اور زئیب سے کیا۔ اُن کے تمام سردار زبح اور ضلمُنّع کی مانند بن جائیں،

¶ جنہوں نے کہا، ”آؤ، ہم اللہ کی چراگاہوں پر قبضہ کریں۔“

¶ اے میرے خدا، اُنہیں لُڑھک بوٹی اور ہَوا میں اُڑتے ہوئے بھوسے کی مانند بنا دے۔

¶ جس طرح آگ پورے جنگل میں پھیل جاتی اور ایک ہی شعلہ پہاڑوں کو جُھلسا دیتا ہے،

¶ اُسی طرح اپنی آندھی سے اُن کا تعاقب کر، اپنے طوفان سے اُن کو دہشت زدہ کر دے۔

¶ اے رب، اُن کا منہ کالا کر تاکہ وہ تیرا نام تلاش کریں۔

¶ وہ ہمیشہ تک شرمندہ اور حواس باختہ رہیں، وہ شرم سار ہو کر ہلاک ہو جائیں۔

¶ تب ہی وہ جان لیں گے کہ تُو ہی جس کا نام رب ہے اللہ تعالیٰ یعنی پوری دنیا کا مالک ہے۔

زبور 84

¶ قورح خاندان کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ طرز: گتّیت۔ اے رب الافواج، تیری سکونت گاہ کتنی پیاری ہے!

¶ میری جان رب کی بارگاہوں کے لئے تڑپتی ہوئی نڈھال ہے۔ میرا دل بلکہ پورا جسم زندہ خدا کو زور سے پکار رہا ہے۔

¶ اے رب الافواج، اے میرے بادشاہ اور خدا، تیری قربان گاہوں کے پاس پرندے کو بھی گھر مل گیا، ابابیل کو بھی اپنے بچوں کو پالنے کا گھونسلا مل گیا ہے۔

¶ مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں بستے ہیں، وہ ہمیشہ ہی تیری ستائش کریں گے۔ (سِلاہ)

¶ مبارک ہیں وہ جو تجھ میں اپنی طاقت پاتے، جو دل سے تیری راہوں میں چلتے ہیں۔

¶ وہ بکا کی خشک وادی میں سے گزرتے ہوئے اُسے شاداب جگہ بنا لیتے ہیں، اور بارشیں اُسے برکتوں سے ڈھانپ دیتی ہیں۔

¶ وہ قدم بہ قدم تقویت پاتے ہوئے آگے بڑھتے، سب کوہِ صیون پر اللہ کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔

¶ اے رب، اے لشکروں کے خدا، میری دعا سن! اے یعقوب کے خدا، دھیان دے! (سِلاہ)

¶ اے اللہ، ہماری ڈھال پر کرم کی نگاہ ڈال۔ اپنے مسح کئے ہوئے خادم کے چہرے پر نظر کر۔

¶ تیری بارگاہوں میں ایک دن کسی اَور جگہ پر ہزار دنوں سے بہتر ہے۔ مجھے اپنے خدا کے گھر کے دروازے پر حاضر رہنا بےدینوں کے گھروں میں بسنے سے کہیں زیادہ پسند ہے۔

¶ کیونکہ رب خدا آفتاب اور ڈھال ہے، وہی ہمیں فضل اور عزت سے نوازتا ہے۔ جو دیانت داری سے چلیں اُنہیں وہ کسی بھی اچھی چیز سے محروم نہیں رکھتا۔

¶ اے رب الافواج، مبارک ہے وہ جو تجھ پر بھروسا رکھتا ہے!

زبور 85

¶ قورح کی اولاد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، پہلے تُو نے اپنے ملک کو پسند کیا، پہلے یعقوب کو بحال کیا۔

¶ پہلے تُو نے اپنی قوم کا قصور معاف کیا، اُس کا تمام گناہ ڈھانپ دیا۔ (سِلاہ)

¶ جو غضب ہم پر نازل ہو رہا تھا اُس کا سلسلہ تُو نے روک دیا، جو قہر ہمارے خلاف بھڑک رہا تھا اُسے چھوڑ دیا۔

¶ اے ہماری نجات کے خدا، ہمیں دوبارہ بحال کر۔ ہم سے ناراض ہونے سے باز آ۔

¶ کیا تُو ہمیشہ تک ہم سے غصے رہے گا؟ کیا تُو اپنا قہر پشت در پشت قائم رکھے گا؟

¶ کیا تُو دوبارہ ہماری جان کو تازہ دم نہیں کرے گا تاکہ تیری قوم تجھ سے خوش ہو جائے؟

¶ اے رب، اپنی شفقت ہم پر ظاہر کر، اپنی نجات ہمیں عطا فرما۔

¶ مَیں وہ کچھ سنوں گا جو خدا رب فرمائے گا۔ کیونکہ وہ اپنی قوم اور اپنے ایمان داروں سے سلامتی کا وعدہ کرے گا، البتہ لازم ہے کہ وہ دوبارہ حماقت میں اُلجھ نہ جائیں۔

¶ یقیناً اُس کی نجات اُن کے قریب ہے جو اُس کا خوف مانتے ہیں تاکہ جلال ہمارے ملک میں سکونت کرے۔

¶ شفقت اور وفاداری ایک دوسرے کے گلے لگ گئے ہیں، راستی اور سلامتی نے ایک دوسرے کو بوسہ دیا ہے۔

¶ سچائی زمین سے پھوٹ نکلے گی اور راستی آسمان سے زمین پر نظر ڈالے گی۔

¶ اللہ ضرور وہ کچھ دے گا جو اچھا ہے، ہماری زمین ضرور اپنی فصلیں پیدا کرے گی۔

¶ راستی اُس کے آگے آگے چل کر اُس کے قدموں کے لئے راستہ تیار کرے گی۔

زبور 86

¶ داؤد کی دعا۔ اے رب، اپنا کان جھکا کر میری سن، کیونکہ مَیں مصیبت زدہ اور محتاج ہوں۔

¶ میری جان کو محفوظ رکھ، کیونکہ مَیں ایمان دار ہوں۔ اپنے خادم کو بچا جو تجھ پر بھروسا رکھتا ہے۔ تُو ہی میرا خدا ہے!

¶ اے رب، مجھ پر مہربانی کر، کیونکہ دن بھر مَیں تجھے پکارتا ہوں۔

¶ اپنے خادم کی جان کو خوش کر، کیونکہ مَیں تیرا آرزومند ہوں۔

¶ کیونکہ تُو اے رب بھلا ہے، تُو معاف کرنے کے لئے تیار ہے۔ جو بھی تجھے پکارتے ہیں اُن پر تُو بڑی شفقت کرتا ہے۔

¶ اے رب، میری دعا سن، میری التجاؤں پر توجہ کر۔

¶ مصیبت کے دن مَیں تجھے پکارتا ہوں، کیونکہ تُو میری سنتا ہے۔

¶ اے رب، معبودوں میں سے کوئی تیری مانند نہیں ہے۔ جو کچھ تُو کرتا ہے کوئی اَور نہیں کر سکتا۔

¶ اے رب، جتنی بھی قومیں تُو نے بنائیں وہ آ کر تیرے حضور سجدہ کریں گی اور تیرے نام کو جلال دیں گی۔

¶ کیونکہ تُو ہی عظیم ہے اور معجزے کرتا ہے۔ تُو ہی خدا ہے۔

¶ اے رب، مجھے اپنی راہ سکھا تاکہ تیری وفاداری میں چلوں۔ بخش دے کہ مَیں پورے دل سے تیرا خوف مانوں۔

¶ اے رب میرے خدا، مَیں پورے دل سے تیرا شکر کروں گا، ہمیشہ تک تیرے نام کی تعظیم کروں گا۔

¶ کیونکہ تیری مجھ پر شفقت عظیم ہے، تُو نے میری جان کو پاتال کی گہرائیوں سے چھڑایا ہے۔

¶ اے اللہ، مغرور میرے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں، ظالموں کا جتھا میری جان لینے کے درپَے ہے۔ یہ لوگ تیرا لحاظ نہیں کرتے۔

¶ لیکن تُو، اے رب، رحیم اور مہربان خدا ہے۔ تُو تحمل، شفقت اور وفا سے بھرپور ہے۔

¶ میری طرف رجوع فرما، مجھ پر مہربانی کر! اپنے خادم کو اپنی قوت عطا کر، اپنی خادمہ کے بیٹے کو بچا۔

¶ مجھے اپنی مہربانی کا کوئی نشان دکھا۔ مجھ سے نفرت کرنے والے یہ دیکھ کر شرمندہ ہو جائیں کہ تُو رب نے میری مدد کر کے مجھے تسلی دی ہے۔

زبور 90

¶ مردِ خدا موسیٰ کی دعا۔ اے رب، پشت در پشت تُو ہماری پناہ گاہ رہا ہے۔

¶ اِس سے پہلے کہ پہاڑ پیدا ہوئے اور تُو زمین اور دنیا کو وجود میں لایا تُو ہی تھا۔ اے اللہ، تُو ازل سے ابد تک ہے۔

¶ تُو انسان کو دوبارہ خاک ہونے دیتا ہے۔ تُو فرماتا ہے، ’اے آدم زادو، دوبارہ خاک میں مل جاؤ!‘

¶ کیونکہ تیری نظر میں ہزار سال کل کے گزرے ہوئے دن کے برابر یا رات کے ایک پہر کی مانند ہیں۔

¶ تُو لوگوں کو سیلاب کی طرح بہا لے جاتا ہے، وہ نیند اور اُس گھاس کی مانند ہیں جو صبح کو پھوٹ نکلتی ہے۔

¶ وہ صبح کو پھوٹ نکلتی اور اُگتی ہے، لیکن شام کو مُرجھا کر سوکھ جاتی ہے۔

¶ کیونکہ ہم تیرے غضب سے فنا ہو جاتے اور تیرے قہر سے حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔

¶ تُو نے ہماری خطاؤں کو اپنے سامنے رکھا، ہمارے پوشیدہ گناہوں کو اپنے چہرے کے نور میں لایا ہے۔

¶ چنانچہ ہمارے تمام دن تیرے قہر کے تحت گھٹتے گھٹتے ختم ہو جاتے ہیں۔ جب ہم اپنے سالوں کے اختتام پر پہنچتے ہیں تو زندگی سرد آہ کے برابر ہی ہوتی ہے۔

¶ ہماری عمر 70 سال یا اگر زیادہ طاقت ہو تو 80 سال تک پہنچتی ہے، اور جو دن فخر کا باعث تھے وہ بھی تکلیف دہ اور بےکار ہیں۔ جلد ہی وہ گزر جاتے ہیں، اور ہم پرندوں کی طرح اُڑ کر چلے جاتے ہیں۔

¶ کون تیرے غضب کی پوری شدت جانتا ہے؟ کون سمجھتا ہے کہ تیرا قہر ہماری خدا ترسی کی کمی کے مطابق ہی ہے؟

¶ چنانچہ ہمیں ہمارے دنوں کا صحیح حساب کرنا سکھا تاکہ ہمارے دل دانش مند ہو جائیں۔

¶ اے رب، دوبارہ ہماری طرف رجوع فرما! تُو کب تک دُور رہے گا؟ اپنے خادموں پر ترس کھا!

¶ صبح کو ہمیں اپنی شفقت سے سیر کر! تب ہم زندگی بھر باغ باغ ہوں گے اور خوشی منائیں گے۔

¶ ہمیں اُتنے ہی دن خوشی دلا جتنے تُو نے ہمیں پست کیا ہے، اُتنے ہی سال جتنے ہمیں دُکھ سہنا پڑا ہے۔

¶ اپنے خادموں پر اپنے کام اور اُن کی اولاد پر اپنی عظمت ظاہر کر۔

¶ رب ہمارا خدا ہمیں اپنی مہربانی دکھائے۔ ہمارے ہاتھوں کا کام مضبوط کر، ہاں ہمارے ہاتھوں کا کام مضبوط کر!

زبور 92

¶ زبور۔ سبت کے لئے گیت۔ رب کا شکر کرنا بھلا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ، تیرے نام کی مدح سرائی کرنا بھلا ہے۔

¶ صبح کو تیری شفقت اور رات کو تیری وفا کا اعلان کرنا بھلا ہے،

¶ خاص کر جب ساتھ ساتھ دس تاروں والا ساز، ستار اور سرود بجتے ہیں۔

¶ کیونکہ اے رب، تُو نے مجھے اپنے کاموں سے خوش کیا ہے، اور تیرے ہاتھوں کے کام دیکھ کر مَیں خوشی کے نعرے لگاتا ہوں۔

¶ اے رب، تیرے کام کتنے عظیم، تیرے خیالات کتنے گہرے ہیں۔

¶ نادان یہ نہیں جانتا، احمق کو اِس کی سمجھ نہیں آتی۔

¶ گو بےدین گھاس کی طرح پھوٹ نکلتے اور بدکار سب پھلتے پھولتے ہیں، لیکن آخرکار وہ ہمیشہ کے لئے ہلاک ہو جائیں گے۔

¶ مگر تُو، اے رب، ابد تک سربلند رہے گا۔

¶ کیونکہ تیرے دشمن، اے رب، تیرے دشمن یقیناً تباہ ہو جائیں گے، بدکار سب تتر بتر ہو جائیں گے۔

¶ تُو نے مجھے جنگلی بَیل کی سی طاقت دے کر تازہ تیل سے مسح کیا ہے۔

¶ میری آنکھ اپنے دشمنوں کی شکست سے اور میرے کان اُن شریروں کے انجام سے لطف اندوز ہوئے ہیں جو میرے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

¶ راست باز کھجور کے درخت کی طرح پھلے پھولے گا، وہ لبنان کے دیودار کے درخت کی طرح بڑھے گا۔

¶ جو پودے رب کی سکونت گاہ میں لگائے گئے ہیں وہ ہمارے خدا کی بارگاہوں میں پھلیں پھولیں گے۔

¶ وہ بُڑھاپے میں بھی پھل لائیں گے اور تر و تازہ اور ہرے بھرے رہیں گے۔

¶ اُس وقت بھی وہ اعلان کریں گے، ”رب راست ہے۔ وہ میری چٹان ہے، اور اُس میں ناراستی نہیں ہوتی۔“

پاک انجیل مقدّس متی کے مطابق (باب 5: 1-16)

¶ بھیڑ کو دیکھ کر عیسیٰ پہاڑ پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ اُس کے شاگرد اُس کے پاس آئے

اور وہ اُنہیں یہ تعلیم دینے لگا:

¶ ”مبارک ہیں وہ جن کی روح ضرورت مند ہے، کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔

¶ مبارک ہیں وہ جو ماتم کرتے ہیں، کیونکہ اُنہیں تسلی دی جائے گی۔

¶ مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں، کیونکہ وہ زمین ورثے میں پائیں گے۔

¶ مبارک ہیں وہ جنہیں راست بازی کی بھوک اور پیاس ہے، کیونکہ وہ سیر ہو جائیں گے۔

¶ مبارک ہیں وہ جو رحم دل ہیں، کیونکہ اُن پر رحم کیا جائے گا۔

¶ مبارک ہیں وہ جو خالص دل ہیں، کیونکہ وہ اللہ کو دیکھیں گے۔

¶ مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ کے فرزند کہلائیں گے۔

¶ مبارک ہیں وہ جن کو راست باز ہونے کے سبب سے ستایا جاتا ہے، کیونکہ اُنہیں آسمان کی بادشاہی ورثے میں ملے گی۔

¶ مبارک ہو تم جب لوگ میری وجہ سے تمہیں لعن طعن کرتے، تمہیں ستاتے اور تمہارے بارے میں ہر قسم کی بُری اور جھوٹی بات کرتے ہیں۔

خوشی مناؤ اور باغ باغ ہو جاؤ، تم کو آسمان پر بڑا اجر ملے گا۔ کیونکہ اِسی طرح اُنہوں نے تم سے پہلے نبیوں کو بھی ایذا پہنچائی تھی۔

¶ تم دنیا کا نمک ہو۔ لیکن اگر نمک کا ذائقہ جاتا رہے تو پھر اُسے کیونکر دوبارہ نمکین کیا جا سکتا ہے؟ وہ کسی بھی کام کا نہیں رہا بلکہ باہر پھینکا جائے گا جہاں وہ لوگوں کے پاؤں تلے روندا جائے گا۔

¶ تم دنیا کی روشنی ہو۔ پہاڑ پر واقع شہر کی طرح تم کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

جب کوئی چراغ جلاتا ہے تو وہ اُسے برتن کے نیچے نہیں رکھتا بلکہ شمع دان پر رکھ دیتا ہے جہاں سے وہ گھر کے تمام افراد کو روشنی دیتا ہے۔

اِسی طرح تمہاری روشنی بھی لوگوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کام دیکھ کر تمہارے آسمانی باپ کو جلال دیں۔

Tenoo oasht emmok o piekhristos nem pekyot en aghathos nem pi epnevma ethowab je akee ak soati emmon nai nan

ہم تیری عبادت کرتے ہیں، اے مسیح، تیرے نیک باپ اور روح القدس کے ساتھ، کیونکہ تو آیا اور تو نے ہمیں نجات دی۔

1. اے تو جو چھٹے دن اور چھٹی ساعت میں ہمارے باپ آدم کے اس گناہ کے سبب سے، جو اس نے فردوس میں جرأت کی، صلیب پر کیلوں سے جڑا گیا، ہماری خطاؤں کے نامہ کو چاک کر دے، اے مسیح ہمارے خدا، اور ہمیں بچا۔ میں نے خداوند کو پکارا اور اُس نے میری سن لی۔ اے خدا، میری دعا سن اور میری منت کو رد نہ کر۔ شام کو، صبح کو اور دوپہر کو میری طرف توجہ کر اور میری سن لے۔ میں اپنے کلمات کہتا ہوں، اور وہ میری آواز سنتا ہے اور میری جان کو سلامت بچا لیتا ہے۔

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو۔

2. اے یسوع مسیح، ہمارے خدا، جو چھٹی ساعت میں صلیب پر کیلوں سے جڑے گئے، اور درخت کے ذریعے گناہ کو قتل کیا، اور اپنی موت سے اُس مردہ انسان کو زندہ کیا جسے تو نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا تھا اور جو گناہ میں مر چکا تھا؛ اپنی شفابخش اور حیات بخش مصیبتوں کے وسیلہ سے ہماری تکالیف کو مٹا دے، اور اُن کیلوں کے سبب سے جن سے تو جڑا گیا؛ ہماری عقلوں کو زمینی کاموں کی بےفکری اور دنیوی خواہشات سے چھڑا کر اپنی آسمانی احکام کی یاد میں لگا دے، اپنی شفقت کے مطابق۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔

3. کیونکہ ہمارے بہت سے گناہوں کے سبب نہ ہمارے پاس انعام ہے، نہ عذر، نہ راست ٹھہرنے کی دلیل؛ اس لیے ہم تیرے وسیلہ سے اُس سے التجا کرتے ہیں جو تجھ سے پیدا ہوا، اے تھیؤتوکوس کنواری؛ کیونکہ تیرے شفاعت ہمارے نجات دہندہ کے حضور فراواں اور مقبول ہیں۔ اے پاک ماں، گناہگاروں کو اُس کے حضور تیری شفاعت سے محروم نہ رکھ جسے تو نے جنا، کیونکہ وہ رحیم ہے اور ہمیں بچانے پر قادر ہے، کیونکہ اُس نے ہمیں چھوڑانے کے لیے دکھ اٹھایا۔ تیری شفقت جلد ہم تک پہنچے، کیونکہ ہم نہایت پست ہو گئے ہیں۔ اے خدا، ہمارے نجات دہندہ، اپنے نام کے جلال کے لیے ہماری مدد کر۔ اے خداوند، ہمیں چھڑا، اور اپنے مقدس نام کی خاطر ہمارے گناہ معاف کر۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔

4. تو نے تمام زمین کے درمیان نجات انجام دی، اے مسیح ہمارے خدا، جب تو نے صلیب پر اپنے مقدس ہاتھ پھیلا دیے۔ اس لیے سب قومیں پکارتی ہیں: “اے خداوند، تجھے جلال ہو۔”

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو

باپ اور بیٹے اور روح القدس کا جلال ہو۔

5. ہم تیری غیر فاسد ذات کی عبادت کرتے ہیں، اے نیکوکار، اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اے مسیح ہمارے خدا؛ کیونکہ تیری ہی مرضی سے تو صلیب پر بلند ہونے کو راضی ہوا تاکہ اُن کو چھڑا لے جنہیں تو نے پیدا کیا تھا، دشمن کی غلامی سے۔ ہم تجھے پکارتے ہیں اور تیرا شکر کرتے ہیں، کیونکہ اے نجات دہندہ، جب تو دنیا کی مدد کو آیا تو نے سب کو خوشی سے بھر دیا۔ خداوندا، تجھے جلال ہو۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک۔ آمین۔

اب بھی اور ہمیشہ اور دَہروں کے دَہر تک، آمین۔

6. تو فضل سے بھری ہوئی ہے، اے تھیؤتوکوس کنواری؛ ہم تیری ستائش کرتے ہیں کیونکہ تیرے بیٹے کی صلیب کے وسیلہ سے ہادِس گِر گیا اور موت موقوف ہوئی۔ ہم مردہ تھے مگر زندہ کیے گئے اور ابدی زندگی کے لائق ٹھہرے، اور پہلے فردوس کی لذت پا لی۔ اس لیے ہم شکرگزاری کے ساتھ غیر فانی مسیح ہمارے خدا کی تمجید کرتے ہیں۔

پھر عبادت گزار دعا کرتا ہے:

خداوندا، ہماری سُن لے، ہم پر رحم کر، اور ہمارے گناہ معاف فرما۔ آمین۔

(خداوندا، رحم کر) 41 بار

تحلیل

ہم تیرا شکر کرتے ہیں اور تجھے جلال دیتے ہیں، اَے ہمارے بادشاہ قادرِ مطلق، ہمارے خداوند اور خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے باپ، کیونکہ تُو نے اپنے اکلوتے بیٹے کے دُکھ کے اوقات کو تسلّی اور دعا کے اوقات بنا دیا۔ ہماری التجا کو اپنے حضور قبول فرما، اور ہمارے خلاف لکھا ہوا ہمارے گناہوں کا فرمان محو کر دے، جیسے تُو نے اسے اس مقدس ساعت میں اپنے اکلوتے بیٹے یسوع مسیح ہمارے خداوند اور ہماری جانوں کے نجات دہندہ کے صلیب کے وسیلہ سے چاک کر دیا؛ وہی جس کے سبب تُو نے دشمن کی ہر قوّت کو ڈھا دیا۔

اَے خدا، ہمیں روشن وقت، بےعیب چال، اور پُرسکون زندگی عطا فرما؛ تاکہ ہم تیرے اُس پاک، مسجود نام کو پسند آئیں، اور تیرے اکلوتے بیٹے یسوع مسیح کے خوفناک اور عادل تخت کے سامنے بغیر کسی سزا کے کھڑے ہوں؛ اور ہم تیرے سب قدیسوں کے ساتھ تجھے جلال دیں؛ تُو غیر مبدءِ باپ ہے، اور بیٹا جو تیرے برابر ہے، اور روح القدس جان بخشنے والا؛ اب بھی اور ہر زمانہ میں اور سارے دہرُالدُّهور تک۔ آمین۔

ہر ساعت کے آخر میں پڑھی جانے والی درخواست

ہم پر رحم فرما، اے خدا، پھر ہم پر رحم فرما۔ تُو جو ہر وقت اور ہر ساعت، آسمان پر اور زمین پر، سجدہ اور تمجید پانے کے لائق ہے؛ مسیح، ہمارے نیک خدا؛ دیر غصہ، کثیرالرحم، اور نہایت ترس والا؛ جو صادقوں سے محبت رکھتا اور گنہگاروں پر رحم کرتا ہے—جن میں پہلا میں ہوں—جو نہ شریر کی موت چاہتا ہے بلکہ یہ کہ وہ رجوع لائے اور زندہ رہے؛ جو سب کو نجات کی طرف بُلانے والا ہے، آئندہ کی نیک باتوں کے وعدے کے سبب۔

اَے رب، اس ساعت اور ہر ساعت ہماری درخواستیں قبول فرما۔ ہماری زندگی آسان بنا۔ ہمیں اپنی وصیتوں پر عمل کرنے کی راہ دکھا۔ ہماری روحوں کو مقدس کر۔ ہمارے جسموں کو پاک کر۔ ہمارے خیالات کو سیدھا کر۔ ہماری نیتوں کو صاف کر۔ ہماری بیماریوں کو شفا دے اور ہمارے گناہ معاف کر۔ اور ہمیں ہر بُرے غم اور دِل کے درد سے نجات دے۔ اپنے مقدس فرشتوں سے ہمیں گھیر لے، تاکہ ہم اُن کے لشکر کے ساتھ محفوظ اور راہ یافتہ رہیں، اور ایمان کی یگانگت تک اور تیری اُس جلال کی پہچان تک پہنچیں جو حسّ و حد سے باہر ہے؛ کیونکہ تُو ابد تک مبارک ہے۔ آمین۔

اَے خدا، ہمیں اس لائق بنا کہ ہم شکر کے ساتھ یہ کہیں: اَے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔۔۔